Wheat and sugar 8

گندم اور چینی کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں گندم اور چینی کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس
٭ اجلاس میں وفاقی وزراء محمد حماد اظہر، سینیٹر سید شبلی فراز، مشیر ان ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، متعلقہ وزارتوں کے وفاقی سیکرٹری صاحبان شریک۔ چیف سیکرٹری صاحبان ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک
٭ اجلاس میں ملک میں گندم اور چینی کی دستیابی کی صورتحال اور قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
٭ گندم کی دستیابی کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر پندرہ ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم کی سپلائی فلور ملز کو کی جا رہی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے پاسکو سے اسی ہزار میٹرک ٹن گندم حاصل کر لی ہے جبکہ مزید ایک لاکھ میٹرک ٹن کے لئے معاہدہ ہو چکا ہے۔
٭ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سرکاری طور پر گندم کی ریلیز سے جہاں دستیابی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے وہاں قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑا ہے۔
٭ گندم کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عنا صر کے خلاف اب تک کی جانے والی کاروائی کی رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش
٭ اجلاس میں سرکاری اور نجی شعبے کی جانب سے پندرہ لاکھ میٹرک ٹن گندم کی برآمد کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ
٭ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آٹا عوا م الناس کی بنیادی ضرورت ہے لہذا اس کی دستیابی اور مناسب قیمت پرمیسر آنے کو یقینی بنایا جائے۔ مارکیٹ میں گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ نجی شعبے کے ساتھ ساتھ سرکاری طورپر بھی گندم کی درآمدکے عمل کو تیز کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے چیف سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کو مزید تیز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو ملک بھر میں یکساں سطح پر لانے کے لئے تمام چیف سیکرٹری صاحبان باہمی مشاورت سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔
٭ اجلاس میں ملک میں چینی کے موجود ذخائر، ملکی ضروریات اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔
٭ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ چینی کی وافر دستیابی اور مناسب قیمت کو یقینی بنانے پر بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ شوگر ملوں کی جانب سے کرشنگ کے عمل کا آغاز بروقت کیا جائے اور اس سلسلے میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر درآمد کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی اور انتظامات مکمل کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں