Volunteer 17

عوام اپنی مدد آپ کے تحت رضاکارانہ طور پر تیس کلو میٹر سڑک خود بنا رہے ہیں،،،

چترال(گل حماد فاروقی) ضلع اپر چترال کے تحصیل مستوج کے سینکڑوں عوام نے پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی کے قیادت میں مستو ج کا تیس کلومیٹر سڑک اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کرنا شروع کیا۔ اس سے قبل مستوج پل کے قریب ایک محتصر تقریب ہوئی جس میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل نے کہا کہ چونکہ اس پورے اپر چترال کے ضلع میں ایک کلومیٹر سڑک بھی پحتہ نہیں ہے جس سے نوجوان طبقے میں مایوسی اور بغاوت کا لاوہ ابلنے کا حدشہ تھا اسلئے میں چاہتا ہوں کہ ان مایوس نوجوانوں کی جذبات کو مثبت کام کی طرف راغب کروں تاکہ یہاں بلوچستان اور بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا نہ ہو۔دعائیہ کلمات کے ساتھ اس مہم کا آغاز کردیا گیا۔
مستوج کے سینکڑوں اپنے کودال، بلچے، ٹریکٹر، ٹرالی اور دیگر سامان لے کر سڑک کی جانب جلوس کی شکل میں روانہ ہوئے۔ ان رضاکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس تیس کلومیٹر سڑک کی مرمت اور تعمیر خود شروع کیا۔
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے پروفیسر اسماعیل نے کہا کہ ہم حکومت کی ریڈ کو چیلنج نہیں کرتے اور نہ ہی ہم حکومت کے حلاف کوئی بغاوت کرتے ہیں بلکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور اب پاکستان کے معاشی حالات کمزور ہیں اسلئے ہم حکومت کے ساتھ مدد کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں اس سڑک کی مرمت ہوں گی اور اس کے بعد اس پر تارکول ڈال کر اسے پحتہ کیا جائے گا۔ ابھی تک ہم نے کسی سے چندہ نہیں مانگا تاہم اگر کوئی اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہے تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
سابق تحصیل ناظم شہزادہ سکندر الملک نے کہا کہ پچیس سال پہلے اس سڑک کو ہم نے خود بنایا تھا اور ہم حکومتی اداروں کو چشم براہ تھے کہ شائد وہ آکر ہمارا مدد کرے گا مگر پچھلے بیس سالوں میں کسی بھی حکومت نے بھی اس سڑک پر توجہ نہیں دی اور ہم مجبور ہوکر اپنی مدد آپ کے تحت اس سڑک کو بنارہے ہیں اور اس کو بنی گالہ تک پہنچاکر وزیر اعظم عمران خان کو بلائیں گے کہ آئے ہم نے سڑک خودبنایا اور وہ اس کا افتتاح کرے۔
حاصل مراد ایک سماجی کارکن ہے اس کا کہنا ہے کہ حکومت نے بیس پچیس سالوں سے اس سڑک کو نہیں بنایا یہ سڑک نہایت تنگ ہے اور کچہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں بہت زیادہ کھڈے ہیں اور کئی گاڑیاں گہرے کھائی میں گر کر حادثات کے شکار ہوئے جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔
ایک اور سماجی کارکن صوبیدار حاصل مراد نے کہا کہ چترال پہلے آزاد ریاست تھا اور ہم نے خود پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے حواہش ظاہر کی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک ہورہا ہے۔
پروفیسر اسماعیل کا کہنا ہے کہسیاحت کے تمام مقامات تحصیل مستوج میں موجود ہیں اس حطے میں شندور، بروغل جیسے خوبصورت وادیاں واقع ہیں جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں مگر وہ کئی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ علاقے کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی مدد آپ کے تحت اس سڑک کو بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر کیلئے کئی لوگوں نے اپنی پوری تنخواہ، اور پنشن یافتہ لوگوں نے دو ماہ کی پنشن، خواتین نے اپنی زیورات بیچ کر اس میں چندہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم اس سڑک کی تعمیر کیلئے ایک ڈونر کانفرنس بھی بلائیں گے۔
اس علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک سماجی خاتون سائمہ ایوب نے کہا کہ بونی سے آگے ایک کلومیٹر سڑک بھی پحتہ نہیں ہوا ہے۔ اس تنگ اور حطرناک سڑک پر گزرتے ہوئے کئی حادثات پیش آچکے ہیں اور حاص کر خواتین ہسپتال پہنچنے سے پہلے اکثر خواتین فوت ہوجاتی ہیں حاص کر زچگی کے دوران ان خواتین کو اس سڑک پر ہسپتال پہنچانا نہایت حطرناک ہے۔
بسمہ عزیز ایک کالج کی طالبہ ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ جب اس سڑک پر کالج جاتی ہیں تو بہت ڈر لگتا ہے کیونکہ ہمارے سامنے کئی حادثات پیش آئے ہیں اور گاڑی سینکڑوں فٹ نیچے گہرے کھائی اور دریا میں گرنے سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں اور مخٰیر حضرات سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ اس سڑک کی تعمیر میں ان کے ساتھ مدد کیاجائے یا حکومتی ادارے سی اینڈ ڈبلیو یا این ایچ اے آکر اس کی تعمیر خود کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں