Siraj ul Haq 26

مری ہر جگہ کرپشن عروج پر کوئی پوچھنے والا نہیں سراج الحق،،،،

مری مدینہ کی ریاست کا تصور پیش کرنے والوں نے قوم کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے،ہرطرف کرپشن اور ناانصافی کو دوردورہ ہے موجودہ حکومت نے اقتدارمیں آنے سے پہلے جو وعدے کئے تھے کوئی بھی پورا نہیں کیا یوٹرین ان کا منشور ہیں عوام کو مہنگائی،لاقانونیت،ظلم وجبر کے سوا کچھ نہیں دیا،ہماری عدالتوں میں آج بھی انگریزی نظام ہے،تعلیم کا فرسودہ نظام،جبروظلم،استحصال اور سود کی معیشت ہے جو اسلام نفاذ سے متصادم ہے، موجود حکومت نے ملکی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر سب کو مایوس کیا،ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے لاکھوں افراد کو بیروزگار کردیا ہے،لاتعداد فیکٹریاں اور کارخانے بند ہوگئے ہیں موجود تحریک انصاف کے وزیر اعظم نے پاکستانی عوام سے حالات کو ٹھیک کرنے کیلئے 100دن مانگے تھے اور پھر چھ ماہ کا وقت مانگا گیا کہا تھا انکاکہنا تھا کہ جو تنقید کرنا ہے کرے جو وعدے کئے ہیں پورے ہونگے حکومت کے سرپرستوں نے پاکستان کے عوام کو 100 دنوں اورچھ ماہ گزرنے کے باجود پاکستانی عوام کیلئے کچھ نہیں کیاالٹا قوم پر ایک عذاب بن چکے ہیں اس حکومت کاکام صرف تنقید کرنا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ دوسال کے عرصے میں صرف مہنگائی، بیروزگاری،کرپشن اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے جماعت اسلامی نے ہمیشہ اسلامی نظام کے نفاذ،عدل وانصاف کی فراہمی پاکستان کے عوام کے حقوق کی بات کی ہے ہم یہ سمجھتے ہیں اگر پاکستان کے عوام موجود حکومت سے نجات چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ استحصالی نظام کا خاتمہ ہوسکے ان خیالات کا اظہارامیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے گذشتہ دن دختران اسلام اکیڈمی مری بانسرہ گلی مری میں گرینڈ شمو لیتی پروگرام کے موقعہ پر ایک بڑے اجتما ع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر 300 سے زائد خاندانوں نے پی پی پی،مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو چھوڑ کر جماعت اسلامی شمولیت کا اعلان کیا امیر جماعت اسلامی نے خاندانوں کے سربراہوں کو جماعت اسلامی کے پرچم والے اسکارف بھی تقسیم کئے اس سے قبل انہوں نے مری اورکوٹلی ستیاں کے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سوالوں کے جواب نے دیتے ہوئے کہا اس حکومت کی ناکام پالیسوں کی وجہ سے مودی نے الیکشن میں اپنی عوام سے جووعدے کئے تھے ان پرعمل کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے کشمیر کوباضابطہ طور پر اپنے ملک میں شامل کر لیا،مودی نے بابر ی مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا وعدہ کیاتھا جو وہ بابر مسجد کی جگہ پر تعمیر کر رہا تھا اور آزاد کشمیر کو انڈیا میں شامل کرنا تھا جس کے لئے مودی کوششیں اور سازشیں کر رہا ہے جبکہ ہماری حکومت بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کی تاریخی مسجد کے قریب مندر تعمیر کر رہی ہے جو کسی بھی لحاظ سے ٹھیک بات نہیں ہے اور نہ ہی کسی ہندؤنے اسلام آباد میں مند کی تعمیر کاکہاہے انہوں نے کہا کہ ہم اس کے حامی ہیں کہ ہندؤ ہماری اقلیت ہیں ان کے حقوق انکو آئین کے مطابق ملنے چاہیے، بعدازاں جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرنیوالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا جولوگ جماعت اسلامی شامل ہوئے ہیں وہ اپنے اردگرد کے لوگوں اور عزیز اقارب کو بھی بتائیں کہ ہم نے تمام جماعتوں سے مایوس ہوکرجماعت اسلامی میں شمولیت اخیتارکی ہے کیونکہ اسلام کاففاذکرنے والی اور عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے اور قوم پر مشکل وقت زلزلہ،سیلاب،کوروناوائر س یا کوئی کوئی آفت آئے قوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے انہوں نے وعدہ لیا کہ آج کے بعد ہماری ہرکوشش اور عمل اسلامی نظام نفاذ کیلئے ہوگا انہوں نے جماعت اسلامی میں شامل ہونے والوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لوگوں نے نے بتایا کے مری کے بہت سے مسائل ہیں جن نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روز گار ہے یہاں لوگوں سے الیکشن سے قبل گیس فراہمی کا وعدہ کیا گیا لیکن مخصوص لوگوں کو گیس فراہمی کی جارہی ہے،یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ کیا گیاتھا لیکن پورا نہیں کیا جارہا، آج کرپٹ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ بن گے ہیں آج حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پرمعاشی پالیساں بنا کر آئی ایم ایف کو خوش کررہی ہے جس پر اپوزیشن بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے ہم نے قومی اسمبلی سمیت ہرفورم پر اپنے حصہ کا کردار ادا کیا ہے حکومت کی دوسالہ کارگردگی انتہائی مایوس کن ہے جس کی مثال یہ 8 سوارب روپے ترقیاتی کاموں کے لئے دو ہزار نو سو انیتس ارب روپے سود ادا کرنے کیلئے بجٹ میں رکھے گئے ہیں،12 سو ارب متاثرین کوروناکیلئے رکھا گیا تھا کسی کو نہیں دیاگیاجبکہ جو امدادی رقوم بیرون ممالک سے ڈالروں کی شکل میں آئی اس میں سے صرف 13 فیصد متاثرین کو دیاگیا بقایا کو بجٹ میں شامل کرلیاگیا، آج چینی کی قمیت 110 ہے جوپہلے 56 روپے کلو تھی یہ مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے جس کے خلاف جماعت اسلامی آواز بلند کر رہی ہے، اسد عمر، شیخ رشید اورشیرین مزاری نے کہاہے کہ صرف مہنگائی ہوئی ہے لیکن بہتری بھی کئی شعبوں میں آئی ہے انہوں نے کہا کہ ہم مرغی والی مثال نہیں بنیں گے جودانے پر جھک جاتی ہے ہم ااس استحصالی نظام کیخلاف ہیں اور اس کے خلاف جہدوجہد کرتے رہے گیں،گرینڈشمولیتی پروگرام سے جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکرٹری امیرالعظیم،امیرصوبہ پنجاب ڈاکٹر طارق سیلم، لیبرفیڈریشن جماعت اسلامی کے صدرشمس الرحمن سواتی، امیر عتیق احمد عباسی غلام احمد عباسی حافظ شکیل عباسی الخمدمت ونگ عبد اسلام عباسی ادریس عباسی عبدالعیلم عباسی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں