NAB 17

چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس

اسلام آباد :قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی صدارت میں نیب میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں حسین اصغر، ڈپٹی چیئرمین نیب،سید اصغر حیدر، پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹبلیٹی،ظاہر شاہ، ڈی جی آپریشنزنیب جبکہ نیب کے تمام علاقائی بیوروز کے ڈائریکٹرز جنرلز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس میں نیب کی مجموعی کاردکردگی کا جائزہ لیا گیاور اس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اجلا س کے دوران ملک بھر کی مختلف فاضل احتساب عدالتوں میں نیب کے زیر سماعت ریفرنسز کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ نیب کے آپریشنز اور پراسیکیوٹر ڈویژنزنیب کے مقدمات کی ٹھوس شواہد، مستند دستاویزات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں پوری تیاری کے ساتھ قانون کے مطابق پیروی کریں گے۔ اس کے علاوہ شکایات کی تصدیق، انکوائریوں، اور انوسٹی گیشنز کے معیار کو مزید بہتر بنانے کا جائزہ لیا گیا۔نیب کی فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھی مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔مزید بر آں نیب کے انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکیوٹرز کی صلاحیتوں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق بنانے کیلئے آن دی جاب مختلف شارٹ کورسزماہر اور تجربہ کار ماہرین کی زیر نگرانی ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ میگا کرپشن اور وائٹ کالر کرائم کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تا کہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے جہاں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) تمام شکایات کی جانچ پڑتال،انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز تجربہ کار اور سینئر سپروائزی افسران کی اجتماعی دانش سے استفادہ کرتے ہوئے منطقی انجام تک ٹھوس شواہد اور مستند دستاویزات کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔چئیرمین نیب کی ہدایت پر نیب ہیڈ کوارٹر اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کی موثر نگرانی اور جائزہ لیا جائے گا تا کہ نیب کے علاقائی بیوروز کی کا رکردگی کے مسلسل جائزہ کے نتیجے میں مناسب قانونی رہنمائی فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے اس وقت 1230بدعنوانی کے ریفرنسز ملک کی معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی پیروی کے لئے انوسٹی گیشن آفیسرز،پراسیکیوٹرز متعلقہ ڈی جیز کو زیر نگرانی اپنی کارکردگی کو مزید موثر بنائیں اور بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم بر آمد کر کے قومی خزانہ میں جمع کروانے میں اپنا قومی فریضہ احسن طریقہ سے سر انجام دیں۔ چئیرمین نیب نے کہا کہ نیب انسداد بد عنوانی کا ایک قومی ادارہ ہے، جو ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے انتہائی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے جہاں سراہا ہے وہاں نیب کو مبینہ بد عنوانی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات میں اضافہ عوام کے نیب پر اعتماد کا مظہر ہے۔نیب افسران کو اپنی تمام تر توانیاں تحقیقات کو میرٹ،شفافیت اور قانون کے مطابق بلا تفریق منطقی انجام تک پہنچانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے۔نیب افسران کسی پراپیگنڈہ، پریشراوردھمکی کو خاطر میں لائے بغیر قانون کے مطابق زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر سختی سے عمل کریں۔نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے۔اس لئے نیب میں آنے والے ہر شخص کی عز ت و احترام کو یقینی بنایا جائے،اس سلسلہ میں کسی کوتاہی کو بر داشت نہیں کیا جائے گا۔