آئے رو ز تحصیل کہوٹہ میں جانو ر ہلا ک

کہوٹہ (ملک محمو د اختر سے)تحصیل کہوٹہ ڈنگر ڈاکٹر گھر و ں میں خر گوش کی نیند سو گئے، جانوروں کے بڑے ہسپتال اپنی ڈیو ٹی پر آنا گنا ہ کبیر ہ سمجھنے لگے، عرصہ دراز سے تعینات مقامی افراد صر ف مہینے بعد اپنی تنخواہیں وصو ل کرنے بازار کا رخ کرتے ہیں جبکہ پو را مہینہ وہ پرائیو یٹ کام کرتے دیکھائی دیتے ہیں، جانوروں کے ہسپتال میں صرف ایک نائب قاصد بیٹھا ہوتا ہے جو ایک ہی رنگ جس میں پانی ملا ہوتا ہے وہی ہر بیماری پر دیتا ہے اور پرائیو یٹ میڈ یکل سٹو ر کا کارڈ دیتا ہے کہ یہ دوائی فلاح میڈ یکل سٹو ر سے لیکر جانو ر کو کھیلا دیں، جانو روں کی بیماریاں زو ر پکڑ رہی ہیں، آئے رو ز تحصیل کہوٹہ میں جانو ر ہلا ک ہو رہے ہیں اور غریب لو گوں کا لاکھوں رو پوں کا نقصا ن ہو رہا ہے، اگر غلطی سے ڈنگر ڈاکٹر کو کال کی جائے کہ میری گائے، بکرا، بھینس بیمار ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں چھٹی پر ہوں، پرائیو یٹ علاج کرتا ہوں کوئی چائے پانی کا بندو بست کرو تو میں آجاتا ہے، شہری مجبو ر ہو کر اسکو بلا تے ہیں جس کے بعد وہ ہزارو ں رو پے فیس بٹو ر لیتا ہے اور ادویا ت لکھ کر دیتا ہے کہ یہ فلاح سٹو ر سے لانی ہے، شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ حکو مت کسانوں کو بے شمار سہولیات دیتی ہے مگر یہاں بیٹھا مقامی عملہ عوام کو سوائے لو ٹنے کے کچھ نہیں کرتا، انہوں نے وزیر اعلی پنجاب، محکمہ ویٹر نری کے اعلی حکام سے فو ری نو ٹس لینے اور خفیہ طو ر پر چھاپے مارنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں