Khawaja Asif 62

حکومت کو خواجہ آصف کو چھوڑنا پڑے گا۔ مریم نواز

 اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت کو خواجہ آصف کو چھوڑنا پڑے گا۔

پارٹی کے مشاورتی اجلاس کے بعد سنیئر رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہابھی پار ٹی کا اجلاس چل رہا خواجہ آصف بھی شریک تھے۔خواجہ آصف ٹی وی شو کی ریکارڈنگ میں جار ہے تھے کہ نیب نے گرفتار کر لیا۔

انہوں ںے کہا کہ خواجہ آصف کی یہ گرفتاری نہیں اغوا کیا گیا ہے۔میں عدلیہ سے ضرور کہوں گی کہ قوم آپ پر نظریں لگائی بیٹھی ہے۔عدلیہ کو اس پر چپ نہیں رہنا چاہیے۔  کس قسم  کی جمہوریت ہے۔ شہباز شریف اور حمزہ شریف کتنے عرصے سے جیلوں  میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کو بھی گرفتار کر لیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کی گرفتاری سے آپ میں مرغوب کرنا چا رہے ہیں لیکن ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں پی ڈی ایم اس پر رد عمل دے گی  ردعمل ایسا ہو گا کہ خواجہ آصف کو اپ کو چھوڑنا پڑے گا۔ خواجہ آصف کو فوری چھوڑیں ورنہ معاملات کہیں سے کہیں جاسکتے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ خواجہ آصف نے مجھے 2 باتیں بتائیں ۔خواجہ آصف کو کسی نے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ نواز شریف کو چھوڑ دیں ۔خواجہ آصف نے نواز شریف کو چھوڑنے سے انکار کر دیا ۔خواجہ آصف کو کہا گیا کہ اگر نواز شریف کو نہیں چھوڑیں گے تو پھر نتائج کے لیے تیار رہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ نیب کو دیگر حکومت کے سیکنڈل نظر نہیں آتے۔ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی ہے۔ کل پی ڈی ایم کی میٹنگ ہے گرفتاری پر ردعمل آئے گا۔ خواجہ آصف کو گرفتار کرکے ہمیں دھمکانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کوگلی سےنیب نے گرفتار کیا۔ نیب نے دہشت گردوں کے طرح لوگوں کو گھروں سے اٹھالیا۔ قوم ایک بار پھر عدلیہ پر نظرجماکر بیٹھی ہے۔سپریم کورٹ نے نیب کوسیاسی انجینرنگ کا ادارہ کہتی ہے۔ حکومت بہت بری طرح ڈر گئی ہے، اب شکست کےخوف کو سامنے رکھتے ہوئے ایسےاقدام کئے جارہےہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: آمدنی سے زائد اثاثے؛ نیب نے خواجہ آصف کو گرفتار کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ میرےساتھ موجود لوگ ظلم اور ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں۔ میرےپاس پنجاب اسمبلی کے160 میں 149 استعفے آچکےہیں۔پیپلز پارٹی کی سینٹر ایگزیکیٹیو کمیٹی میں اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے کے فیصلے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ  یہ سب ذرائع سے چلنے والی خبریں ہیں، جب تک پیپلز پارٹی اور ان کے چیئرمین بلاول بھٹو باضاطہ اعلان نہیں کرتے اس پر بات نہیں کروں گی۔