Sardar Masood Khan 14

کشمیر اور فلسطین امت مسلمہ کے جسم کے رستے ہوئے ایسے زخم ہیں،، سردار مسعود خان

آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کشمیر اور فلسطین امت مسلمہ کے جسم کے رستے ہوئے ایسے زخم ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو گھائل کر رکھا ہے۔ دونوں خطوں کے عوام کو نسل کشی کا سامنا ہے اور ان کے قومی ثقافت اور سیای حق خود اختیاری کو منظم طریقے سے پامال کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسیٹیوٹ آف ا سٹیریٹیجک ا سٹیڈیز کے سنٹر فار مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کے زیر اہتمام “کشمیر اور فلسطین میں مقامی ثقافتی ورثے کی تباہی”کے عنوان سے ایک دیبی نار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مڈل ایسٹ مانیٹر کے تعاون سے ہونے والی اس ویبی نار سے فلسطین لینڈ سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر سیلمان ابو ستا، سابق ڈائریکٹر فلسطین میوزیم ڈاکٹر محمود حواری، برطانیہ کی وزارت خارجہ اور دولت مشترکہ کے سابق ڈپٹی لیگل ایڈوائزر کوئن چیمبر لین، ممتاز کشمیری حریت پسند یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم اقبال اور قائدا عظم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمی ملک نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل نے امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کی مدد اور حمایت سے فلسطینی علاقوں خاص طور پر دریائے اردن کے مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنانے کے لئے نئی آبادیاں تعمیر کی اور اسی طرح بھارت نے گزشتہ سال 05اگست کے روز مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں کے اپنی دھرتی پر حق کو غصب کرنے کے لئے ایک گہری سازش کی۔ کشمیر اور فلسطین کے مسائل میں مماثلت کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہ دونوں مسئلے ایک ہی وقت میں اقوام متحدہ میں گئے اور دونوں مسائل سامراجی نو آبادیاتی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلہ کو وہ توجہ نہیں ملی جو فلسطین کو حاصل ہے کیونکہ فلسطین کو اقوام متحدہ نے ایک مبصر کا درجہ حاصل ہے جبکہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں براۂ راست نمائندگی کا حق نہیں ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کوبھارت کے ہاتھوں بدترین نسل کشی کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی تنظیم جینوسائڈ انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر نسل کشی کے اعتبار سے آٹھویں سٹیج پر ہے اور اگلے دو اسٹیج انکے مکمل خاتمہ پر منتج ہو سکتے ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی ہندوتوا کے نظریہ پر چلتے ہوئے کشمیر سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے کشمیر کے مقامی باشندوں کو قتل کیا جا رہا ہے، ان کو اپنی پہچان سے محروم کیا جا رہا ہے اور اس طرح بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو ان کے لسانی ورثہ سے محروم کرنے کے لئے کئی زبانوں کو متعارف کروایا ہے تاکہ لوگ اردو زبان سے دور ہو جائیں جو برصغیر کے مسلمانوں کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخی عمارات،سڑکوں اور جگہوں کے ناموں کو تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ ہندو انتہا پسند یہ جھوٹا دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ مندر تھے جو مسلمانوں نے تباہ و برباد کر دئیے اور اب وہ انہیں دوبارہ تعمیر کریں گے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کئی مساجد کو بھارتی انتہا پسندوں نے نشان زدہ کر رکھا ہے تاکہ وہ انہیں گرا کر مندر تعمیر کریں۔ بھارتی حکومت مسلم اکثریت کی اس ریاست میں ہندو ثقافت متعارف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسلامی ثقافت کو مٹانے کی سازش کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی مذہبی رسومات آزادی کے ساتھ ادا کرنے کی اجازت ہے اور نہ انہیں مذہبی اہمیت کے حامل دن منانے کی اجازت ہے جس کی تازہ ترین مثال عاشورہ محرم کے دوران ماتمی جلوسوں پر پابندی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمیں فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنے کی مسلسل کوششیں جاری رکھنی چاہیے اور کشمیر اور فلسطین کے تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کی حفاظت کے لئے یونیسکو اور ایسکو جیسے اداروں تک رسائی حاصل کر کے ان کی مدد حاصل کرنی چاہیے۔ ہمیں فلسطین اور کشمیر کو بین الاقوامی سول سوسائٹی کی عالمی تحریک بنانا ہو گا تاکہ بھارت اور اسرائیل پر دباؤ بڑھائے جائے اس کے ساتھ ساتھ ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہندوتوا اور صہونیت کے نظریات کو بے نقاب کریں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ صدی میں یہودیوں کے ساتھ نازیوں نے جو کچھ کیا آج وہی کچھ یہودی فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں اور اسرائیلی فلسطین میں جو کچھ کر رہے ہیں وہی کچھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں