President Arif Alawi 45

4 دسمبر کو یوم دعا منایا جائے گا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ آج 4 دسمبر کو یوم دعا منایا جائے گا، نماز جمعہ کے اجتماعات میں کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر سے تحفظ کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی، کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر پر علما نے تشویش کااظہار کیا ہے، وبا سے تحفظ کے لئے عام کی آگاہی پر علمائے کرام نے اتفاق کیا ہے، مساجد میں ایساو پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنیا جائے گا، عوام کی آگاہی کے لئے میڈیا بھی اپنا کردار ادا کرے، علما نے اپیل کی ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے جلسہ جلوسوں کو موخر کردیاجائے ،علما نے متفقہ طور پر 17 اپریل کے ایس او پیز پر عملدرآمد کا اعادہ کیا ہے۔ جمعرات کو یہاں کورونا وائرس کی دوسری لہر اور اس کی صورتحال کے بارےمیں وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر میں اپریل میں اوسط 500 مریض تھے۔ عوام کی احتیاطی تدابیر کے نتیجہ میں وبا کے پھیلائو پر قابو پایا گیا اور 22 جون کو 6400 مریضوں کا ٹیسٹ مثبت آیا جو 6500 تک بڑھنے کے بعد رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کورونا کادوسرا حملہ ہے اس کے تناظر میں عوام سے اپیل ہے کہ پہلی لہر کے دوران حاصل کامیابیوں کی روشنی میں حفاظتی اقدامات کریں اور اس مہم میں کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے والے الفاظ کی بجائے کورونا وائرس کی وبا سے بچنا ہے کو شامل کیا جائے۔صدر مملکت نے کہا کہ وبا سے تحفظ کے لئے رجوع الی اللہ کیا جائے اور اس حوالےسے آج جمعہ کے اجتماعات میں خصوصی دعائوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں یوم دعا منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علما نے دوسری لہر پر تشویش کااظہار کیا ہے اور متفقہ طور پر کہا ہے کہ مساجد میں ایس او پیز پر علمدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ عوام کی آگاہی کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے میڈیا بھی پہلے کی طرح کردار ادا کرے جبکہ علمائے کرام نے ملک کی سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ جلسے اور جلوس کچھ عرصہ کے لئے موخر کردیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر اور منبر اور محرام سے اٹھنے والی آواز پر عوام نے عمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ علما منظم ہیں اور ان کی بات سنی جاتی ہے۔ صدر نے کہا کہ کورونا کے علاوہ صحت کے دیگر مسائل میں بھی علما سے مدد لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت اور او آئی سی اعلامیہ میں وزیر اعظم عمران خان نے اہم کردار ادا کیا جس کو تمام علما نے متفقہ طور پر سراہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا ہے کہعلما نے کورونا کی دوسری لہر پر تشویش ظاہر کی ہے کہ لوگ کم سیریس ہیں۔ اس لئے طے پایا ہے کہ خدا کے حضور معافی کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ صدر نے مزید کہا کہ اختیاطی تدابیر پر عملدرآمد، خداسے دعا اور غریبوں کے احساس سے اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلی لہر میں بھی یہی کیا گیا اور شاید خدا کو ہم پر رحم آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ علما عوام کی آگاہی کے لئے اقدامات کریں گے تاکہ بد احتیاطی کو ختم کیا جا سکے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ علما نے ایس او پیز پر عملدرآمد کااعادہ کیا ہے اور ہاتھ دھونے، سماجی فاصلے، ماسک پہننے اور نماز کے دوارن صفوں میں مناسب فاصلہ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں کہ وضو گھر سے کریں اور جائے نماز ساتھ لائیں جبکہ 55 سال سے زائد عمر افراد نماز گھر پر ہی ادا کریں تو ان کی صحت اور تحفظ کےلئے بہتر ہو گا۔ صدر نے کہا کہ علما نے سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ جلسے جلوس کچھ عرصہ کے لئے موخر کئے جائیں وبا کے بعد دو بارہ جمہوری حقوق پر واپس آیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علما، مساجد و منبر ، نمازیوں اور تمام اہل وطن کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی آگاہی فراہم کرے اور یاد ہانی کا عمل بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام علما نے متفقہ طور پر کیا ہے کہ پہلی لہر میں ہمیں کامیابی ملی اور دوسری لہر سے تحفظ کے لئے رجوع الی اللہ کیاجائے، خدا تعالیٰ سے معافی مانگی جائے اور اس کی پناہ طلب کی جائے۔ عبادات کا عمل جاری رکھتے ہوئے، احتیاط کریں اور ساتھ ساتھ معاشرے کے غریب طبقات کا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے ہمیں کورونا کی پہلی لہر کے خلاف کامیابی حاصل ہوئی اور انشا اللہ دوسری لہر میں بھی اللہ تعالیٰ وبا سے محفوظ رکھے گا۔ قبل ازیں صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کووڈ۔19 کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے بھی شرکت کی۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر ، صوبائی گورنرز اور متعلقہ علاقوں سے علما نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ صدر مملکت نے کوروناوبا کی روک تھام کے حوالے سے علما کرام سے تجاویز لیں اور ان کا تعاون طلب کیا۔صوبائی گورنرز نے بھی اس سلسلہ میں اپنی آرا پیش کیں۔ علمائے کرام نے کوروناوبا کی روک تھام اور اس سلسلہ میں ایس او پیز پر عمل کرنے کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی