Parliament Lodges Position 30

چیئرمین سینیٹر شمیم آفریدی کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر شمیم آفریدی کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا جس میں نیلم جہلم توانائی منصوبے، ہری پور میں گڈوالیہ ڈیم سے پانی کے رسنے اور ضائع کے معاملے، ضلع دکی میں دریائے تھل سے نکلنے والی ندیوں کی تعمیر اور مرمت اور سیلابی ریلوں سے تحفظ کیلئے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبے کے متاثرین کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے اور ادارے متاثرین کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ رویہ اختیار کریں۔ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے کہا کہ نیلم جہلم توانائی منصوبہ انتہائی اہم ہے اور ملک کیلئے معاشی،سماجی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم رکھتا ہے تاہم اس کے متاثرین آج داد رسی کے منتظر ہیں اور حکومتی مشینری تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2007میں ایک معاہدہ ہوتا ہے اور 2009میں دوسرا معاہدہ کیا جاتا ہے جبکہ عملی اقدام کسی ایک بھی معاہدے مطابق نہیں اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ادارے اپنی ذمہ داری قبول نہیں کر رہے اور کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا جا رہا۔انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ متاثرین کو نہ تو مناسب طور پر دوسری جگہ شفٹ کیا گیا اور نہ ہی انہیں کوئی مالی معاوضہ دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے 2009میں ہونے والے معاہدے کی تمام تر تفصیلات ایک ہفتے کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے متاثرین اور حکومتی اداروں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ حقائق کا جاننا انتہائی ضروری ہے اور متاثرین کی مشکلات کو کم کرنا ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
کمیٹی میں سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے ضلع ہری پور میں گڈوالیہ ڈیم سے پانی رسنے کے معاملے پر واپڈا اور متعلقہ حکام کے موقف کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ ڈیم سے پانی کا مسلسل اخراج انتہائی خطرناک مسئلہ ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ مناسب اقدام بروقت کر لئے جائیں۔ سینیٹر شمیم آفریدی نے ہدایات دیں کہ ڈیم کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے اور جو مسائل ہیں انہیں فوری طور پر حل کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیم کا اگست کے مہینے میں جائزہ لیا گیا تھا اور ماہرین کی موجودگی میں مناسب اقدامات کیلئے حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال تک اس بہاؤ کو مونیٹر کیا جائے گا اور اسی کے تحت مناسب اقدامات اٹھانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔
ضلع دکی میں دریائے تھل سے نکلنے والی ندیوں کی تعمیر اور مرمت اور سیلابی ریلوں سے تحفظ کیلئے اقدامات پرزور دیتے ہوئے سینیٹر سردار محمد شفیق ترین نے کہا کہ تھل کاایک بہت بڑا حصہ اس دریا سے نکلنے والی ندیوں سے سیراب ہوتا ہے تاہم بعض اوقات سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور حفاظتی پشتے کمزور ہونے کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں تباہ اور مکا ن منحدم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پانی بھی ضائع ہو جاتا ہے اور عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کمیٹی نے ہدایات دیں کہ اس سلسلے میں جلد پی سی ون متعلقہ وزارت کے ذریعے بھیجا جائے تا کہ نیشنل فلڈ کمیشن اس سلسلے میں مناسب اقدامات اٹھا سکے۔متعلقہ حکام نے بتایا کہ یہ تمام معاملات ہماری ترجیح میں شامل ہیں اور اس پر کافی پیش رفت ہو چکی ہے جس پر کمیٹی کو اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز سید محمد صابر شاہ، آغا شاہزیب درانی اور سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ وزارت توانائی، واپڈا کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں کے علاوہ متاثرین کے نمائندوں نے شرکت کی۔