PDM Power Show 14

لاہور میں پی ڈی ایم کا پاور شو، قائدین کے خطاب جاری

لاہور: حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریکٹ مومنٹ(پی ڈی ایم) کی تحریک کے پہلے مرحلے کا آخری جلسہ آج مینار پاکستان میں جاری ہے اور اپوزیشن قائدین خطاب کر رہے ہیں۔

جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ شاہ اویس نورانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام فیصلہ کرچکےہیں کہ آمرانہ سوچ کوچلنےنہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد شیر پاؤ نے پی ڈی ایم جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رکاوٹوں کے باوجود کارکنوں نے جلسے کو کامیاب بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب زیادہ دیر چلنے والی نہیں، گھبراہٹ کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو مہنگائی اور بےروزگاری کےعلاوہ کچھ نہیں دیا، 2018 میں جعلی انتخابات ہوئے، جسے کسی صورت ماننے کے لیے تیار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا گیا لیکن تمام وعدے جھوٹے نکلے، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان استعفیٰ دے دیں۔

بعد ازاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ڈی ایم وفاقی جمہوری اور پارلیمانی نظام پر سمجھوتا نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کہتے ہیں جلسہ ناکام ہے،ابھی تو جلسہ بھی نہیں ہوا۔ ہم سیاسی اور عمرانی کورونا کو نہیں مانتے،اس کی مذمت کرتے ہیں۔

لاہور جلسے سے پہلے اپوزیشن اتحادیوں کی اہم میٹنگ بھی ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان، مریم نواز اور بلاول بھٹو سمیت دیگر رہنما ایاز صادق کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی۔

ملاقات میں جلسے سے متعلق حکمت عملی اورآئندہ کے لائحہ عمل پرغور کیا گیا۔ پی ڈی ایم جماعتوں کے کارکن بھی جھنڈے تھامے جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔

مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان جلسے میں اہم اعلان کریں گے۔عوام ملک کی خاطر باہر نکلیں۔

مریم نواز نے کہا پی ڈی ایم کی کال پر عوام نہیں بلکہ عوام کی کال پر پی ڈی ایم نکلی ہے۔ حکومت جانے والی ہے۔

منتظمین نے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ قومی شناختی کارڈ اور موسم کی شدت سے بچنے کیلئے گرم کپڑے ہمراہ رکھیں۔ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ سے اجتناب کریں۔

پولیس کی جانب سے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو کو تھریٹ الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔

الرٹ کے مطابق پی ڈی ایم سے منسلک سینئر سیاسی قیادت کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ نیکٹا نے ہدایت کی ہے کہ سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر اور سخت بنایا جائے۔