Clean and Green 11

”کلین اینڈ گرین“

اسلام آباد۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی تغیر کے مسئلہ سے نمٹنے اور پاکستان کو ”کلین اینڈ گرین“ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے، صرف پاکستان کے لئے 2030ءتک 20 فیصد گرین ہائوس گیس کے اخراج میں کمی کے ممکنہ ہدف کو پورا کرنے کے لئے 40 ارب ڈالر درکار ہوں گے، دنیا عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے برسر پیکار ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں ایک ریاست نے لاکھوں لوگوں کی آزادی کا حق سلب کر لیا ہے۔ بدھ کو دولت مشترکہ وزراءخارجہ ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کامن ویلتھ فورم ہماری مشترکہ تاریخ سے رچا ہوا، انفرادی اور اجتماعی طور پر کورونا عالمی وبا نے ہمارے مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور عزم کا امتحان لیا ہے، عالمی سطح پر آنے والے گریٹ ڈپریشن کے بعد سے آج ہم کو بدترین معاشی تنزلی کا سامنا ہے، اس وائرس نے کمزور اور نادار طبقات کو قدرے زیادہ متاثر کیا ہے۔ موسم سرما کا آغاز ہے جس سے اس وبا کے دوبارہ سر اٹھانے کے خطرات منڈلا رہے ہیں، حکومت پاکستان نے سماجی شعبہ کے لئے وسائل کو بڑھایا، اشتراک عمل اور متعین اہداف کے حصول پر کاربند ہوئے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ”سمارٹ لاک ڈاﺅن“ متعارف کرایا گیا، ان اقدامات کے باعث ہم کورونا وبا کے بدترین اثرات سے بچنے میں کامیاب رہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ترقی پذیر، غریب اور چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کے لئے ”قرض میں ریلیف کے عالمی اقدام“ کی اپیل کی جس پر مثبت ردعمل سامنے آنے پر ہم شکر گزار ہیں۔ بلاشبہ اس ضمن میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن بجا طور پر اس ضمن میں ابھی بہت کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری دانست میں دولت مشترکہ درج ذیل اقدامات سے اس ضمن میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔ پاکستان کے کامیاب تجربہ سے سیکھا جا سکتا ہے اور بہترین طریقوں کو استعمال کرکے اس ضمن میں مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ پروٹیکشن ازم پر قابو پانے اور آزاد تجارت جاری رکھنے کے لئے قانونی اور انتظامی طریقہ ہائے کار کے مشترکات کو استعمال کیا جائے۔ قرض میں ٹھوس رعایت کے لئے مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ معاشی بحالی موثر انداز میں ممکن ہو پائے۔ وزیراعظم عمران خان اور دنیا کے دیگر قائدین کی اس رائے کو وزن دیاجائے کہ ”عوام کی ویکسین“ ایسا نظام جس میں تمام علاج اور تشخیص ”مفت“ فراہم کی جائے اور ویکسین زیادہ مقدار میں بنائی جائے تاکہ دنیا بھر کے عوام اور ممالک کو یہ مفت میسر آئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ امر باعث تشویش ہے کہ عالمی وبا کے ساتھ ہی عدم برداشت، تشدد اور نسلی امتیاز کے رویوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ امر مختلف نفرت انگیز تقاریر، اسلام اور غیرملکیوں سے نفرت وبیزاری کے رویوں کے اظہار سے عیاں ہے۔دولت مشترکہ اور جدید دنیا کی تعمیر جن کلیدی اصولوں کی بنیاد پر ہوئی ہے، وہ قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق اورآزادیاں، کثیر القومیت کے نکات ہیں جو آج خطرات سے دوچار ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے برسرپیکار ہے جبکہ جنوبی ایشیاءمیں ایک ریاست مخصوص مذہب اور نسلی گروہوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے تاکہ معاشرے کے طبقات کو تقسیم کیاجائے ، ان میں رنجشیں اور نفرت پیدا کی جائے۔ اس ریاست نے لاکھوں لوگوں کی آزادی کا حق سلب کرلیا ہے، قومیت پرستی کی آگ کو ہوا دے رہی ہے، متازعہ خطوں میں غیرقانونی طورپرآبادی کے تناسب میں تبدیلی کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور خطے میںمسلسل کشیدگی بڑھا رہی ہے۔ ہم خود کو خطرے میں ڈال کر اس کی جارحیت نظرانداز کررہے ہیں۔ پاکستان نسل پرستی پر دولت مشترکہ کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ درست طورپر اس کے ذریعے دنیا کی توجہ اس بڑھتے ہوئے عفریت کی طرف دلائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ، ساتھ پاکستان دولت مشترکہ کی صنفی اور جنسی تشدد کے خلاف ”نو مور“ کمپین کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ وزیر خارجہ نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ کوئی ملک ماحولیاتی تغیر سے محفوظ نہیں۔ پھر بھی ترقی پزیر ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ گلوبل گرین ہاﺅس گیس کے اخراج میں پاکستان کا اگرچہ حصہ انتہائی محدودہے لیکن اس کے باوجود ماحولیاتی تغیر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ فوری طورپر ماحولیات سے متعلق اقدامات کئے جائیں، اس کے تدارک کے لئے سوچا جائے اور اس پر عمل کیاجائے۔ مساوات اور مشترک نکات، متعین ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں کی بنیاد پر جب تک اقدامات نہیں ہوں گے، کوئی پائیدار نتیجہ ہر گز نہیں نکل سکتا جیسا کہ پیرس معاہدہ میں بیان ہوا ہے۔ فوری اور جامع ماحولیاتی ایجنڈا پر موثر عمل اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب وہ ناگزیر ضروریات کے مطابق اور واضح اہداف کا بیان کرے جبکہ اس مقصد کے لئے ’نئے اور اضافی‘ ماحولیاتی وسائل بھی مہیا ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک کو عہد کرنا ہوگا کہ سالانہ 100 ارب ڈالر مہیاکریں تاکہ ماحولیاتی خطرات کے مقابلے کے لئے اقدامات کو پورا کیا جا سکے۔ صرف پاکستان کے لئے 2030 تک 20 فیصد گرین ہاوس گیس کے اخراج میں کمی کے ممکنہ ہدف کو پورا کرنے کے لئے 40 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ”کلائمیٹ فنانس ایکشن حب“ سمیت ماحولیات سے متعلق دیگر اقدامات پر دولت مشترکہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ اپنے حصے کے طورپر پاکستان ماحولیاتی تغیر کے مسئلے سے نمٹنے اور پاکستان کو ”کلین اینڈ گرین“ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ ہم نے قومی سطح پر ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لئے اقدام”ایکو سسٹم ریسٹوریشن اینی شی ایٹو“ کا آغاز کردیا ہے۔ دیگر سرگرمیوں کے علاوہ اس اقدام کا مقصد آنے والے تین سال میں پاکستان بھر میں10 ارب درخت لگانا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (ای۔وی) کی پالیسی کا مقصد2030ءتک شاہراہوں پر رواں 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں سے تبدیل کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں