LNG 58

ایل این جی درآمد کے حوالے ترجمان پٹرولیم کا بیان

سخت سردیوں کے مہینے کے دوران ایل این جی کی سپاٹ قیمتوں کا طویل المدتی معاہدوں کی قمیت سے موازنہ غیر معقول ہے: پٹر ولیم ڈویژن

یہ خبر میڈیا میں ایل این جی درآمد پر ہونے والے تبصروں سے متعلق ہے جو فروری 2021 کے دوسرے نصف حصے میں پی ایل ایل کی ترسیل کے لئے موصول ہونے والی دو اسپاٹ کارگو بولی کے بارے میں ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی طلب اور رسد کو مدنظر رکھتے ہوئے ، موسم سرما کے مہینوں میں ایل این جی کے لئے اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتیں ہمیشہ بلند رہتی ہے۔ ایک سردی کے ایک سخت مہینے میں موصول ہونے والی اسپاٹ قیمت کا موازنہ، طویل مدتی ایل این جی قمیت سے کرنا موزوں نہیں ہے ۔ البتہ اگر گرمیوں کے مہینے میں بھی اسی طرح موازنہ کیا جائے تو یہ یہی قیمت نسبتاً کم دکھائی دے گی ۔اسی طرح یہ موازنہ پو رے سال کے تما م موسمو ں کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے ۔2020 میں پاکستان نے تمام اسپاٹ کارگوز کا اوسطا $ 6.84 ڈیس (ڈیلیورڈڈ ایکس شپ) پر خریدے، جس میں2020کے موسم سرما یعنی کہ جنوری ، فروری ، نومبر اور دسمبر کے مہنگے کارگوز بھی شامل ہیں ۔ جبکہ اسی سال میں ، تمام طویل مدتی معاہدوں کے تحت خریدے گئے کارگوز کی ڈیلیورڈ ایکس شپ قمیت اوسطا$ 8.06 رہی، جو کہ 18 فیصد زیادہ ہے۔

مزید یہ کہ پی ایل ایل، پی پی آر اے (PPRA) کے تحت خریداری کے عمل کا پابند ہے ، جس کے مطابق دس دن کی مدت کے ساتھ 30 دن کا ٹینڈر درکار ہوتا ہے۔طلب کی تصدیق ہوتے ہی پی ایل ایل ٹینڈر کا عمل تقریبا90سے 100 دن پہلے ہی شروع کردیتا ہے۔ میڈیا میں بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ 2019 میں ، اکتوبر-دسمبر کے لئے اگست میں ٹینڈر دیا گیا تھا جبکہ 2020 میں دیر سے ٹینڈر جاری کیے گئے تھے۔اصل حقائق یہ ہیں کہ2019 میں، پی ایل ایل نے طلب کی تصدیق سے قبل اگست میں 10 کارگو کے لئے اکتوبر سے دسمبر کیلئے اکٹھا ٹینڈر جاری کیا گیا تھا۔ جب آخر میں طلب کی تصدیق ہوگئی ، تو ان 10 میں سے صرف 3 ٹینڈرز کو ایوارڈ کیا گیا۔ دسمبر 2019 میں کارگوز کی اوسط قیمت $ 7.81 تھی جو دسمبر 2020 کے مقابلے میں 6.34 ڈالر زیادہ ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر ایل این جی کی قیمت قدرتی گیس (جس کیلئے قانون سازی میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی) کی قیمت مقرر کردی جاتی ہے جس کے تحت کسی بھی صارف کے لئے قیمت کی وصولی کو یقینی بنایا جاتا ہے تو ، ایل این جی درآمد کیلئےدرمیانی مدت سے قلیل مدتی معاہدے طے کیا جاسکتے ہیں. سپاٹ خریداری صرف اس وقت کی جاسکتی ہے جب ایک بار صارفین پوری قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔
علاوہ ازیں، اس وقت عالمی منڈی میں ایل این جی کی رسد بہت مشکلات کا شکار ہے کیونکہ بہت سی سہولیات کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ مارچ 2021 تک رسد کی یہ رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