President of Azad Kashmir   20

محکمہ آڈٹ آزاد کشمیر نے تین محکموں کی اسپیشل آڈٹ رپورٹس صدر آزاد کشمیر کو پیش کر دیں

مظفرآباد آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کو بدھ کے روز آزاد کشمیر حکومت کے محکمہ پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پی ڈی او)، غربت میں کمی کے حوالے سے منصوبوں اور محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے ترقیات منصوبوں کی اسپیشل آڈٹ رپورٹس پیش کی گئی ہیں۔ رپورٹس ڈائریکٹر جنرل آڈٹ آزاد جموں و کشمیر حسن رانا نے ایوان صدر مظفرآباد میں صدر ریاست کو پیش کی۔ تینوں اسپیشل آڈٹ رپورٹس میں محکمہ آڈٹ نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حسابات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔ غربت میں کمی کے منصوبے کی آڈٹ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت آزاد کشمیر میں 200 چھوٹے ڈیری فارم اور ایک سو بکریوں اور بھیڑوں کے فارم قائم کیے جانے تھے تاکہ جانورں کی افزائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ ریاست میں دودھ اور گوشت کی ضروریات کو مقامی سطح پر پورا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے حکومت آزاد کشمیر نے 236 ملین روپے مختص کیے اور اس طرح اس منصوبے کے تحت حکومت نے کاشتکاروں اور خواہشمند کسانوں کو بلا سود قرضے فراہم کیے تاکہ وہ جانور خرید کر اور اِن ک افزائش کر کے اپنی آمدنی بڑھانے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر دوسرے لوگوں کو دودھ اور گوشت کی ضروریات پوری کریں۔ محکمہ آڈٹ نے اپنی رپورٹس میں بتایا کہ منصوبے کے تحت آزاد کشمیر کے دس اضلاع میں دو سو ڈیری فارم قائم ہونے تھے لیکن عملی طور پر 274 ڈیری فارم قائم کیے گئے اور اس طرح 74 ڈیر ی فارم زائد از منصوبہ بندی قائم کیے گئے۔ رپورٹس میں مذید بتایا گیا کہ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں بکریوں اور بھیڑوں کے100 فارم قائم ہونے تھے لیکن عملاً صرف 26 فارم قائم ہوئے۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں تفاوت کی وجہ ضلع کوٹہ کا کوئی موثر نظام نہ ہونا اور منصوبے کی انتظامیہ کا نرم رویہ تھا۔ مذید براں منصوبے کی فنانسنگ کرنے والے بینک کو پی سی ون کے تحت 200 ڈیری فارم کے بجائے 274 یونٹس قائم ہونے سے 25 ملین اضافی رقم بطور سود ادائیگی کرنے کی وجہ سے حکومتی خزانے کو نقصان ہوا۔ اسی طرح غیر پیداواری یونٹس پر واجب الادا قرض پر سود کی ادائیگی سے بھی حکومت کے خزانے کو نقصان ہوا۔ محکمہ حسابات نے اپنی سفارشات میں اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کے دوسرے فیز میں تمام اضلاع کو منصوبے سے یکساں استفادہ کرنے کے مواقع مہیا کرنے کے علاوہ ایسا موثر نظام وضع کیا جائے جو منصوبے کی طویل المدتی بنیاد پر پائیداری کو یقینی بنائے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے ترقیاتی منصوبہ جات کے اسپیشل آڈٹ کے بعد اپنی سفارشات میں محکمہ آڈٹ نے کہا ہے کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کے داخلی نظام میں نظم و ضبط کے فقدان کی وجہ سے کئی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جن میں مالی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہ ہونا، زائد ادائیگیوں کی روک تھام کے لیے نا کافی اقدامات اور حساب کتاب کی غیر موثر جانچ پڑتال جیسے مسائل شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آڈٹ حسن اختر رانا نے صدر ریاست کو محکمہ آڈٹ کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ میں مطلوبہ سٹاف کی کمی کی وجہ سے محکمہ کی مجموعی کارکردگی متاثر ہور ہی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ محکمہ حسابات کی منظور شدہ سٹاف کی تعداد 200 ہے جبکہ اس وقت محکمہ میں صرف 182 لوگ اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح محکمہ آڈٹ کے دفاتر کے لیے سرکاری مکانیت نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ کرائے کی عمارت میں دفاتر قائم کیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے حکومت کو کرائے کی مد میں بھاری رقوم خرچ کرنی پڑ رہی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ نے مذید بتایا کہ اس سال کرونا وائرس کی وبا کے پھوٹنے کے بعد کئی ماہ تک دفاتر میں معمول سے کم ملازمین کی حاضری کی وجہ سے بھی محکمہ کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں