Program 17

احساس پروگرام کے تحت 20 لاکھ خصوصی افراد کو امداد دی جائے گی عارف علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کے حقوق اور ان کے بارے میں معاشرے میں پائے جانے والے منفی رویوں کو دور کرنے کیلئے میڈیا کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے، حکومت خصوصی افراد کو معاشرے کا فعال رکن بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، خصوصی افراد کو پرائمری سطح سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک مفت تعلیم دیئے جانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، حکومت 26 ہزار سے زائد خصوصی افراد کو صحت سہولت کارڈ تقسیم کر چکی ہے، احساس پروگرام کے تحت 20 لاکھ خصوصی افراد کو امداد دی جائے گی۔حکومت نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین کے ساتھ پاکستان میں معاون ٹیکنالوجی برائے خصوصی افراد کے فروغ اور تیاری کیلئے یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوانِ صدر میں افرادباہم معذوری کے حوالے سے سینئر صحافیوں کے ساتھ فکری نشست میں کیا۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے حوالہ سے آگاہی پیدا کرنے میں میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا جس کے باعث بعض افراد میں بیماری کے ابتدائی مرحلہ میں تشخیص سے انسانی جانیں بچانے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے مالی طور پر ان کی شمولیت کے حوالہ سے آگاہی پیدا کرنے میں میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے، مخصوص افراد سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے ان کیلئے خصوصی دن منایا گیا۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ خصوصی افراد سے متعلق درست اعدادوشمارکی کمی ہے۔اس حوالے سے احساس پروگرام کے تحت کیا جانے والا سروے جون 2021ءمیں مکمل ہو جائے گا۔ مردم شماری میں صرف 2 فیصد افراد خصوصی افراد کے طور پر ظاہر کئے گئے ہیں مگر ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ خصوصی افراد پاکستان کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد ہیں اور ان کیلئے سہولیات کی کمی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کا انتہائی کم تعداد میں اندراج ہوتا ہے، انہیں نادرا کے ساتھ رجسٹریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کو سادہ اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں پائے جانے والے منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کیلئے میڈیا اپنا کردار کرسکتا ہے۔ خصوصی افراد کو نہ صرف نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انہیں معاشرے میں تعصب اور منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں ان کے حوالے سے رحم پر مبنی رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جسمانی طور پر معذور اور سماعت یا بصارت سے محروم افراد کو عام سکولوں میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ خصوصی افراد کو سپیشل سکولوں میں تعلیم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرکزی دھارے سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ ان بچوں کوعام سکولوں میں تعلیم دینے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ خصوصی افراد کو پرائمری سطح سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک مفت تعلیم دیے جانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ خصوصی افراد ملکی ترقی میں نمایا ں کردار ادا کررہے ہیں۔ خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں صدارتی ایوارڈز بھی دیے گئے۔ ان کے روزگار کیلئے ان کو نیوٹک کے ذریعے پیشہ ورانہ اور فنی تعلیم دینے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ صدر مملکت نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ لوگوں میں شعور پیدا کرے کہ خصوصی افراد کی معذوری ظاہری نہیں ہوتی اور بہت سے ایسے افراد جو نارمل لگتے ہیں وہ بھی معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے خصوصی افراد کیلئے خصوصی اسکیم متعارف کرائی ہیں مگر ان کے متعلق آگاہی کی کمی ہے۔ کراچی کی کاروباری برادری نے ہمیں خصوصی افراد کو ملازمتیں دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خصوصی افراد کو ان کی صلاحیتوں کےمطابق ملازمتیں دی جائیں اور انہیں مارکیٹ کی ضروریا ت کے مطابق تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا گیا کہ حکومت کے نئے قوانین کے مطابق نئے منصوبوں کیلئے پی سی ون کی منظوری خصوصی افراد کیلئے اقدامات اور قابل رسائی انفراسٹرکچر سے مشروط کر دی گئی ہے۔خصوصی افراد عام طور پر معاشرےمیں کم نظر نہیں آتے اور گھروں تک محدود رکھا جاتا ہے جبکہ وہ پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور لوگوں کو یقین ہے کہ آزاد صحافت کے باعث میڈیا سچ دکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص افراد سے متعلق بچوں میں آگاہی پیدا کرنی چاہئے، مخصوص افراد کو بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان کو معاشرے میں مساوی حقوق حاصل ہیں، اس طبقہ کو اٹھانا آئین، مذہب اور اخلاقی اعتبار سے فرض ہے، حکومت ہائیر ایجوکیشن کیلئے 50 ہزار سکالرشپس دے رہی ہے، ان میں مخصوص افراد کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹرشبلی فراز نے کہا کہ مخصوص افراد سے متعلق موض