Opposition uproar 19

صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب*

میں آج اس ایوان کو دوسرے پارلیمانی سال کی تکمیل پر تہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ مجھے آج تیسری مرتبہ اس عظیم پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے مخاطب ہونے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے اور میں اس پر اللہ سبحان و تعالیٰ کا شکرگزار ہوں۔ بلاشبہ پارلیمان کا یہ اجلاس انتہائی غیر معمولی حالات میں منعقد کیا جا رہا ہے۔
کورونا وبا اور حکومتی اقدامات:
معزز اراکینِ پارلیمان!
قوموں کی زندگی میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے اثرات سے تاریخ کا دھارا موڑ دیتے ہیں۔ پاکستان بھی ایسے ہی ایک موڑپرہے۔
یہ اچھا موقع ہے کہ ماضی قریب کے واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہوئے پچھلے ایک سال کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ کیا سیکھا ، کیا کیا؟ اچھا یا برا کیا اور کیا کرناہے؟ اور مستقبل کے راستوں کا تعین کریں۔
تین چیزیں صرف گنوادوں جن کی تفصیل سے آپ سب واقف ہیں اور ان چیلنجز پر پوری قوم نے کامیابی سے قابو پایا۔
۱۔ دہشت گردی کا مقابلہ
۲۔ افغان مہاجرین
۳۔ اپنے اندر انتہا پسندی کا مقابلہ
خواتین و حضرات!
جب یہ حکومت آئی تو قرضوں کا کمر توڑ بوجھ اس کو ورثے میں ملا۔ کرپشن کا بازار گرم تھا اور معیشت بڑی تیزی سے زوال پذیر تھی ۔ پہلے سال میں ایسی چیزوں کا فیصلہ کرناجیسا کہ آئی ایم ایف کے پاس مذاکرات کیلئے جانا ہے یا نہیں ، ایک بڑا فیصلہ تھا۔جو فیصلے کیے گئے ان کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔میں بعد میں اس کی تفصیل بتاؤں گا۔
خواتین و حضرات!
آپ جانتے ہیں کہ کورونا وبا نے وطن ِ عزیز کے تمام شعبہ ہائے زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں مگر قوم کے مثالی نظم و ضبط اور حکومت کی بہترین اسمارٹ لاک ڈاون پالیسی کی بدولت اس چیلنج پرکافی حد تک قابو پالیا گیا۔میں اس موقع پر اپنے ہم وطنوں کی ہمت اور جذبے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے ان تمام چیلنجزمیں اِتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کیا۔
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ اس وقت ہم انتہائی غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں ۔حکومت نے ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور طبقات کو ایک اعشاریہ دو کھرب روپے کا ریلیف پیکج فراہم کیا۔حکومت نے اس دوران معاشرے کے کمزور طبقات ک خیا ل کرتے ہوئے فیکٹریاں مکمل طور پر بند نہ کیں اور ایس او پیز کے مطابق روزگار کے مواقع بتدریج کھولے گئے۔ یہ ایک قابلِ ستائش امر ہے کہ ریاستِ مدینہ کے وژن کے مطابق عوام کی بہتری اور فلاح کے عظیم حکومتی منصوبے ” احساس پروگرام ” کے ذریعے ایک کروڑ انہتر لاکھ مستحق خاندانوں میں 200 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی۔جس سے تقریباً 9 سے 10 کروڑ لوگ مستفید ہوئے۔ غربت کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کو بلاسود قرض دینے کا منصوبہ متعارف کرایا گیا ،غریب اور دیہاڑی دارافراد کی مدد کیلئے احساس لنگر خانوں اور پناہ گاہوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کامیاب احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تجربے کی تفصیلات بھارت کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی تا کہ بھارت کی غریب عوام بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔
ہیروز کو خراجِ تحسین اور ایس او پیز پر پابندی کی اپیل:
عزیزان وطن!
اس اہم موقع پر، ہمیں اپنے ڈاکٹروں، اپنی نرسوں اورشعبہ ِصحت سے منسلک دیگر کارکنان اور معاون عملے کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے نہایت اخلاص اور ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دیئے جس سے کورونا وبا کے تدارک میں مدد ملی۔
میں میڈیا، این ڈی ایم اے، این سی او سی، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تہِ دل سے معترف ہوں جنہوں نے کووڈ-19 کے سلسلے میں مروجہ طریقہ ہاے کارکے حوالے سے شعور بیدار کرنے اور نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔حکومتی سربراہی میں اسمارٹ لاک ڈاون پالیسی کی صورت میں ایک بہترین حکمت ِ عملی متعارف کی گئی اور پاکستان کی کورونا کے خلاف کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ جاپان کے علاوہ انٹرنیشنل میڈیا نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور حال ہی میں بل گیٹس نے بھی پاکستانی حکمتِ عملی کی تعریف کی۔ میں پاکستانی قوم کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے ان مشکل حالات میں نظم وضبط کا مظاہرہ کیا اور اس اعتبار سے دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

علمائے کرام کا کردار:
کورونا وبا کے دوران تمام مکاتبِ فکر کے علماءکرام نے مثالی کردار ادا کیا جنہوں نے رمضان المبارک کے مہینے سے لیکر عید الاضحیٰ تک ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے میں مدد کی اور لوگوں میں شعور بیدار کیا۔ مجھے امید ہے کہ محرم کے مقدس مہینے میں بھی اسی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جائے گا اور علمائے کرام کورونا کی روک تھام کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرانے کیلئے لوگوں کو قائل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
حکومتی اقدامات /کارکردگی:
خواتین وحضرات!
مجھے خوشی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود ہماری معیشت کامیابی کی طرف گامزن ہے۔
موڈیز نے حال ہی میں پاکستان کی درجہ بندی کو B3 Stable قرار دیا ہے اور Fitch Ratings نے بھی پاکستان کی Economic Outlook کو مستحکم قرار دیا ہے ،جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔
اسی طرح ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو سالوں میں 20ارب ڈالر سے کم ہو کر 3ارب ڈالر کی سطح پر آگیا ہے، جبکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر 8.5 ارب ڈالر سے بڑھ کے 12.5 ارب ڈالر ہو گئے ہیں ۔
٭ایکسپورٹ سیکٹر کی بہتری کیلئے حکومتی مراعات کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ ان اقدامات کی وجہ سے ، جولائی کے مہینے کی برآمدات پچھلے سال کے مقابلے میں ، 5.8 فیصد اضافے کے ساتھ 1.99ارب ڈالر کی حد عبور کر چکی ہیں۔
٭ترسیلاتِ زر 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر 23 ارب ڈالر ہو گئی۔
٭جولائی کے مہینے میں ترسیلاتِ زر پچھلے سال کی نسبت 36.5فیصد کے اضافے سے بڑھ کر 2.76ارب ڈالر ہوگئی ۔
٭اس سال ٹیکس محصولات مقررہ ہدف سے 3.3 فیصد بڑھ کر 3.9کھرب روپے ہوگئی۔ یہ رقم گزشتہ سال کی نسبت 126 ارب روپے زیادہ ہے۔
٭اسی طرح، جولائی کے مہینے میں محصولات 300ارب روپے تک پہنچ گئیںجو کہ مقررہ ہدف سے 57 ارب روپے زائد ہیں۔
٭گزشتہ دو سال میں Debt Serviceکی مد میں 19.2ارب ڈالر ادا کیے۔
٭کورونا وبا کے باوجود پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے 40,000 پوائنٹس کی حد عبور کی۔
٭ وزیراعظم کے انڈسٹریل ریلیف پیکج کے تحت چھوٹی صنعتوں کیلئے تین مہینوں کیلئے بجلی کے بلوں کی مد میں ریلیف فراہم کی گئی۔
٭پاکستان نے کاروبار کرنے میں آسانی کی رینکنگ Ease of Doing Business میں 28 درجے ترقی کی اور 136 ویں پوزیشن سے 108ویں پوزیشن پر آگیا۔
٭نوجوانوں کو روزگارکے مواقع کی فراہمی کیلئے کامیاب جوان پروگرام کے تحت قرضوں کی حد 50لاکھ سے بڑھا کر 2.5کروڑ روپے کردی۔ اس اسکیم سے لاکھوں نوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔
زراعت:
٭زراعت کے شعبے کی بہتری کیلئے 280 ارب روپے کا پیکج دیا گیا ۔
٭گذشتہ مالی سال کے دوران زراعت کے شعبے نے 2.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو ہماری غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوئی۔
٭ رواں مالی سا ل میں پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات سے ملکی معیشت کو 73 کروڑ ڈالر کا فائدہ ہوا ہے۔
٭ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے ٹیوب ویلوں کو سستی بجلی مہیا کی جا رہی ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر:
یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ سالوں سے التواءکے شکار دیا مر بھاشا ڈیم پر حکومت نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل سے 4500 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور 16500افراد کو روزگار مہیا ہو گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف ملکی توانائی کی ضروریا ت پوری ہوں گی بلکہ زراعت کے شعبے کو فروغ حاصل ہوگا۔
ML-1:
قومی اہمیت کے منصوبے ایم ایل ون کی توسیع اور بہتری کیلئے ایکنک نے حال ہی میں منظوری دی ہے۔اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف تیز ترین سفری سہولیات میسر ہوں گی ، فاصلے سمٹ جائیں گے، کاروبار کیلئے ٹرانسپورٹ کی مد میں ہونے والے اخراجات کم ہوں گے، نوکریاں پیدا ہوں گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملکی معاشی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔
گوادر پورٹ:
یہاں میں گوادرپورٹ کے اہم معاشی و تجارتی منصوبے کاذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔گوادر پورٹ ،جو کہ اب آپریشنل ہو چکی ہے، سے نہ صرف خطے کے ممالک کے مابین اقتصادی روابط میں اضافہ ہوگا، بلکہ خطے کی اندرونی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ اس منصوبے سے نہ صرف بلوچستان کی تقدیر بدلنے میں مدد ملے گی بلکہ افغانستان اوروسطی ایشیاءکے ممالک بھی مستفید ہوں گے۔
تعلیم :
مجھے خوشی ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم کے فروغ کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور اعلیٰ تعلیم کی مد میں سالانہ 50000 سے زائداسکالرشپس دے رہی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی اسکالرشپ اسکیم ہے۔ علاوہ ازیں، یکساں قومی نصاب کی تیاری کیلئے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مشترکہ قومی نصاب کا مقصد ملک بھر کے طلبا کو ایک معیار کے مطابق تعلیم کی فراہمی اور ان کی صلاحیتوں کو جانچنا ہے۔ اس سے ملک میں قومی ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو گا۔ اس کے علاوہ میری خواہش ہے کہ یونیورسٹیوں میں ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ پر توجہ دی جائے تاکہ جدید علوم سے ملکی مسائل کا حل نکالا جا سکے اور طلبا کی استعدادِ کار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
موجودہ حکومت ملک میں فاصلاتی تعلیم کے فروغ کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔اس سلسلے میں ٹیلی اسکول اور آن لائن تعلیم کا اجراءایک احسن اقدام ہے۔ کورونا وبا کے دوران ان اقدامات کی وجہ سے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ گیا ۔ملک میں آن لائن تعلیم کے فروغ کیلئے ملک کے دوردراز علاقوں تک انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم جا رہی ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی:
خواتین و حضرات!
دنیا ٹیکنالوجی کی نت نئی اقسام سے فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان ابھی تک اس میدان میں بہت پیچھے ہے۔ ٹیکنالوجی کی یہ جدید اقسام دنیا کی معاشی ترقی میں بہت معاون ثابت ہوئی ہیں اور ہمیں بھی ان کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم اپنی معاشی نمو کو تیز تر کر سکیں اور ترقی یافتہ اقوام عالم کی طرح ہم بھی ای-تجارت اور ای-تعلیم کے شعبوں میں کامیابی کی منازل طے کر سکیں۔
آبادی میں اضافہ:
خواتین و حضرات!
آپ جانتے ہیں کہ پاکستان 20 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے ۔ آبادی میں اس تیز اضافے کی وجہ سے ہمارے قومی وسائل پر دباؤبڑھ رہاہے اور اس سے زندگی کے اہم شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔
ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرے میں یہ شعور اجاگر کرنا ہو گا کہ مائیں بچوں کو 24ماہ تک اپنا دودھ پلائیں ۔ اس سے نہ صرف بچوں کی پیدائش میں وقفہ ممکن ہو سکے گا بلکہ نوزائیدہ بچوں کی غذائی ضروریا ت پوری کرنے کے ساتھ ساتھStunting پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
اس تناظر میں علمائ، میڈیا اور راے عامہ تشکیل دینے والے دیگر افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عوام الناس میں شعور اور آگہی کے فروغ کے لیے اپنا کردارادا کریں۔
صحت سہولیات:
مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ حکومت نے صحت سہولت پروگرام کے تحت صحت کا رڈ کا اجراءکیا۔ ایک کارڈسے ایک خاندان کے تمام افراد کیلئے صحت کی سہولیات میسر ہوں گی۔ ہماری آبادی کا ایک بڑاحصہ Hepatitisاور T.Bجیسی بیماریوں کاشکار ہے۔ حکومت کا یہ پروگرام ، ملک میں علاج کی سہولیات کی سستے داموں فراہمی کیلئے معاون ثابت ہو گا۔ اس پروگرام سے Hepatitisاور ٹی بی جیسی بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔یہ ایک قابل تعریف امر ہے کہ حکومت نے کورونا کے باوجود قوم کے بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے بچانے کیلئے مہم کا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس بیماری سے محفوظ کرنے کے مشن میں کامیابی حاصل کریں گے۔
خصوصی افراد کی بحالی:
معزز اراکینِ پارلیمان!
ہمارے ملک میں 30 لاکھ سے زیادہ افراد مختلف اقسام کی معذوریوں کا شکار ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کی فلاح و بہبود کو خاطر خواہ ترجیح نہیں دی گئی ۔ خصوصی افراد ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور اگر انہیں مناسب اور یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ یقیناً ملکی ترقی میں قابلِ ذکر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خصوصی افراد کو با اختیار بنانے کے لئے حکومت، سول سوسائٹی اور فلاحی تنظیموں کا بڑے پیمانے پر باہمی اشتراک ضروری ہے۔ میں حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ خصوصی افراد کی معیاری تعلیم ، روزگار اور فلاح و بہبودکیلئے اقدامات کرے۔میں خصوصی افراد سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو سراہتا ہوں جس میں سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خصوصی افراد کو آئین کے مطابق ملازمتوں ، ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ کی سہولیات مہیا کریں ۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ مزید برآں، ہمیں خصوصی افراد کے حوالے سے اپنے رویّو ں میں تبدیلی لانے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ اُن کو کسی معاشرتی یا نفسیاتی تفریق کا احساس نہ ہونے پائے۔
خواتین کے وراثتی حقوق:
معزز اراکین پارلیمان!
میں ایک بہت ہی اہم مسئلے یعنی ” وراثت میں عورتوں کے حقوق ” پر بھی بات کرنا چا ہوں گا۔ ہمیں علم ہے کہ ہمارے عظیم مذہب اسلام نے عورت کو جائیداد و وراثت میں قانونی طور پر حصہ دار بنایا ہے۔ قرآن کریم میں ارشادِباری تعالیٰ ہے،
”تمہارے ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں، اس میں مردوں کا بھی ایک حصہ ہے اور (تمھارے) ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں، اس میں عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے، خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، ایک متعین حصے کے طور پر”
صدافسوس،کہ ہمارے ملک کے کچھ حصوں میں ان اسلامی تعلیمات کے برعکس خواتین کو ان کے حقِ وراثت سے محروم رکھا جا تا ہے جو واقعتاان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ہمیں اسلام کے زریں اُصولوں کے مطابق خواتین کے اس حق ِوراثت کی پاسداری کو یقینی بنانا چاہیے۔ میں علمائے کرام اور میڈیا سے خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس حوالے سے لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔
کراچی کی صورتحال:
میں یہاں پر شہر قائدکا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جسے آجکل مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیا ن کراچی کے مسائل کے حل کیلئے مثبت مذاکرات ہوئے۔ مجھے یقین ہے کہ دونوں کے تعاون سے شہر کے مسائل پر قابو پایا جا سکے گا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ:
میں عدلیہ کا بھی مشکور ہوں کہ وہ ملک میں فوری انصاف کی فراہمی کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا GIDCمعاملے پر حالیہ فیصلہ خوش آئند ہے۔
فلسطین :

