supreme-court-featured- 8

بحریہ ٹاون عملدرآمد کیس محفوظ شدہ فیصلہ

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کر لی

عدالت نے 460 ارب روپے وفاق یا سندھ کو دینے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا

عدالت نے 460 ارب سندھ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کیلئے کمیشن تشکیل دے دیا

گیارہ رکنی کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ تعینات کرے گی

کمیشن میں گورنر سندھ،وزیر اعلی سندھ کا نمائندہ شامل ہوگا

کمیشن میں اٹارنی جنرل،ایڈووکیٹ جنرل سندھ،چیف سیکرٹری سندھ شامل

کمیشن میں صوبائی فنانس سیکرٹری،سینئر ممبر ریونیو بورڈ سندھ،نمائندہ ایڈیٹر جنرل شامل

کمیشن میں نمائندہ اکاونٹنٹ جنرل،نمائندہ اسٹیٹ بنک بھی شامل

10 صفحات پر مشتمل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کی جاتی ہے,فیصلہ

460 ارب سندھ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کیلئے کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے,فیصلہ

گیارہ رکنی کمیشن کا سربراہ سندھ سے سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہوگا,فیصلہ

سربراہ کی تعیناتی چیف جسٹس پاکستان کریں گے,فیصلہ

کمیشن میں گورنر سندھ،وزیر اعلی سندھ کا نمائندہ شامل ہوگا,فیصلہ

کمیشن میں اٹارنی جنرل،ایڈووکیٹ جنرل سندھ،چیف سیکرٹری سندھ شامل ہونگے,فیصلہ

کمیشن میں صوبائی فنانس سیکرٹری،سینئر ممبر ریونیو بورڈ سندھ،نمائندہ ایڈیٹر جنرل شامل ہونگے,فیصلہ

کمیشن میں نمائندہ اکاونٹنٹ جنرل،نمائندہ اسٹیٹ بنک بھی شامل ہوگا,فیصلہ

اگر کسی وجہ سےجج موجود نہ ہوا تو اچھی شہرت کے حامل شہری کو سربراہ بنایا جائے,فیصلہ

گورنر سندھ اچھی شہرت کے حامل شہری کو اپنا نمائندہ مقرر کریں گے,فیصلہ

گورنر سندھ کے نمائندے کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ہو گا نہ کوئی عوامی عہدہ رکھا ہو,فیصلہ

وزیراعلی سندھ بھی کسی اچھی شہرت کے حامل شخص کو نمائندہ مقرر کر سکتے ہیں,فیصلہ

کمیشن کے پانچ ممبران کو ووٹ استعمال کرنے کا حق حاصل ہو گا,فیصلہ

بقیہ ممبران کمشن میں اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں گے,فیصلہ

کمیشن کے چئیرمین اور ممبران 4 سال کے لیے منتخب ہوں گے,فیصلہ

کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ ممبران کی مدت پوری ہونے کے بعد نئے ممبران کا تقرر کرے,فیصلہ

کمیشن کا چئیرمین اور ممبر کسی بھی وقت عملدرآمد بینچ کی اجازت سے استعفی دے سکتے ہیں,فیصلہ

اگر گورنر اور وزیر اعلی نمائندہ مقرر کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو عملدرآمد بینچ نئے ممبران کا تقرر کر سکتا ہے,فیصلہ

کمیشن کے اجلاس میں کورم پورا کرنا ضروری ہوگا, فیصلہ

کمیشن کا عملہ صوبائی حکومت فراہم کرے گی, فیصلہ

کمیشن کے کسی فیصلہ پر اختلاف کی صورت میں عملدرآمد بینج اس کا حل نکالے گا,فیصلہ

کمیشن کے تمام اخراجات حکومت سندھ برداشت کرے گی,فیصلہ

یکم دسمبر 2020 سے پہلے گورنر اور وزیر اعلی اپنے نمائدے کے بارے میں رجسٹرار کو آگاہ کریں, فیصلہ

کمیشن اپنا پہلا اجلاس آئندہ برس 25 جنوری کو یا اس سے پہلے منعقد کرے, فیصلہ

کمیشن سندھ میں عوامی اہمیت کے حامل منصوبوں کی سفارش کرے گا,فیصلہ

کسی بھی منصوبے کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنائی جائے گی جو کمیشن کو رپورٹ جمع کرائے گی,فیصلہ

تمام منصوبوں کا آڈٹ کرایا جائے گا,فیصلہ

آڈٹ رپورٹ عملدرآمد بینچ کے سامنے رکھی جائے گی, فیصہ

آڈیٹر جنرل پاکستان سالانہ آڈٹ رپورٹ تیار کر کے عملدرآمد بینچ کے سامنے پیش کریں گے,فیصلہ

منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سندھ حکومت کے حوالے کیا جائے گا,فیصلہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں