تحصیل کونسل چترال انت بیگ کا عالمی اداروں متاثرین کے ساتھ مدد کرنے کی اپیل

چترال (گل حماد فاروقی) ممبر تحصیل کونسل برائے اقلیت انت بیگ نے نیشنل اداروں عالمی تنظیموں

NGOs اور بین الاقوامی ڈونرز سے اپیل کی ہے کہ حالیہ شدید تاریخی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پورا پاکستان اور ضلع چترال میں ایمرجنسی کی صورت حال ہے جس میں مکانات،املاک کے علاوہ فصلوں،باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں رابطہ سڑکیں،پل بہہ جانے اور زمینی راستے کٹ جانیکی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آرہی ہیں غرض پہلے سے ہی پسماندہ ضلع کو مزید تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جو مسئلہ اس وقت نظروں سے اوجھل ہے وہ غذائی قلت کے خطرے کا ہے ۔خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں ایک فصل دینے والی زمینات کا ہے ان جگہوں میں ستمبر کے دوسرے ہفتے میں فصل کٹائی کے مرحلے میں تھے کہ بارشوں اور سیلابوں کا آغاز ہوا تین ہفتوں میں ساری فصل برباد ہوئی۔
یہ انسانی غذا کے بحران کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کیلئے بھی مشکل صورت حال ہے جس کا سامنا ہے میں نیشنل اور انٹرنیشنل ڈونرز سے اپیل کرتاہوں کہ اپ پاکستان اور پاکستان کے پسماندہ ضلع چترال کے لوگوں کے ساتھ مدد کریں۔ واضح رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے وادی بمبوریت، بریر، رمبور، وادی آرکاری، وادی گولین، وادی شیشی کوہ، وادی یارخون، یارخون لشت، کان خون، بریپ، پاور، بھانگ، میراگرام اور دیگر کئی وادیوں میں جہاں نو انسانی جانیں ضائع ہوئی وہاں بڑے پیمانے پر کھڑی فصلیں، زیر کاشت زمین، پھل دار درختوں کے باغات بھی تباہ ہوئے یا ان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ان وادیوں میں پینے اور آبپاشی کی نہریں، پائپ لاین اور ندی نالیاں بھی سیلاب میں بہہ گئے جس کی وجہ سے مکئی کی کھڑی فصل خشک ہوکر تلف ہورہا ہے۔زیادہ تر ان وادیوں میں سال میں صرف ایک ہی فصل ہوتا ہے اور اگر وہ بھی قدرتی آفات کی وجہ سے تباہ ہو تو ان لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں بچے گا۔انت بیگ کیلاش نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اقوام امتحدہ اور پورے عالمی دنیا سے بھی اپیل کی ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان آکر ان متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے تباہی و بربادی کا یہ منظر دیکھا اور پاکستان کا ستر فیصد حصہ کسی نہ کسی طرح سیلاب یا بارش سے متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے اور وسائل نہایت محدود ہیں لہذا دنیا بھر کے مخیر حضرات اور ڈونر اداروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ مصیبت کے اس گھڑی میں پاکستانی عوام کو تنہاں نہ چھوڑے اور ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرے۔
واضح رہے کہ چترال کے بیشتر علاقوں میں جہاں سیلاب آیا ہے وہاں اسی مہینے سردی شروع ہوگی اور بارش کی صورت میں برف باری بھی ہوسکتی ہے۔ جن لوگوں کے مکانات سیلاب میں تباہ ہوئے ہیں وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر سردیاں آنے سے پہلے پہلے ان کے تباہ شدہ مکانات دوبارہ تعمیر نہیں ہوئے یا ان کو کسی محفوظ مقام پر منتقل نہیں کیا گیا تو سردی کی شدت سے حاملہ خواتین، بچے، ضعیف عمر کے لوگ اور مریضوں کو نہایت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ان متاثرین کے ساتھ مدد تو کررہی ہیں مگر وہ ناکافی ہیں کیونکہ حالی کھانے پینے کی چیزیں بھیجنے سے ان متاثرین کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جو کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان متاثرہ لوگوں کے تباہ شدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کیا جائے یا ان کو اتنا رقم دیا جائے تاکہ یہاں سے جاکر کسی محفوظ مقام پر اپنا گھر بسائے اور سیلاب کی حطرے سے بھی بچ سکے۔

جواب دیں