میں وزیراعظم عمران خان کے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے پالیسی بیان کا خیر مقدم کرتا ہوںجس میں انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں مل جاتا اس وقت تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔
کشمیر اور بھارت:
معزز ارکین!
آج اس اہم موقع پر میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کے بہیمانہ مظالم پر بھی بات کرنا چاہوں گا۔ گذشتہ سال اگست میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے ہندوستان نے نام نہاد انسداد دہشت گردی آپریشنز میں بڑے پیمانے پر بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن کشمیریوں پر جبر اور ظلم و ستم کی یہ رات گذشتہ سات دہائیوں سے مسلط ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان کی انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نہ صرف مسلمان بلکہ سکھ اور عیسائی بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بھارت اپنے ہاں اور اس پورے خطے میں ”ہندوتوا ” کا نظریہ مسلط کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ ان اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں، میڈیا اور مختلف ممالک کے پارلیمنٹیرینز عالمی سطح پر بھارت کی مذمت کرتے رہے ہیں۔

معزز اراکینِ پارلیمان!

آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت وادی کے معصوم شہریوں کے خلاف کاروائیاں کرنے کے لیے سیکورٹی اداروں کو غیر محدود اختیارات دیے گئے ہیں۔ بھارتی فورسز جعلی مقابلوں،نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل ،سیاسی قیادت کی غیر قانونی
گرفتاریوں ، گھروں پر نظر بندی اور کشمیری مسلمانوں کے جان و مال کو تباہ کرنے جیسے گھناوں نے جرائم میں ملوث ہیں۔
خواتین و حضرات!

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ ، بھارتی قیادت کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 اور نئی ڈومیسائل پالیسی کے ذریعے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کی آبادی کے تناسب کو زبردستی تبدیل کرنےکے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ان اقدامات کا مقصد غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آباد کرنے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔
اتنے بڑے پیمانے پر ڈومیسائل تقسیم کرنے کی پالیسی کا بنیادی مقصد مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔بھارتی حکومت کشمیر میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کیلئے اسرائیلی پالیسی کی پیروی کر رہی ہے۔بھارت کشمیر میں نسلی تفریق کے ان مکروہ عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔

معزز اراکین!

بھارت نے جموں و کشمیر کے معاملے پر انتہائی ڈھٹائی سے نہ صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کونسل کی کئی قرادادوں کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے بلکہ دانستہ طور پر بچوں کے حقوق کے کنوینشنز کو بھی پامال کیا ہے۔ کشمیریوں کی نسلوں کو تباہ کرنے کیلئے بچوں کی تعلیم اور نگہداشت سے متعلقہ اداروں کو کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور تعلیم کے حصول میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

مسلم اکثریتی کشمیر کی قانونی اور آئینی حیثیت کو بدلنا اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے ریاست سے یونین علاقے میں بدلنا، نہ صرف غیر قانونی اور ماورائے آئین اقدام ہے بلکہ جنیوا کنوینشن، بین الاقوامی قوانین اور کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرادادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ کشمیر کی کل آبادی گزشتہ ایک سال سے بھارتی فوج کے زیرِ حصار ہے۔ بھارت نے نہتے شہریوں پر دہشت کا ماحول مسلط کر رکھا ہے اور پرامن مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز اور آتشیں اسلحہ کے بے دریغ استعمال کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے لاکھوں لوگوں کو شہید کر چکا ہے اور ماوؤں کی گودیں اجاڑ چکا ہے۔
بھارت کے بڑھتے ہوئے مظالم کے پیشِ نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ مقبوضہ وادی میں موت اور خوف کی لہر پھیلانے والے سفاکانہ اقدامات اور بھارتی مظالم کو منظرِ عام پر لایا جائے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جائے۔ عالمی برادری ، خاص طور پر یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت پر دباؤں ڈالنا چاہیے کہ وہ فوری طور پر کشمیر سے فوجی محاصرے کو ختم کرے ، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں ختم کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فی الفور ختم کرے۔ میں اقوامِ متحدہ سے پر زور اپیل کرتا ہوں کو وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کیلئے سیکورٹی کونسل کی قرادادوں پر عمل درآمد کرائے۔
بلاشبہ بھارت کے ان جابرانہ اقدامات سے کشمیر میں اس کے خلاف نفرت اور بیگانگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ بھارت نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کے باوجود نہ تو آج تک آزادی کی جدوجہد کو دبا سکا اور نہ ہی کشمیر کے بہادر عوام کے آہنی عزم کو متزلزل کرنے میں کبھی کامیاب ہوسکا۔ میں کشمیر کے پرعزم اور بہادر عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قرارداد وں کے مطابق حقِ خود ارادیت کے حصول تک اُن کی منصفانہ جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

خواتین و حضرات!
آج ہندوستان کی توسیع پسندانہ اور استعماری پالیسیوں سے علاقائی امن و استحکام پر خطرے کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔ آئے دن کنٹرول لائن پر شہری آبادی کو نشانہ بنانا اور تقریباً تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات میں اُلجھنا، بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے۔

میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر وزیراعظم عمران خان او ر حکومتی کوششوں کو سراہتا ہوں کہ ایک سال میں 3 مرتبہ اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں زیرِ بحث لایا گیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کا نقشہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کشمیر قائدِ اعظم محمد علی جناح کی فکر کے مطابق پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ نقشہ دو قومی نظریے اورپاکستان کے اس اصولی مؤقف کی توثیق کرتا ہے جس کے مطابق کشمیر کا مسلم اکثریتی علاقہ کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
ہم اپنے دوست ممالک بالخصوص ترکی ، ملائیشیا ، آذربائیجان اور چین کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی پرزور مذمت کی اور کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کی۔ میں یہاں خاص طور پر اوآئی سی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے 5اگست اور اس کے بعد اٹھائے جانے والے بھارتی اقدامات کو مسترد کیا اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ ِمتحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات:
پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے ۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور اس سلسلے میں ہم اپنے برادر اسلامی ملک کے انتہائی مشکور ہیں۔
چین:

خواتین و حضرات!

میں یہاں چینی قیادت اور چین کے عوام سے اظہار ِتشکر کرتا ہوں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ پاکستانی قوم دفاعی صنعت کی ترقی کے علاوہ مختلف معاشرتی اور معاشی شعبوں میں مثبت کردار ادار کرنے پر چین کی ممنون ہے۔ یہاں میں بی آر آئی (BRI)کے عظیم ترین منصوبے یعنی چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کے سلسلے میں چینی تعاون کا خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔اس منصوبے سے علاقائی روابط کو بہتر بنانے اور خطے کی تقدیر بدلنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح میں کورونا کے خلاف جنگ میں پاکستان کو بروقت طبی امداد، حفاظتی سامان اور طبی ماہرین کی فراہمی پربھی چینی قیادت اور عوام کا تہِ دل سے مشکور ہوں۔ علاوہ ازیں، ووہان میں وبا کے دوران پاکستانی طلباءکی بہترین دیکھ بھال پر ہماری پوری قوم چین کی شکرگزار ہے۔

معزز اراکینِ پارلیمان!
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ علاقائی امن و استحکام کیلئے چین اور پاکستان سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں ۔پاکستان بھارت کی اُن جارحانہ اور اشتعال انگیز

کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے جن سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ ان بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش ِنظر، پاکستان اور چین کو مشترکہ چیلنجز پر قابو پانے اور خطے میں باہمی مفادات کے تحفظ کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
افغانستان:
عزیزان ِوطن!

خطے کو درپیش سماجی و معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں
پاکستان اپنے برادراسلامی ملک افغانستان کے ساتھ سیاسی، معاشی اور ثقافتی
روابط کو مزید فروغ دینے کا خواہش مند ہے۔ بدقسمتی سے طویل عرصے سے جاری جنگ نے افغانستان کے معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی برادری کو افغانستان کی سماجی و معاشی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان اپنے معاشی چیلنجز کے باوجود چار دہائیوں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کے علاوہ سڑکوں، جامعات، سکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر اور ہزاروں افغان مہاجر طلبا کو اسکالرشپ کی فراہمی کے ذریعے افغانستان کی تعمیرِ نو میں مثبت کردار ادا کررہا ہے۔مہاجرین کی باعزت وطن واپسی اور بحالی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور افغانستان کے عوام اور حکومت کو ان مشکلات سے عہدہ برا ہونے کے لیے عالمی برادری کے فعال اور فوری تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ طالبان –امریکہ امن معاہدے سے افغانستان میں طویل جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ پاکستان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر افغان لویہ جرگے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ اس فیصلے سے افغان امن عمل کو مزید تقویت ملے گی ۔ اس جنگ زدہ ملک کے عوام اب مزید مصائب برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ افغانستان میں امن و استحکام، علاقائی امن واستحکام کے لئے ناگزیر ہے اور ان اہداف کے حصول کے لئے پاکستان افغانستان میں مفاہمت کے عمل کو فروغ دینے کے لئے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔

تمام اداروں کا شکریہ:
میں ان تمام اداروں کا انتہائی مشکور ہوں جو معاشی ، معاشرتی اور دفاعی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں کام کررہے ہیں۔ میں پارلیمان کا بھی مشکور ہوں جو Anti-Money Laundering Amendment Bill منظور کرنے جارہی ہے۔

نوجوانوں کیلئے پیغام:
خواتین و حضرات!

نوجوان نسل کیلئے میرا پیغام ہے کہ وہ دورِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جدید علوم سے استفادہ کریں او راپنی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی اقدار کو اپنا کر ایک ذمہ دارشہری بنیں اور اپنے بزرگوںاور ملک و قوم کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔

ارکانِ پارلیمان!

پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے جمہوریت اور جمہوری روایات کا تسلسل ازحد ضروری ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر اس معزز ایوان کو ایک اور پارلیمانی سال کی تکمیل پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ کے حق میں احساسِ ذمہ داری کے ساتھ فرائض کی انجام دہی کیلئے خداوندِ تعالیٰ کی بارگاہ میں
دعا گو ہوں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔
پاکستان پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں