pdm jalsa quetta 11

پی ڈی ایم کا جلسہ ، رہنماؤں کا خطاب جاری

کوئٹہ: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جلسہ کوئٹہ میں جاری ہے۔ جلسے کے شرکا سے رہنما خطاب کر رہے ہیں۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سمیت دیگر رہنما اسٹیج پر موجود ہیں۔

جلسے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسوں نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے موجودہ حکمران ایک طرف اور ملک کی 22 کروڑ عوام دوسری طرف کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام سے روزگار دینے اور مہنگائی کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ آج پاکستان کا بچہ بچہ یہ سمجھ چکا ہے کہ عمران خان کی حکومت جھوٹ کی بنیاد پر تھی۔ آج پاکستان کی عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔

امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ بلوچستان کو اس کے وسائل سے ہی محروم رکھا جا رہا ہے۔ گوادر میں سب سے پہلے بلوچستان کی عوام کو روزگار دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ کے گھر جانے سے پہلے ملک کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

چیئرمین قومی وطن پارٹی آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ جب تک صوبے اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوں گے اس ملک کی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔ پی ڈی ایم آئین کی پاسداری اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پی ڈی ایم کے جلسوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور حکومت 2 سال بعد ہی عوام کا سامنا کرنے کی اہل نہیں رہے۔

جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ اویس نورانی نے کہا کہ حکومت احتساب کے نام پر لوگوں کی تذلیل کرنا چاہتی ہے لیکن ایسے احتساب کے عمل کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین روندنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، آنے والا وقت پاکستان کی عوام کا ہے اور بلوچستان کو ہر دورے حکومت میں پیکج دیا جاتا ہے لیکن بلوچستان کو ایسے پیکج دیا جاتا ہے جیسے بھیک ہو۔

اویس نورانی نے کہا کہ آئندہ حکومت میں بلوچستان کا پیکج عوام تک پہنچے گا۔

جلسے کی سیکیورٹی کے لیے پولیس اور ایف سی سمیت 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

کوئٹہ بھر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں جبکہ پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، محمود خان اچکزئی، عبدالمالک بلوچ اور سردار اختر مینگل کوئٹہ پہنچ چکے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اپنے 10 رکنی وفد کے ہمراہ گزشتہ روز کوئٹہ پہنچی تھیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری گلگت سے خصوصی پرواز کے ذریعے آج کوئٹہ پہنچیں گے اور اگر وہ کوئٹہ نہیں پہنچے تو ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کریں گے۔

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے کے شرکا سے خطاب کریں گے۔

سرکاری انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔

چیف سیکرٹری بلوچستان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے الرٹ کو سنجیدہ لیں۔

اس سے قبل پی ڈی ایم اپنا پہلا جلسہ گوجرانوالہ اور دوسرا جلسہ کراچی میں کر چکی ہے۔

مریم نواز نے کوئٹہ روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کا جلسہ کامیاب ہو گا جبکہ این آر او کی ضرورت کسی اور کو نہیں بلکہ خود عمران خان کو ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں