Syed Zulfiqar Bukhari 60

سمندر پار پاکستانیز

اسلام آباد۔:وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری نے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی کے ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ای او بی آئی کے غیر آئینی قبضے سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا ہے ۔ منگل کے روز پی آئی ڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران زلفی بخاری نے کہا کہ سندھ کے صوبائی وزیر نے 18ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں جس کے حوالے سے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے 15دن کے اندراپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا کہا ہے ۔ معاون خصوصی نے صوبائی وزیر سعید غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ کی کوئی دستاویز یا منٹس دکھائیں جہاں مخالف رپورٹ پیش کی گئی تب آپ کو شکایت درج کروانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ای اوبی آئی کے کارکنوں نے سندھ حکومت کی اصل صورت حال بھی دیکھی ہے جو خوفناک تھی ۔ زلفی بخاری کا مزید کہنا تھا کہ سعید غنی کو سندھ حکومت کی ساکھ اور کرپشن کی بھی وضاحت کرنی چاہیے ۔سندھ حکومت غریب عوام اور پنشنرز کی قسمت سے کھیلنا بند کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت نے 2011میں روات کے اندر 250کنال زمین خریدی جس کی مارکیٹ ویلیو اصل قیمت سے آدھی تھی ۔ ایک امدادی مہم کے 250ملین روپے کا سکینڈل سامنے آیا جس کے لیے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اثاثے ورکرز اور پنشنرز کے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بغیر کسی ٹینڈر اور شفافیت کے ورکرز ویلفیئر فنڈز کے علاقائی دفاتر قائم کیے جس میں 150افراد کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا اب وہ دفاتر بند ہونے کی وجہ سے وہ کام کرنے سے قاصر ہیں ۔ زلفی بخاری نے کہا کہ ماضی کی حکومت جس کی سربراہی پیپلزپارٹی نے کی تھی اس دوران ای اوبی آئی میں 350غیر قانونی تقرریاں کی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پنشنرز کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں کیونکہ حکومت نے مزدور کی پنشن 5250روپے سے بڑھا کر 8ہزار پانچ سو روپے کر دی ہے جس میں 62فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ معاون خصوصی نے پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے دور کے دوران ای اوبی آئی کی کلیکشن کا چارٹ دکھاتے ہوئے بتایا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں ای او بی آئی کی آمدن 10.4ارب روپے جبکہ ن لیگ کے دور میں 15.5ارب روپے تھے ۔ زلفی بخاری نے کہا کہ کورونا وباءکے باوجود پاکستان تحریک انصاف حکومت نے اپنی دو سالہ حکومت میں ای او بی آئی میں وصولی کو 23ارب روپے تک بڑھا دیا ہے جہاں اگلے سال یہ 25ارب روپے تک پہنچنے کی امید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ای او بی آئی کے پنشنرز کی پنشن 10ہزار روپے تک اضافہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ زلفی بخاری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ای او بی آئی کی 18جائیدادوں میں ہونے والی بد عنوانی اور سابقہ حکومتوں کے ذریعے قومی خزانے کے غلط استعمال پر سووموٹو ایکشن لیا گیا جو ملکی تاریخ کا ایک بہت بڑا اسکینڈل تھا ۔ زلفی بخاری نے کہا کہ حکومت نے ای اوبی آئی کی چار جائیدادوں کو نیب کی تحویل سے واپس لے لیا ہے جبکہ باقی جائیدادوں کی حوالگی کیلئے بھی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اگلے ماہ ای او بی آئی کی پراپرٹی کا افتتاح کریں گے ۔