Kashmiris 15

عالمی برادری کشمرییوں کو نسل کشی سے بچائے، شاہ محمود قریی

اسلام آباد: انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے بنا الاقوامی پارلماسنی کشمری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قرییو، آزاد کشمر کے صدر سردار مسعود خان، پارلما نی کشمر کمیک کے چئرومنی شہریار آفریدی سمتا برطانوی اور یورپی پارلماحنز کے 15سے زیادہ موجودہ اور سابق ارکان نے امرییر کانگریس، یورپی اور برطانوی پارلماشنز اور انسانتپ اور انسانی اقدار پر ینسع رکھنے والے دناج کے تمام ممالک سے اپلک کی ہے کہ مقبوضہ جموںو کشمرل مںش نسل کشی کو رکوانے اور انسانی حقوق کی بد ترین پامالو ں پر بھارت کو جواب دہ ٹھہرانے کے لےس اپنا کردار ادا کریں۔ انسٹوز رٹ آف ریجنل سٹڈایز اور تحریک خود اردیت انٹرنشنل کے زیر اہتمام ہونے والی اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قرییا نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمر کے عوام کو نہ صرف سات دہائوےں سے اپنے بناودی حق حق خودارادیت سے محروم رکھا گا ہے بلکہ بھارت کے قابض فوج انہں یہ حق مانگنے پر بدترین مظالم کا نشانہ بھی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال پانچ اگست کے بعد مقبوضہ جموں و کشمرق مںن انسانی حقوق کی بد ترین پامالارں عروج پر پہنچ گئی ہں اور کشمرییوں کے مصائب ناقابل بانن حد تک بڑھ گئے ہںن۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قرار دادوں، خاص طور پر چوتھے جنوںا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمر مںر آبادی کے تناسب مں تبدییم لا کر مسلمانوں کی اکثریت کو اقلتی مں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمرجیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کو اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمشنب کی دو رپورٹوں، انسانی حقوق کی تنظمو ں اور میڈیا نے مفصل انداز مںی پش کات ہے۔ اپنے خطاب مںے آزاد جموںو کشمرہ کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمرت گذشتہ ستر سال مںط بالعموم اور گزشتہ ایک سال مں بالخصوص انسانی حقوق، انسانی اقدار اور احترام انسانتں کی دھجازں اڑا کر انسانی حقوق اور انسانتھ پر ینشش رکھنے والے بنو الاقوامی اداروں اور عالمی برادری کے لےی کئی سوالہڑ نشان کھڑے کر دیئے ہںو۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمرن مں انسانی حقوق کی پامالواں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب بھارت نے 1947 مںن برطانوی حکمرانوں کی ملی بھگت سے پاکستان سے کشمرر کو چرا لاں اور اب 73 سال بعد بھارت کی بی جے پی اور آر ایس ایس حکومت کشمرص کو کشمرسیوں سے چرا کر لے گئی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمرل کی صورت حال کا تفصلی سے تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ ریاست مں قتل عام، بے گناہ شہریوں کو زخمی اور بصارت سے محروم کرنا، نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہںھ زبردستی لاپتہ کرنا، جعلی مقابلوں منر نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کرنا اور خواتن کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔ بھارت کشمرایوں کی زمن چرا کر وہاں اپنے ہندو شہریوں کو آباد کر رہا ہے اور گذشتہ چند ماہ مںل بائس لاکھ ہندووں کو متنازعہ ریاست مںر آباد کار جا چکا ہے۔ 1948 کے جنو ا کنونشن کی آرٹکلو 2 کے تحت بھارت کا یہ اقدام نسل کشی کی تعریف مںل آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مںا قائم جنوہسائڈ انٹرنشنل کے مطابق مقبوضہ کشمرن مںں جاری نسل کشی اس وقت آٹھویں مرحلے مںہ داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے علاوہ بھارت کی موجودہ حکومت کشمرویوں کے لےا مختص چار لاکھ اسی ہزار ملازمتںں بھارت کے ہندو شہریوں کو دے رہی ہے۔ جبکہ مقبوضہ ریاست مں تعمرےاتی ٹھیکے تعمر اتی منصوبوں کے لے زمنی کی لزک بھی غرں ریاستی ہندووں کو مہاک کرنے اور کشمرسیوں کے لزو اور تعمریاتی معائدوں کی تجدید سے منکر ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے دنا بھر کے پارلماونز خاص طور پر برطانوی اور یورپنا پارلمامنز کا کشمرریوں کے حق مںص آواز بلند کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی پارلماتن مںٹ مسئلہ کشمرت پر بحث اور یورپنم پارلمنٹل مں مختلف قرار دادوں کے پشک ہونے سے تنازعہ کشمرہ بنم الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا جس پر ہم برطانہر کی پارلما