Speaker National Assembly 56

پائیدار معا شی پالیسیو ں کی بدولت ہم کسانوں کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں: سپیکر قومی اسمبلی

پائیدار معا شی پالیسیو ں کی بدولت ہم کسانوں کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں: سپیکر قومی اسمبلی

اسلام آبا: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ زراعت کا شعبہ ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہےاس شعبےکی ترقی کے لیے کسان دوست پالیسیان متعرف کرنا اور کسانوں کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جو کسانوں کے دن کے موقع پر کیا جو ہر سال 18 دسمبرکو ملک بھر میں منایا جاتا ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ زراعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کو کے درپیش مسائل کے کو رونا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہےاور اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد اقدامات اُٹھائے جار ہے ہیں ۔ انہوں نے زراعت کے شعبے میں جدید سائنسی تحقیق اور طریق کار کے استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید سائنسی تحقیق اور طریق کار کے استعمال کے ذریعے زرعی پیداوارمیں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کو حل کر کے زرعی شعبے کو ترقی کے راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو درپیش مشکلات کی وجہ سے کپاس جیسی نقد اوور فصل کی کاشت کے رقبے میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس اور دیگر نقد اوور فصلوں کی کاشت میں اضافے کے لیے بروقت فیصلے کرنے اور ترجیحی بنیادوں پر کسانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

سپیکر نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی کسانوں کو درپیش مسائل سے بخوبی اگاہ ہے اور ملک کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی دفعہ اُن کی سربراہی میں زرعی شعبے میں اصلاحات لانے اور کسانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات تشکیل دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی سفارشات مرتب کرتی ہےاور اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے زرعی شعبے کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات اُٹھائے ہیں ۔ اسپیکر نے کسانوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی انتھک محنت کی بدولت آج ہمارے کھیت اور کھلیان آباد ہیں اور زرعی اجناس میسر ہیں ۔ انہوں نے زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی اجناس کی بلاتعطل فراہمی کے لیے کسانوں کو خصوصی مرعات دینے کی ضرورت پر زور دیا۔