Camp Office Kashmir House Islamabad 26

صدارتی سیکرٹریٹ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد

اسلام آباد آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو یکساں پیدا کیا ہے اور انہیں برابر انسانی حقوق دئیے ہیں۔ پاکستان اور آزادکشمیر میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ آئین پاکستان کی اساس ہی یہاں بسنے والے تمام انسانوں کی برابری پر رکھی گئی ہے۔ ہندوستان کی موجودہ مودی سرکار جس نے آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لیا ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ایک فاشسٹ پالیسی پر گامزن ہے اور ہندوتوا نظریے کی قائل اور اس پر کاربند ہے جس کے تحت ہندوستان میں ہندوؤں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں شہریت کے نئے قانون کا نفاذ ہندوتوا پالیسی کا عکاس ہے۔ صدر نے کہا کہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں، نوجوانوں کو اغوا کر کے انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ حریت رہنماؤں اور سیاسی زعماء مقید ہیں، لوگوں کے حق خودارادیت کو طاقت کے زور پر کچلنے کے لئے نو لاکھ سے زائد ہندوستانی افواج نے کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے بی ٹی ایم گلوبل کے زیر اہتمام اقلیتوں کے عالمی دن کے موقع پر پیپس میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ تقریب سے پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی، سابق وزیر اعظم پاکستان و ممبر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، ڈاکٹر رمیش کمار ممبر قومی اسمبلی، ڈاکٹر آزاد مارشل بشپ صدر کونسل آف پاکستان چرچز، رنجیت سنگھ ممبر صوبائی اسمبلی، پیرزادہ عدنان قادری مذہبی سکالر، ٹو ڈشی سربراہ سی ڈی آر ایس، سمیرا فرخ چیئرپرسن بی ٹی ایم گلوبل اور فیضان ریاست نے بھی خطاب کیا۔ صدر مسعود خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ کسی ملک کی اقلیت سے مراد در حقیقت اس ملک میں کسی مذہب کے ماننے والوں کی تعداد میں کمی تو ہو سکتی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اُن کے حقوق باقی شہریوں سے کم ہوں۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ آزادکشمیر میں اقلیتوں کی ایک بہت ہی قلیل تعداد موجود ہے۔ ریاست کے دارالحکومت میں عیسائیت کے ماننے والے موجود ہیں۔ انہیں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اُن کے دیگر مسائل ضرور موجود ہیں جنہیں آزادحکومت جلد حل کرے گی۔ صدر آزادکشمیر نے اس موقع پر چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عید الاضحی آزادکشمیر کی کنٹرول لائن پر کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ منائی جس سے کشمیر کے اُس پار یکجہتی، محبت کا زبردست پیغام گیا ہے۔ صدر نے پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں بالخصوص اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، راجہ پرویز اشرف سابق وزیر اعظم پاکستان، اور مولانا اسد الرحمان کا شکریہ اد اکیا جنہوں نے پانچ اگست یوم استحصال کے حوالے سے مظفرآباد کا دورہ کیا اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہریار خان آفریدی نے کہا کہ انسانیت سب سے بڑی چیز ہے اور اسے سب سے زیادہ مقدم رہنا چاہیے۔ دنیا کا کوئی مذہب انسانیت کے خلاف درس نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ اور کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کر رہی ہے وہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی حق پر مبنی ہے اور انہیں ضرور ایک دن آزادی مل کر رہے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرا عظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، مختلف نسلوں، مختلف عقائد کے ماننے والوں اور مختلف ثقافت کے حامل لوگوں کا ایک خوبصورت ملک ہے جو ایک گلدستے کی مانند ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار سفارتکار ہیں جو قومی اور عالمی سطح پر کشمیریوں کا مقدمہ بہترین طریقے سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے میاں محمد بخش آف کھڑی شریف کا مشہور زمانہ شعر پڑھ کر سنایا جس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہمیں کسی بھی شخص خواہ وہ کسی بھی مذہب رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہو اس کا دل کبھی نہیں دکھانا چاہیے۔ تقریب سے ممبر قومی اسمبلی