News Murree news 52

20 کروڑ‌کی رشوت لینے والے محمکہ تعلیم کے افسر پر صرف 5 لاکھ کی ایف آئی ار

کراچی سندھ کے محکمہ اینٹی کرپشن کے صوبائی وزیر سہیل انور سیال نے کمال کر دیا- صوبائی وزیر نے ایک ساتھ دو محکموں اینٹی کرپشن اور پولیس کو ذاتی خواہشات کے لئے استعمال کر ڈالا – 20 کروڑ روپے کرپشن کیس میں گرفتار افسر کے خلاف صرف پانچ لاکھ روپے رشوت لینے کا کیس داخل کروادیا- گرفتار کیا اینٹی کرپشن نے اور کیس درج کیا پولیس نے۔ سہیل انور سیال کے حکم پر مورخہ 09 جنوری کو اینٹی کرپشن ایسٹ زون نے محکمہ تعلیم کے گریڈ انیس کے افسر محمد حسین سومرو کو ان کے آفس واقع سندھ سیکریٹریٹ سے گرفتار کیا تھا- صوبائی وزیر کے کہنے پر اینٹی کرپشن حکام نے محمد حسین سومرو کی گرفتاری میں قوانین کی دھجیاں اڑا دیں ۔
قانوں کے مطابق اعلئ حکام سے اس گرفتاری کی نہ تو کوئی منظوری لی گئی اور نہ ہی چھاپے کے وقت میجسٹریٹ کو ساتھ لیا گیا- صوبائی وزیر کے پی آر او کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ محمد حسین کو آئی بی اے پاس کنٹریکٹ ملازمین سے ان کو پکا کروانے کے حوالے سے صوبائی وزیر کے نام پر 20 کروڑ روپے رشوت وصول کرنے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا- پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ محمد حسین کو ٹیلیگراف اور سیلیولر شواہد پر گرفتار کیا گیا- جبکہ نیو ٹاون تھانے میں درج ایف آئی آر اس کے بالکل الٹ ہے- ایف آئی آر میں محمد حسین کو ڈی سی ایسٹ آفس کے سامنے صرف پانچ لاکھ روپے وصول کرتے ہوئے گرفتاری ظاہر کی گئی- جبکہ اس حوالے سے نہ تو کوئی ثبوت دیا گیا اور نہ ہی کوئی مدعی ظاہر ہوا- اینٹی کرپشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے گرفتار ملزم کے خلاف پولیس میں اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کروا کر نئی مثال قائم کردی- مقدمے میں صرف دفعہ 420 لگائی گئی جس کی وجہ سے ملزم نے اگلے ہی روز عدالت سے ضمانت کروالی۔ ذرائع کے مطابق محمد حسین کو صوبائی وزیر سہیل انور سیال کے ساتھ کچھ “معاملات” میں اختلافات پر گرفتار کیا گیا – سہیل انور سیال نے ایک تیر میں دو شکار کئے ۔ ایک طرف محمد حسین کو سبق سکھایا گیا دوسری جانب دوسرے افسران کو بھی پیغام دیا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں