21

عالمی ادارہ صحت منکی پاکس وائرس کا نام کیوں تبدیل کرنا چاہتا ہے ؟

فوٹو: فائل

عالمی ادارہ صحت (W.H.O) نے منکی پاکس وائرس کا نام تبدیل کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

ایک بیان میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ ماہرین کے ساتھ مل کر منکی پاکس کو نیا نام دینے پر کام کررہا ہے۔

 منکی پاکس کا نام تبدیل کرنےکا یہ فیصلہ دنیا بھر کے 30 سائنسدانوں کی جانب سے لکھے گئے خط کے بعد کیا گیا ہے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ منکی پاکس کا نام فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا نام رکھنا چاہیے جو کہ غیر امتیازی ہو اور اس سے کسی کی طرف اشارہ یا نشاندہی نہ ہوتی ہو۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ وائرس کو افریقی  قرار دینا بھی ہر طرح سے غلط اور امتیازی ہے۔

خیال رہےکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دنیا بھر میں منکی پاکس کے 1600 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ وہ ممالک جہاں یہ وائرس پہلے سے موجود تھا وہاں 72 اموات رپورٹ ہوئی ہیں تاہم وہ 32 ممالک جہاں منکی پاکس حال ہی میں سامنے آیا ہے وہاں وائرس سے کوئی موت نہیں ہوئی۔

منکی پاکس کیا ہے؟

منکی پاکس دراصل ایک ایسا وائرس ہے جو بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، منکی پاکس، وائرس کے ’پاکس وائری ڈائے‘ (Poxviridae) فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اس فیملی کو مزید 2 ذیلی خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 22 اقسام ہیں اور مجموعی طور پر اس فیملی میں وائرس کی 83 اقسام ہیں۔

اس فیملی سے تعلق رکھنے والے وائرس میں ’اسمال پاکس‘ یعنی چیچک بھی شامل ہے اور علامات میں قریب ترین ہونے کی وجہ سے منکی پاکس کو اس کا کزن بھی کہا جاتا ہے۔

منکی پاس کا نقطہ آغاز افریقا بتایا جاتا ہے، منکی پاکس کی دو اقسام دنیا میں موجود ہیں جن میں سے ایک قسم مغربی افریقا میں جب کہ دوسری وسطی افریقا میں کانگو کے اطراف موجود ممالک میں پائی جاتی ہے۔

دنیا میں انسانوں میں منکی پاکس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1970 میں افریقی ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔

اس میں بندر کا کیا کردار ہے؟

منکی پاس کا نام سن کر اگر آپ کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس کے پھیلاؤ میں بندر کی شرارت بھی تو شامل ہے تو آپ کا اندازہ غلط ہے۔

دراصل انسانوں میں منکی پاکس کا کیس سامنے آنے سے سالوں پہلے 1958 میں ڈنمارک کی ایک تجربہ گاہ میں رکھے گئے دو بندروں کو یہ بیماری ہوگئی تھی جس کی وجہ سے اس کا نام بھی منکی پاکس پڑگیا۔

یہ بات طے ہے کہ اس وائرس کا منبع بندر نہیں ہیں اور نہ ہی یہ وائرس بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

سائنس دان حتمی طور پر یہ پتہ نہیں چلا سکے ہیں کہ کون سا جانور منکی پاکس وائرس کا گڑھ ہے تاہم افریقی چوہوں کو اس کے پھیلاؤ کا اصل ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، اگر منکی پاکس کا حامل کوئی جانور کسی شخص کو کاٹ لے، پنجہ مار دے یا انسان اس کے فضلے و تھوک وغیرہ سے تعلق میں آجائے تو وائرس انسان میں منتقل ہوجاتا ہے اور پھر متاثرہ انسان دیگر انسانوں میں اس کے پھیلاؤ کا سسب بنتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں