Multan 20

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا،،،

ملتان ۔ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ حضرت امام حسین کے فلسفہ شہادت کوسمجھنا وقت کی ضرورت ہے ۔ حسینیت کا فلسفہ انسان کو خوف سے آزادی دلاتا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام اسی فلسفے پرعمل کرکے جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں، ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز رضا ہال ملتان میں42ویں سالانہ حسینیہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں آج عزاداری اور محرم کے جلوسوں پر پابندی ہے، وہاں مذہبی آزادی پر بھی قدغن ہے اور عید کی نماز کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔انسانی حقوق کے علمبرداروں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لینا ہوگا۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بتادیاکہ اب ان کی منزل جبر سے آزادی ہے۔بھارت نے جس طرح کشمیریوں کی آواز دبائی وہ پوری دنیا نے دیکھا۔ مقبوضہ کشمیر میں بلیک آوٹ مسلسل جاری ہے۔ کشمیری جفا کشوں نے بھارت کی ہر پیشکش ٹھکرا دی، کشمیریوں نے بھارت کو پیغام دے دیا کہ ہماری منزل آزادی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں محرم الحرام کے جلوسوں پر پابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں محرم الحرام کے جلوس اور عزاداری پر پابندی کیوں ہے، ہم جواب چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حسینیہ کانفرنس کا یہ اجتماع رواداری اور محبت کا پیغام دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ معاشرے میں تفریق پیدا کرنے والے عناصر کے عزائم کوناکام بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔فرقہ واریت کے خاتمے اور ہم آہنگی کے فروغ میں علما کرام اور مشائخ کا اہم کردار ہے۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہحضرت امام حسین کی شہادت کا فلسفہ حق کیلئے ڈٹ جانا ہے، ہر زمانہ حسین کا ہے، آخری فتح حق کی ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ حضرت امام حسین کے فلسفہ شہادت کو تمام مذاہب تسلیم کرتے ہیں۔حضرت امام حسین نے یہ عظیم قربانی دے کر ہمارے لیے راستے کا تعین کردیا۔ہمارے لیے یہ آسانی پیدا کردی کہ جب ہم کوئی فیصلہ کرلیں تو پھراس پرڈٹ جائیں۔حق کاساتھ دیں اور اس کے لیے جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کریں۔انہوں نے کہاکہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ آج حضرت امام حسین کی یاد کورونا سے نجات کے ماحول میں منائی جارہی ہے۔فرض کریں کہ آج اگرلاک ڈائون ہوتا تو کیا صورتحال ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ ماہرین کے خدشے کے مطابق آج ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد 20 لاکھ ہونی چاہیے تھی لیکن اللہ کا کرم ہوا اور آج پاکستان میں 91 فیصد وینٹی لیٹرز خالی ہیں، اسپتالوں میں خصوصی وارڈز پر دباؤ نہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ماہرین کورونا وائرس کنٹرول کرنے پر پاکستان کی کیس اسٹڈی کرنا چاہتے ہیں، کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔ خدشہ ہے کہ سردیوں میں کورونا کی دوسری لہر آسکتی ہے اس لیے احتیاط کرنا چاہیے۔کراچی کی صورتحال پربات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کراچی کے لیے دعا کریں، آج کراچی والے مشکلات سے دوچار ہیں، وہاں سیوریج ، نکاسی اور پانی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، کراچی میں انتظامیہ نے اپنی تجوریاں بھریں اورشہر کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔کراچی میں کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں