Maryam Nawaz 12

عمران خان جیسے شخص کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتی ، مریم نواز

گلگت بلتستان: پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدرمریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت کا جہاز ڈوب رہا ہے، اب کوئی سوار نہیں ہوگا بلکہ چھلانگ لگائے گامجبوری ہے ایک ایسے شخص کا نام لیتی ہوں جسے عوام کی خدمت کا جذبہ چھو کر نہیں گزرا، کبھی اس جعلی حکومت کو نہ حکومت سمجھا نہ اس سے کوئی درخواست کی ہے، ان کے نصیب میں عوام کی خدمت کرنا نہیں لکھا، گلگت میں چاہے سڑکیں ہوں، کینسر اسپتال ہو یا پل ہوں، یہ سب (ن)لیگ نے بنایا ہے اور گلگت والوں کی تکلیف کو آسان کردیا ہے، پاکسان کو آج جتنی بیماریاں لاحق ہیں، چاہے روٹی 30 روپے کی ہو، بجلی گیس کی قیمت میں اضافہ ہو، تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے نواز شریف اور ن لیگ ہے ، عمران خان اور اس کے ساتھی جب منہ کھولتے ہیں تو اسے غلاظت ٹپکتی ہے۔ گلگت بلتستان کے علاقے گوپس میں مسلم لیگ (ن)کی نائب صدرمریم نوازنے جلسے سے خطاب میں کہا کہ یہ اجتماع بتارہا ہے گلگت بلتستان میں شیرآئے گا، یہ جعلی حکومت ہے جس سے نصیب میں عوام کی عزت کرنا لکھا ہی نہیں، اس سے درخواست کرنے کا کیا فائدہ، اگرآپ کوآپ کا حق نہیں دیا جارہا توآنے والے الیکشن میں شیرکوووٹ دواوراپنے حقوق کے ساتھ جیو۔مریم نواز نے کہا کہ اس وادی کو دیکھ کرجنت کا خیال آتا ہے لیکن جعلی حکومت گوپس کے فنڈزروک کر بیٹھی ہے۔ دیامراوربھاشاڈیم پر نوازشریف نے جو کام کیا آج تک کسی نے نہیں کیا، پتا چلا ہے وہاں جو نوکریاں نکلی ہیں اس میں یہاں کی عوام کو حصہ نہیں دیا جا رہا، وہاں لوگوں کو معاوضہ نہیں دیا جا رہا، ن لیگی ارکان یہ معاملہ پارلیمان میں اٹھائیں اور دیامربھاشاڈیم کے متاثرین کیلئے آوازاٹھاں گی۔ عوام کے مسائل کا واحد حل مسلم لیگ ن ہے۔مریم نوازنے کہا کہ نوازشریف نے پہلے ہی کہہ دیا تھا لڑائی تم سے نہیں ہے، پاکستان کو آج جوبیماری لاحق ہے اس کا نام ہے عمران خان، پاکستان میں کورونا جیسی بیماری 2018 میں ہی آگئی تھی، تحریک انصاف کو ادھرادھرسے جوڑتوڑکربنایا گیا ہے، یہ بیماری ماسک سے نہیں جائے گی، اٹھا کرباہرپھینکنے سے جائے گی۔مریم نوازنے کہا کہ ملکی اداروں کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا گیا ہے، ایسے شخص کوعوام کے حوالے کردوتاکہ عوام دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے، مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے جب میں عمران خان کا نام لیتی ہوں، حکومت کا جہازڈوب رہا ہے اورڈوبتے جہاز پر کوئی سوار نہیں ہوتا، عوام نے لوٹوں کو ووٹ نہیں دینا، جب علاج مقصود ہو توبیماری کا نام لینا پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں