10

کووڈ کے متعدد مریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات کی موجودگی کا انکشاف

یہ دریافت چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / رائٹرز فائل فوٹو

دنیا میں کورونا وائرس کی وبا سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019 میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور اب انکشاف ہوا ہے کہ آغاز میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے والے 50 فیصد سے زیادہ افراد کو 2 سال بعد بھی بیماری کی کم از کم ایک علامت کا سامنا ہے۔

یہ انکشاف کووڈ کی اب تک کی سب سے طویل ترین فالو اپ تحقیق میں سامنے آیا۔

طبی جریدے دی لانیسٹ ریسیپیٹری میڈیسین میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے 2 سال بعد بھی کورونا وائرس کے متعدد مریضوں کی صحت خراب اور معیار زندگی عام آبادی کے مقابلے میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔

چائنا جاپان فرینڈ ہاسپٹل کی اس تحقیق میں شامل پروفیسر بن کاؤ نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مخصوص افراد 2 سال بعد بھی مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

ابھی تک کووڈ 19 کے طویل المعیاد طبی اثرات کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں ہوسکا اورمختلف تحقیقی ٹیموں کے کام کا دورانیہ ایک سال تک رہا تھا۔

اس نئی تحقیق کے لیے محققین نے کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں پر مرتب ہونے والے طویل المعیاد نتائج کی جانچ پڑتال کی اور پھر اس کا موازنہ بیماری سے محفوظ رہنے والے افراد کے ڈیٹا سے کیا۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے 7 جنوری سے 29 مئی 2020 کے دوران ووہان کے ہسپتال جن ین ٹان میں کووڈ کے باعث زیرعلاج رہنے والے 1192 مریضوں کی صحت کی جانچ پڑتال کی۔

ان افراد کی صحت کا معائنہ پہلے 6 ماہ بعد، دوسری بار 12 ماہ بعد اور پھر 2 سال بعد کیا گیا ، جس کے دوران ان کے 6 منٹ کے چہل قدمی کے ٹیسٹ، لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے اور علامات کو جاننے کے لیے سوالنامے بھروائے گئے۔

ابتدائی بیماری کے 6 ماہ بعد 68 فیصد مریضوں نے لانگ کووڈ کی کم از کم ایک علامت کو رپورٹ کیا ، جبکہ 2 سال بعد بھی 55 فیصد سے زیادہ نے کسی ایک علامت سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔

تھکاوٹ یا مسلز کی کمزوری سب سے عام علامات رپورٹ ہوئیں جبکہ یہ بھی دریافت ہوا کہ 2 سال بعد بھی 11 فیصد مریض اپنے کام پر واپس نہیں لوٹ سکے تھے۔

تحقیق کے مطابق 31 فیصد مریضوں نے تھکاوٹ یا مسلز میں کمزوری اور 31 فیصد نے نیند کے مسائل کو رپورٹ کیا جبکہ کووڈ سے محفوظ رہنے والے افراد میں یہ شرح بالترتیب 5 اور 14 فیصد دریافت ہوئی۔

کووڈ کے مریضوں کی جانب سے متعدد دیگر علامات بشمول جوڑوں میں تکلیف، دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہونا، سر چکرانا اور سر درد وغیرہ کو بھی رپورٹ کیا گیا۔

محققین نے تسلیم کیا کہ ان کی تحقیق محدود ہے اور کسی ایک جگہ کے نتائج کا اطلاق وائرس کی دیگر اقسام سے متاثر مریضوں پر نہیں کیا جاسکتا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں