امدادی چیک اور نقد رقم کی تقسیم۔

Chitral(گل حماد فاروقی)وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خوہ کے معاون حصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کیلاش نے کہا کہ اقلیتی برادری کے جتنے بھی تہوار ہیں اسے ہم سرکاری طور پر مناتے ہیں کیونکہ اقلیتی لوگوں کا بھی پاکستان میں برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کیلاش کے بھی تین تہوار شامل ہیں جن کو منانے کیلئے صوبائی حکومت محکمہ اوقات اور اقلیتی امور ان لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مذہبی رسومات کو بلا کسی رکاوٹ کے مناسکے۔محکمہ اوقاف کی جانب سے 550 لوگوں میں فی کس 4800 روپے کے چیک تقسیم کئے گئے یہ ان کے ساتھ ایک مالی مدد تھی تاکہ وہ اپنے تہوار منانے کی بھر پور انداز میں تیاری کرسکے۔اور ان کو نقد رقم بھی دی گئی تاکہ ان پر کسی قسم کا بوجھ نہ ہو۔اسی طرح چترال قبیلے کے یتیم بچوں میں بھی امدادی چیک تقسیم کئے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جنہیں قاضی کہلاتے ہیں ان کو بھی نقد رقم دی گئی اسی طرح ساتھ نئے قاضی جو مقرر ہوئے ہیں ان کو بھی پچاس ہزار روپے نقد دئے گئے تاکہ وہ اپنا مذہبی فریضہ خوش اسلوبی سے نبھاتے رہے۔اور کیلاش قبیلے کے ساتھ ان کے سالانہ مذہبی تہوار اوچال منانے کیلئے محکمہ اوقاف اور اقلیتی امور کی جانب سے بھر پور تعاون کی گئی تاکہ وہ اپنا یہ سینکڑوں سال پرانا رسم جوش و خروش سے مناسکے۔ ان حیالات کااظہار وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ کے معاون حصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کیلاش نے ایک تقریب کے دوران ہمارے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تینوں وادیوں میں رہنے والے کیلاش قبیلے کے لوگ جو یہ رسم مناتے ہیں تو ان کے ساتھ مالی امداد کے طور پر چیف قاضی کے ہاتھ ان کو نقد تین لاکھ روپے بھی دئے گئے کیونکہ کیلاش لوگ اس تہوار کے دوران بکرا کاٹ کر قربانی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ دیگر رسومات مناتے ہیں جن پر ان کا خرچہ بھی آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیلاش لوگوں کیلئے پتریک میں ساڑھے تین کنال زمین خریدی گئی جس کی تعمیر کیلئے ساڑھے چار کروڑ روپے کا ٹنڈر ہوچکا ہے جس سے سیاحوں کو نہایت سہولت ہوگی۔
اس سلسلے میں کیلاش وادی رمبور میں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شعیب سڈل چئیرمین ون مین کمیشن برائے اقلیتی امور مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب میں سیکرٹری اوقاف خیبر پحتون خواہ محمود اسلم، ڈپٹی کمشنر انورالحق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس انور اکبر، ایس پی انوسٹی گیشن خالد خان اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔تقریب کا آغاز کیلاش قبیلے کے ایک قاضی کے دعائیہ کلمات سے ہوئی اس کے بعد دیگر قاضی حضرات نے بھی اپنا اظہار حیال کرتے ہوئے صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ پہلی بار ان کیلئے اعزازیہ مقرر کیا اور ان کے مذہبی تہوار منانے کیلئے ان کے ساتھ مالی طور پر بھی مدد کرتے ہیں۔
اس موقع پر نئے قاضیوں کو چیک بھی دئے گئے اور چیف قاضی کو تینوں وادیوں میں رہنے والے کیلاش لوگوں کیلئے نقد تین لاکھ روپے بھی دئے گئے۔ اس تقریب میں عیسائی، سکھ، ہندو اور دیگر اقلیتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے دوران یونان سے تعلق رکھنے والے ایک رضاکار کو شیلڈ بھی دیا گیا۔ اس موقع پر کیلاش روایات کے مطابق مہمانوں کو چترالی ٹوپی، اور کیلاش کے مذہبی چوغہ بھی پہنائے گئے جو ایک عزت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس موقع پر وزیر زادہ نے مسلم کمیونٹی کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ان کی بدولت اوران کی محبت و تعاون کی وجہ سے کیلاش لوگ جو پہلے بارہ سو تھے اب ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے چار ہزار تک پہنچ گئی۔اس تقریب میں کثیر تعداد میں کیلاش مرد و خواتین کے علاوہ دیگر مذاہب اور مسلمانوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

جواب دیں