nadeem-Press conference 18

وفاقی وزیر عمر ایوب اور معاون خصوصی ندیم بابر کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آبادٌ:وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بجلی کے منصوبے فراڈ کی ایک لمبی داستان ہیں، چور چوری سے چلا جاتا ہے ہیرا پھیری سے باز نہیں آتا، ایک سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی جیبیں بھرنے کے لئے توانائی کے مہنگے معاہدے کئے، چند ووٹوں کے لئے بجلی چوری پر قابو پانے کے لئے کچھ نہیں کیا، بجلی کے ترسیل کے نظام کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا، غلط فیول مکس کو رواج دیا، قابل تجدید توانائی کو پس پشت ڈالا، نندی پور پاور پراجیکٹ میں قوم کو 80 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا، ملک کے مستقبل کو گروی رکھوا دیا، پونے دو سال تک بجلی کا ٹیرف جان بوجھ کر روکے رکھا، روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کے لئے 24 ارب ڈالر تندور میں جھونک دیئے گئے، سابق حکومت پانچ سال میں تین سو ارب روپے گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ چھوڑ کر گئی، ایل این جی ٹرمینل لگا دیئے لیکن سٹوریج کا کوئی انتظام نہ کیا، ہم آئی پی پیز کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کر رہے ہیں، 47 ارب روپے کی لاگت سے چار ہزار 275 میگاواٹ بجلی کا سسٹم میں اضافہ کیا ہے، جنوبی بلوچستان اور صنعتی شعبے کے لئے بڑا پیکج دیا ہے، آر ایف او سے بجلی کی پیداوار 25 فیصد سے کم کر کے چار فیصد پر لے آئے ہیں، کوویڈ میں صارفین کو بلوں میں ریلیف دیا ہے، گندم کا بحران سندھ حکومت کی ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہے، رواں سال صنعت کے لئے موسم سرما کے تین مہینوں میں گیس بند نہیں کریں گے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن میں صرف 50 پیسے کا اضافہ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے غلط حقائق آج میڈیا کے سامنے بیان کئے ہیں، ہم حقائق سامنے رکھنا چاہتے ہیں جن کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت بارودی سرنگیں بچھا کر گئی تاکہ آنے والی حکومت کے لئے دشواریاں پیدا ہوں، انہوں نے اس کے لئے ملک کے مستقبل کو بھی دائو پر لگا دیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے منصوبوں کے بارے میں بڑی باتیں کی جاتی ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کس قیمت پر لگائے گئے، یہ فراڈ کی ایک داستان ہے، نندی پور پاور پراجیکٹ میں 80 ارب روپے کا ٹیکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قوم کو لگایا، پی ایس او کو جو رقم دینی تھی وہ نندی پاور پراجیکٹ کی انتظامیہ نے پی ایس او کو دی ہی نہیں اور دوسری مد میں وہ خرچ کر دیئے، اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کی گئیں جس میں یہ انکشاف ہوا کہ پی ایس او کے اکائونٹ پر سابق حکمرانوں نے ڈاکہ مارا، ایف آئی اے کو کیس ہم نے بھیج دیا ہے تاکہ وہ تحقیقات کرے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ 70 فیصد توانائی درآمدی ایندھن پر منتقل کر دی گئی تھی، 14 ارب ڈالر تیل وگیس درآمد کرنے پر ہم خرچ کرتے ہیں، سابق حکومت نے تقریباً 4 ہزار میگاواٹ کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی کٹوتی کر دی اور مہنگے منصوبے لگائے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان منصوبوں کو پھر بحال کیا ہے اور ہم قابل تجدید توانائی پالیسی لائے ہیں، سولر کے منصوبے 24 روپے فی یونٹ کے تھے، اب ہمارے دور میں وہی منصوبے 6 روپے فی یونٹ پر آ گئے ہیں، یہ منصوبے صاف شفاف طریقے سے ہم نے شروع کئے ہیں اور ماضی کے کانچھے ختم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تھر کول موجودہے لیکن یہاں پر درآمدی کوئلے کے منصوبہ اس علاقہ میں لگایا گیا ہے جہاں پر زرخیز زمین موجود ہے، کئی پلانٹس کی قیمت تو 30 فیصد تک زیادہ تھی، جو معاہدے کئے انہوں نے غلط کئے، اپ فرنٹ ٹیرف دس سال پر کر دیا جس کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی کیونکہ مختلف لوگوں کے مفادات اس میں ملوث تھے، اس لئے اپنے مفادات کی خاطر قوم کا مستقبل گروی رکھ دیا اور اپنے آدھے پائو گوشت کے لئے پوری بھینس ذبح کی گئی، یہ وہ غلط معاہدے ہیں جن کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور دوبارہ ان کمپنیوں سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے نمائندے ٹیرف اور گردشی قرضے کی باتیں کرتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے دور میں ٹیرف ڈیڑھ پونے دو سال تک بڑھایا ہی نہیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ الیکشن کے بعد اگلی حکومت یہ ٹیرف بڑھائے، جہاں پر بجلی چوری ہوتی تھی وہاں انہوں نے کھلی بجلی دی تاکہ انہیں چند ووٹ ملیں لیکن لوگوں نے ان تمام معاملات کو دیکھا اور انہیں بری طرح شکست ہوئی، اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن سسٹم پر بھی کچھ نہیں کیا، تحریک انصاف کی حکومت نے دو سال میں 47 ارب روپے 220 کے وی اور 500 کے وی کے سسٹم پر خرچ کر کے چار ہزار 275 میگاواٹ مزید بجلی بھی سسٹم میں شامل کی۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ اسی وجہ سے پچھلے موسم گرما میں ہماری بجلی کی ترسیل کی صلاحیت 24 ہزار 500 میگاواٹ تک پہنچ گئی اور یہ بجلی فراہم کرتے رہے ہیں، جنوبی بلوچستان کے لئے پیکج دیا اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کے لئے بھی شمسی توانائی کی فراہمی پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، موجودہ حکومت نے صنعتوں کے لئے انڈسٹریل پیکج دیا ہے، پیک اور آف پیک آور ختم کئے ہیں جو انڈسٹری اضافی بجلی استعمال کرے گی، اس پر بھی 8 روپے ہو گا، ماضی میں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی، ہمیں بجلی کا سسٹم تباہ و برباد کر کے دیا گیا، ہم اس سسٹم کو ٹھیک کر رہے ہیں، ہر چیز میں دو نمبری کی جاتی رہی ہے، پرانے پلانٹس کو بند کرنے جا رہے ہیں، اس سے اربوں روپے کی بچت ہو گی، حکومتی پلانٹس کے بھی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، آر ایف او کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا جاتا ہے، مسلم لیگ (ن) کے آخری سال میں 38 فیصد فیول مکس آر ایف او پر چلایا گیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صرف 4 فیصد آر ایف او پر چلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصل حقائق ہیں جو ہم پیش کر رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ چور چوری سے چلا جاتا ہے لیکن ہیرا پھیری سے باز نہیں آتا، (ن) لیگ کے رہنمائوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہیرا پھیری کر کے لوگوں کے گمراہ کیا جائے اور غلط حقائق پیش کر کے اصل جرائم پر پردہ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پہلے بھی حقائق کے ساتھ جواب دیتے رہے ہیں، آئندہ بھی دیتے رہیں گے، ہم پوچھتے ہیں کہ نندی پور میں جو 80 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا گیا وہ کمیشن کدھر گیا ہے اور وہ رقم کدھر گئی ہے اس کا جواب انہیں دینا پڑے گا، عمران خان کی پالیسی ہے کہ پالیسیاں صاف شفاف ہوں، اقتصادی سرگرمیاں بڑھیں، ہم اس کے لئے عوام کو جوابدہ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گردشی قرضہ کوویڈ سے پہلے ہم 14 سے 15 ارب روپے ماہانہ پر لے آئے تھے لیکن اس کے بعد بلوں میں صارفین کو ریلیف دیا گیا، سابق حکومت نے اپنے آخری سال میں بجلی کا ٹیرف نہیں بڑھایا اور گردشی قرضہ 435 ارب روپے تک بڑھا دیا، موسم گرما میں بجلی کی طلب 25 سے 26 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جبکہ سردیوں میں یہ آٹھ ہزار تک ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے روپے کی قدر کو مصنوعی مستحکم کرنے کے لئے 24 ارب ڈالر تندور میں جھونک دیئے، برآمدات میں اضافہ نہیں کیا اور صرف دو ہفتے کا زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑ کر گئی، کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی بھی (ن) لیگ کی حکومت کی غلط پالیسیوں اور معاہدوں کا نتیجہ ہے، سندھ حکومت نے گندم کی خریداری نہیں کی اور گندم کا اجراءنہ ہونے کی ذمہ دار بھی سندھ حکومت ہی ہے حالانکہ پنجاب حکومت نے تو سندھ کے عوام کے لئے گندم بھیجی تھی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ ایک ہزار ارب روپے کی گیس کا گردشی قرضہ بننے کی بات کی گئی ہے لیکن سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاید یہ بات بھول گئے ہیں کہ ان کی حکومت پانچ سال میں 300 ارب روپے کا گیس کا گردشی قرضہ چھوڑ کر گئی، اس کے علاوہ بجلی کے شعبے نے گیس کمپنیوں کو اگر کوئی رقم ادا کرنی ہے تو وہ اس سے الگ ہے اور اوگرا کے تعین کرنے کے باوجود نوٹیفائی نہیں کیا، موجودہ حکومت نے مشکل فیصلہ کر کے گیس کی قیمت بڑھائی۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی ٹرمینل کے ساتھ سٹوریج کا انتظام ضروری ہوتا ہے، سابق حکومت نے فکسڈ پیمنٹ پر ایل این جی ٹرمینل بنائے لیکن سٹوریج کا انتظام نہ کیا جس کے لئے 5 لاکھ ڈالر سے زائد یومیہ کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے چاہے ایل این جی استعمال کریں یا نہ کریں، اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک شپ آئے گا اور اس کی گیس استعمال ہو گی تو پھر اگلی آ سکتی ہے، سٹوریج کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مسائل موجود ہیں، اب ہم شمال جنوب گیس پائپ لائن کے ساتھ سٹوریج کا بھی انتظام کر رہے ہیں اور نجی شعبے کو پیش کش کی ہے کہ وہ ایل این جی ٹرمینل لگائیں جس طرح پرانے دو ٹرمینل لگائے گئے تھے اس طرح ہم ٹرمینل نہیں لگا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 27 ماہ میں 9 ماہ ایسے تھے جب ہم نے 800 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ایل این جی فروخت کی اور سابق حکومت کے غلط فیصلوں سے بہت زیادہ پیسہ ضائع ہوا، ہم سابق حکومت کے طریقہ کار کے مطابق ٹرمینل نہیں لگا سکتے کیونکہ یہ قوم پر ڈاکہ ہے اور ان پر بہت زیادہ مالی بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ گرمیوں میں ایل این جی کی قیمت کم تھی تو کیوں نہیں خریدی گئی، اگر گرمیوں میں دسمبر کے آرڈر کر دیتے تو گرمیوں کی قیمت دسمبر میں نہیں مل سکتی تھی، جان بوجھ کر ایک غلط چیز کو اچھالا جا رہا ہے، ایک میڈیا ہائوس نے 22 ارب روپے ضائع کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا ہے، جنوری سے نومبر کے آخر تک ہم نے 13 سپاٹ کارگو منگوائے اور دسمبر کے لئے 6 کارگو بک کئے ہیں، ہر کارگو کی قیمت 22 سے 25 ملین ڈالر ہوتی ہے، اس طرح یہ 76 سے 77 ارب روپے بنتی ہے، ایسے سوال کا جواب دینا ہی مناسب نہیں۔ یکم ستمبر 2018ءسے لے کر 30 نومبر 2020 تک 35 کارگو منگوائے گئے ہیں اور ان کی اوسط 10.4 فیصد برینٹ ہے، اگر 13.37 فیصد برینٹ سے اس کا موازنہ کریں تو طویل مدتی قیمت کے مقابلے میں 200 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے، یہ اصل حقائق اور اصل اعداد و شمار ہیں، اگر کسی کو مارکیٹ کی پرائسنگ کا ادراک نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ اسے اس پر بات ہی نہیں کرنی چاہیے۔ ندیم بابر نے کہا کہ ہر ہفتے گیس کی طلب و رسد پر بریفنگ دی جائے گی، دسمبر میں ایل این جی کی ترسیل 1200 ایم ایم سی ایف ڈی اور جنوری میں 1400 ایم ایم سی ایف ڈی ہو جائے گی اور جنوری تک نئی پائپ لائن بھی مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرانا گردشی قرضہ اگلے چار سے پانچ سال میں 50 سے 60 ارب روپے کی وصولی کے حساب سے ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فرنس آئل کے حوالے سے اوگرا کا قانون موجود ہے کہ اس وقت تک درآمد نہیں کیا جا سکتا جب تک مقامی پیداوار ریفائنریوں سے اٹھا نہیں لی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں ہم نے گیس کی ترسیل کے حوالے سے نظرثانی شدہ منصوبہ پیش کیا ہے، کابینہ کے اجلاس سے بھی اس کی توثیق کرائی جائے گی، انڈسٹری کو موسم سرما کے تین ماہ میں گیس فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے برآمدی آرڈر پورے کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا ڈیلر مارجن رکا ہوا تھا، اب جو 16 مہینے کا مارجن میں اضافہ کیا جائے گا جو تقریباً 50 پیسے کا اضافہ بنے گا۔