Sugar Inquiry Commission 28

شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کالعدم کیس،

شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کالعدم کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ ،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی دوران سماعت شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل مخدوم علی خان نے اٹارنی جنرل کے دلائل کے جواب میں کہا کہ ہمارے کے خلاف پریس کانفرنس کرنے والے شہزاد اکبر اب وزارت داخلہ سنبھال چکے ہیں،ایف آئی اے کی سربراہی پہلے ہی واجد ضیا کے پاس ہے جو ہمارے خلاف رپورٹ دے چکے ہیں مخدوم علی خان کا موقف تھا کہ اس موقعے پر شہزاد اکبر کے ماتحت ایف آئی اے کیسے شفاف تحقیقات کر سکتی ہے؟ کسی بھی معاملے پر سمری کابینہ ڈویژن سے ہی بھیجی جاتی ہے جس شعبے میں بحران پیدا ہوا اس سے متعلقہ وزارت انکوائری کی سمری بھیجتی ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے موقف اختیار کیا کہ ایسا تب ہوتا ہے جب تحقیقات کا فیصلہ متعلقہ وزارت نے کیا ہو، اس بار شوگر اسکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ وزیراعظم کا تھا، وزیراعظم تحقیقات کے احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتے ہیں یہ اعتراض درست نہیں کہ پہلے کوئی سمری بھیجنا ضروری تھا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے مخدوم علی خان کو بدھ تک تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں