Sardar Masood Khan 9

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان

اسلام آباد آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں بھارت کے ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے بھارت خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو دھمکیاں دینے اور خوف زدہ کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب جناب منیر اکرم کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاسوں کی پلینری سالانہ رپورٹ میں سامنے آنے والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بی جے پی، آر ایس ایس حکومت ایک منظم منصوبہ بندی سے مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری ہندووں کو آباد کر کے مقامی مسلمان آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں مسلمان کمزور اور حق رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ہندو توا کے فسطائی نظریے کے پیروکاروں کی دہشتگردی اور مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوششوں کا فی الفور نوٹس لے۔ صدر آزاد کشمیر نے بھارتی حکومت کی طرف سے گزشتہ ایک سال سے جاری لاک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ جموں وکشمیر میں لاک ڈاؤن کی آر میں کشمیریوں کے قتل عام اور پر امن شہریوں کو گرفتار کر کے اُنہیں جیلوں میں بند کرنے میں مصروف ہے۔بھارتی حکومت کے اپنے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں آٹھ ہزار چھ سو چونسٹھ شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا گیا اور محاصرے اور تلاشی کے آپریشن کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کو شہید کر کے ایسی نا معلوم قبروں میں دفن کیا گیا جو کشمیر کے طول و عرض میں آج بھی موجود ہیں۔ اُنہوں نے اپنے اس موقف کو پھر دہرایا کہ بھارت نواز نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کشمیریوں کے قتل عام میں شریک جرم ہیں اور اُن کی اقتدار سے محرومی کے بعد کشمیریوں سے ہمدردی جتانا بے معنی اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اِن جماعتوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کو قتل کرنے، اُنہیں معذور کرنے اور نوجوانوں کو آنکھوں کی بینائی سے محروم کرنے جیسے جرائم پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ صدر ریاست نے بھارت کی خفیہ ایجنسی این آئی اے کی طرف سے سرینگر میں کراس ایل او سی ٹریڈ سے وابستہ تاجروں کے گھروں میں چھاپے مارنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت حکومت کے یہ اقدامات ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ کشمیریوں کو معاشی طور پر دست نگر بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ دریں اثنا آزاد کشمیر کی گریس وادی میں بھارتی فوج کی طرف سے آزاد کشمیر کی شہری آبادی پر بلا اشتعال اور بلا جواز فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی حکومت لائن آف کنٹرول پر صورتحال کو کشیدہ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اندر اپنی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے ان بزدلانہ اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو تحریک آزادی جاری رکھنے سے باز رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی حمایت سے روکا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں