Upper house 7

ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کا اجلاس

اسلام آباد ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں احساس انڈر گریجویٹ سکالرشپ پروگرام کے بجٹ،مستقبل کے منصوبہ جات، پالیسی اور صوبہ وائز تفصیل کے علاوہ پناہ گاہوں کے حوالے سے پالیسی بجٹ اور مستقبل کے منصوبہ جات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔
قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری بسپ اور ایڈوائزر انسانی وسائل ایچ ای سی نے بتایا کہ احساس انڈر گریجویٹ سکالرشپ پروگرام ہائر ایجوکیشن اور بسپ کا مشترکہ پروگرام ہے۔ پالیسی اور فنڈنگ بسپ کی ذمہ داری ہے جبکہ وظائف کے حوالے سے عملدرآمد ہائر ایجوکیشن کا کام ہے اس پروگرام کا بجٹ 27.93ارب روپے ہے یہ غریب اور کم آمدن والے طالبعلموں کیلئے مخصوص کی گیا ہے 50فیصد بچیوں اور 2فیصد معذور افراد کے لئے کوٹہ مختص ہے 45ہزار سے کم آمدن والے وظائف حاصل کرنے کے اہل ہیں اس کیلئے 125 پبلکیونیورسٹیوں میں درخواستیں دی جا سکتی ہیں پرائیویٹ یونیورسٹی اور پبلک سیکٹر کے سلف فنانس والے طالبعلموں کیلئے یہ سہولت نہیں ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019میں 50762طالبعلموں کو اس پروگرام کے تحت وظائف دیئے گئے۔ آن لائن درخواستیں 1لاکھ 32ہزار درخواستیں وصول ہوئی تھیں یہ چار سے پانچ سالہ ریگولر انڈر گریجویٹ ڈگری کا پروگرا م ہے فی بچہ 40ہزار روپے وظیفہ مختص ہے اور مالی سال 2019-20کیلئے 4.8ارب روپے کے وظائف دیئے گئے 5ستمبر سے 30اکتوبر2020 تک درخواستیں دی جا سکتی ہیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ آن لائن درخواستوں کیلئے پورے ملک میں سہولت میسر نہیں ہے دیگر ذرائع بھی استعمال کرنے چاہئے اور خاص طور پر پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے مقامی اخبارات میں وظائف کے حوالے سے اختیارات دینے چاہئے۔ قائمہ کمیٹی نے پروگر ام کے بجٹ بڑھانے اور وظائف کی رقم میں اضافے کی سفارش کر دی۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اعلیٰ سرکاری تعلیمی اداروں میں جس طرح فیسوں میں اضافہ ہو چکا ہے وہ مڈل کلاس کے فیملی کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا خواب بن گیا ہے۔ اعلیٰ سرکاری تعلیمی ادارے پیسے کمانے کی فیکٹریاں نہ بنے بلکہ عوام کو سستی اور معیاری تعلیم دینے کا مرکز بنے۔ انہوں نے کہا کہ وظائف دینے سے چند بچوں کا فائدہ ہو سکتا ہے حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فیس کم کرا کے غریب عوام کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پنا ہ گاہوں کے حوالے سے پالیسی، تخمینہ، مستقبل کا منصوبہ، صوبائی اور علاقائی بنیاد پرپنا گاہوں کے قیام کے معاملات کا تفصیل جائزہ لیا گیا۔ ایم ڈی بیت المال اور سیکرٹری بیت المال نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پوری دنیا میں 150ملین لوگ بے گھر ہیں۔ اسلام آباد میں پانچ پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں پناہ گاہ میں ون سٹار ہوٹل کی سہولیات ہیں۔ اسلام آباد کی پنا ہ گاہوں میں 86646لوگ آئے جن میں سے 77550نے کھانا کھایا اور 9096نے قیام کیا ایک آدمی تین دن کیلئے قیام کر سکتا ہے۔ پنا ہ گاہ میں ضرورت مند اور مستحق افراد کیلئے بہترین کھانا اور رہائش فراہم کی جاتی ہے اس سہولت سے مستفید ہونے والے افراد میں بے گھر، گھروں سے دور، بے روزگار، مزدور، غریب، مسافر، تیماردار، اور طلباء وغیرہ شامل ہیں۔ ایک پناہ گا ہ میں 100افراد کے لئے رات کا قیام اور چار سو افراد کیلئے لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پناہ گاہ میں صفائی ستھرائی کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق یقینی بنایا گیا ہے۔ باہمی تعاون کو پائیدار اور خود کفیل بنانے کیلئے نجی شعبے کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور بیت المال کی منظوری سے عطیات قبول کرنے کیلئے شفاف اور آسان طریقہ بنایا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں 59پناہ گاہیں ہیں، اسلام آباد میں پانچ، سندھ اور بلوچستان میں جلد بیت المال پناہ گاہیں قائم کرے گا، لاہور میں تین پنا ہ گاہیں ہیں اور دس مزید کھولیں جائے گی۔قائمہ کمیٹی نے آبادی کے تناسب سے پناہ گاہیں کھولنے کی سفارش کر دی۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ بیت المال کا بجٹ بھی بڑھایا جائے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔ بیت المال مریضوں کے علاج معالجے میں بہتری خدمات سرانجام دے رہا ہے بجٹ بڑھانے سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز روبینہ خالد، لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)، ثمینہ سعید مرزا محمد آفریدی، ڈاکٹر آصف کرمانی، نگہت مرزا، انجینئر رخسانہ زبیری کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری برائے غربت میں کمی و سماجی تحفظ، ایم ڈی پاکستان بیت المال، سیکرٹری بسپ، ایڈوائزر ایچ ای سی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں