Sardar Usman Bazdar 11

بیٹے پر تشدد کیخلاف فریاد لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس گیا، ن لیگی ایم پی اے

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی پاداش میں مسلم لیگ ن کی رکنیت سے ہاتھ دھونے والے ممبر پنجاب اسمبلی (ایم پی اے) مولوی غیاث الدین نے کہا ہے کہ بیٹے پر تشدد کے خلاف فریاد لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔

ہم نیوز سے خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد پارٹی کی جانب سے شو کاز نوٹس ایشو کیا گیا تھا جس کا جواب میں پہلے ہی دے چکا ہوں مگر پھر بھی آج مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شوکاز نوٹس کا جواب دینے کے باوجود میرا موقف سنے بغیر مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا۔

مولوی غیاث الدین نے کہا کہ ڈی پی او نارووال نے میرے بیٹے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بارے میں فریاد لے کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عثمان بزدار کے پاس شکایت نہ لے کر جاتے تو کہاں جاتے؟ پارٹی رہنماؤں کو اپنی پریشانی کا بتایا مگر انہوں نے کوئی مدد نہیں کی۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مولوی غیاث الدین کا کہنا تھا کہ ہمارے کچھ لیڈر بیرون ملک چلے گئے ہیں جب کہ کچھ جیل میں ڈال دیے گئے ہیں ہم کس کے پاس فریاد لے کر جائیں؟

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے اپنے 5 ارکان کو پارٹی سے نکالنے کافیصلہ کرلیا ہے۔

قیادت کی منظوری سے پارٹی سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی سے نکالے جانے والے اراکین پنجاب اسمبلی میں اشرف انصاری، جلیل شرقپوری، فیصل نیازی، نشاط ڈاہا اور مولوی غیاث الدین شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے ارکان کے خلاف کارروائی مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کے دستخطوں سے عمل میں آئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی ووٹنگ میں غیرحاضر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمان کے ارکان کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف ووٹنگ کے دوران نہ آنے والے پارٹی ارکان سینٹ اور قومی اسمبلی کو بھی شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں جن میں راحیلہ مگسی، کلثوم پروین، دلاور خان اور شمیم آفریدی شامل ہیں۔

سینٹ میں پارٹی ارکان کو شوکاز نوٹس ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق کے دستخطوں سے جاری ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں