Kashmir 76

کشمیرکے مسئلہ پر اسلامی تعاون تنظیم کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، حافظ طاہر محمود اشرفی

لاہور۔کشمیرکے مسئلہ پر اسلامی تعاون تنظیم کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ، اگر کسی جگہ پر توہین ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہوا ہے تو متاثرین حکومت سے رابطہ کر سکتے ہیں قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا ، کسی کو قانون کا غلط استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے مستقل بنیادوں پر رابطوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ ویزوں کامسئلہ حل ہو گیا ہے۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علما کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ پر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرا خارجہ کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی توہین ناموس رسالت ، اسلامو فوبیا اور کشمیر کے مسئلہ پر بھرپور موقف پیش کریں گے۔ مسئلہ کشمیر اسلامی تعاون تنظیم کے ایجنڈے کا مستقل حصہ ہے۔ بعض نادان دوست ہمیشہ پاکستان کو کمزور اور ہندوستان کو مضبوط بتاناچاہتے ہیں۔ پاکستان نہ کمزور ہے اور نہ ہی ہمارے برادر اسلامی ممالک سے تعلقات میں اس وقت کوئی کمزوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ ویزوں کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ ہماری مشرق وسطیٰ میں موجود پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ وہ میزبان ملک کے قوانین کا احترام کریں اور وہاں کے سیاسی امور پر تبصروں اور مداخلت سے گریز کریں۔ اجتماع کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور معاملات کے حوالے سے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو مکمل تحقیق کرنی چاہیے۔ پشاور اور ننکانہ میں قتل ہونے والے قادیانیوں کے قتل کے چھ واقعات میں سے چار کے مجرم گرفتار ہو چکے ہیں۔ دو قتل پولیس کے مطابق ذاتی دشمنی کے ہیں جن پر تحقیق جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام جبر کی بنیاد پر کسی کو مسلمان کرنے کی اجازت نہیں دیتا ، اسلام کے نام پر کسی کو ہوس پوری نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 30 نومبر کو لاہور میں مسیحی قیادت کے اہم رہنماوں سے ملاقات ہو گی جس میں مستقل بنیادوں پر مسیحی برادری کے مسائل کے حل کیلئے میکنزم بنایا جائے گا۔