pm of pakistan 16

خدشہ ہے بھارت افغانستان کواستعمال کرے گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خدشہ ہے بھارت ہمیں غیرمستحکم کرنے کے لئے افغانستان کواستعمال کرے گا،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو نقصان پہنچا، ہمیں ماضی سے نکل کر تجارت ،معیشت اور امن کی جانب جانا چاہیے، افغانستا ن میں امن سے پاکستان اور دیگرعلاقوں کو فائدہ ہوگا۔ اسلام آباد میں پاک افغان تجارت وسرمایہ کاری فورم 2020 سے متعلق تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ عوامی روابط سے باہمی تعلقات کوفروغ ملتا ہے، افغانستان کے ساتھ ہمارے روابط برسوں سے ہیں، افغانستان کو ہردورمیں خطے میں اہمیت حاصل رہی ہے، بدقسمتی سے گزشتہ 40 سال سے افغانستان میں انتشار ہے، اس انتشار سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا،اس انتشار نے دونوں ممالک میں غلط فہمیوں کو جنم دیا، ہم نے پھر بھی ماضی سے سبق نہیں سیکھا، افغانستان کے لوگوں کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے، یرونی دباو سے افغانستان کے عوام پر رائے مسلط نہیں ہوسکتی۔ پاکستان افغانستان کی ہر حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے دوستی کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ہمیں احساس ہوا کہ بھارت نظریاتی طور پر پاکستان کے خلاف ہے، بھارت میں مودی حکومت اپنے ملک کے ہی مسلمانوں کے خلاف ہے، بھارت میں مسلمانوں سے جو سلوک ہو رہاہے وہ کبھی نہیں ہوا۔ بھارت سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش پھر بھی کریں گے، پاکستان کو خدشہ ہے بھارت ہمیں غیر مستحکم کرنے کے لئے افغانستان کو استعمال کرے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں ماضی سے نکل کر تجارت ،معیشت اور امن کی جانب جانا چاہیے، حکومت کی مخلصانہ کوشش ہے کہ دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات ہو، سب کوشش کر رہے ہیں افغانستان میں امن ہو، افغانستا ن میں امن سے پاکستان اور دیگرعلاقوں کو فائدہ ہوگا، افغانستان سے تجارت کے فروغ کے لیے چیمبر آف کامرس سے تعلقات بڑھانے کو کہا گیا ہے، تجارت کے ذریعے خطے میں خوشحالی آئے گی۔