خدا کے لیئے مری والو مری کا بھی سوچو۔دولت کے ساتھ عزت بھی کماؤل

خدا کے لیئے مری والو مری کا بھی سوچو۔دولت کے ساتھ عزت بھی کماؤل

 

تحریر: محمد عتیق عباسی

 

ملکہ کوہسار مری ملک کے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کا پسندیدہ ہل سٹیشن ہے۔مری آنیوالوں کا بار بار مری انے کا دل کرتا ہے۔مری کی پہچان ہمیشہ سے اسکے سرسبز و شاداب پہاڑ ہرے بھرے درختوں والے جنگلات۔بل کھاتی سڑکیں انکےگرین بیلٹس اور خوبصورت ترین وادیوں میں مقیم مہمان نواز خوش اخلاق مقامی دلیر خودار عزت دار لوگ ہی تھے۔سال کے شروع میں سانحہ مری پیش آیا تو غریب امیر کی تفریق کے بغیر اہل مری نے اپنے گھر کاروبار مدارس مشکل میں پھنسے سیاحوں کےلئے اپنی اپنی حثیت و استطاعت سے بڑھ کر کھول دیئے۔مگر تشہیر کو علاقائی روایات کے تناظر میں مناسب نہ سمجھا۔جن سیاح فیملیز کو مشکل سے نکال کر محفوظ مقام پر مقامی مرد و خواتین بزرگ جوان بچوں نے پہنچایا جو سیاح فیملیز آج بھی مشکل میں ہمدرد بننے والے اہل مری کے رابطہ میں ہیں۔مری کے باسیوں کو سوچنا ہوگا کہ اتنی اعلی اوصاف رکھنے والے علاقہ کے باسیوں کو کسی کی نظر لگی ہے۔یا کچھ اپنے اندر ایسا کچھ ہے۔جسکو ہم عزت سمجھتے ہیں مگر اصل میں یہ راستہ صیح نہیں ہے۔مری میں تعینات ضلع اور صوبہ کی بیوروکریسی اور ہماری جان سے پیارے ادارہ کے افراد ایسے کامیاب اور خوش نصیب ہیں۔کہ انکے پاس رات سونے سے پہلے ہی ہر اطلاع پہنچ جاتی ہے۔میرا اپنا شعبہ صحافت جو بذات خود بظاہر تو سمجھتا ہیکہ عزت کے اونچے درجوں پر ہے۔ہمیں ماشاء اللہ خوب اکرام کے بعد جن الفاظ و القاب سے نوازا جاتا ہے۔یہ ہم سب جانتےہیں۔مگر ہم خود سلیکشن کی بنا پر اپنی حقیقی عزت اور حکومتی سہولیات سے کوسوں دور ہیں۔اور ہم ہی ہیں جنکی وجہ سے مری میں بند کمروں کی تنظیموں نے اپنا وجود قائم کر رکھا ہیں۔آج جو مری ہوٹل ایسوسی ایشن۔سیٹزن فورم۔گائیڈ یونین سمیت لاتعداد تنظیموں کے افراد ہیں انکے زیر سایہ افراد شدید مشکلات میں ہیں۔جسکو دل چاہتا ہے موبائل مائیک اٹھا کر یوٹیوب چینل پر جب چاہے جسکی چاہے پگڑی اچھال دے۔میونسپل ایمپلائز یونین اور مری بار ایسوسی ایشن عزت کے درجات پر روز بروز قدم رکھ رہی ہیں اور انکے ووٹرز کو بھی آئے دن کامیابیوں اور سہولیات کی نوید مل رہی ہے۔آج کیا وجہ ہے کہ ہم پس پردہ تو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں مگر منہ پر بیورو کریسی کو مائی باپ تک کہتے ہیں۔مجھے وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہیں کہ حافظ جاوید اختر عباسی مرحوم جب کسی اجلاس میں موجود ہوتے تھے تو پتہ چلتا تھا کہ کوئی بات کرنے والی دبنگ شخصیت موجود ہے۔سابق اسسٹنٹ کمشنر زاہد حسین کے ساتھ کرونا وباء کے شروع کے دنوں کا اجلاس ریکارڈ پر ہے۔جسکی تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔آج کشمیر کے ایک کاروباری پوائنٹ کی کہانی مری کے بندے بندے کی زبان پر ہے اور وہاں جو کچھ ہوا۔کیا یہ مری کی روایات کو عزت دے رہا ہے یا پھر ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ایسی حرکات کرنے والے کھانے بھی خوب کھلاتے ہیں۔سیاسی شخصیات سے تعلق بھی مضبوط رکھتے ہیں۔اور صحافیوں کو کمرے بھی دیتے ہیں۔یہاں اتنا ہی کہنا کافی ہیکہ ہو گا وہی جو میرا اللہ چاہے گا۔مگر عزت و ذلت کا راستہ ہمیں خود اختیار کرنا ہوگا۔اپر جھیکاگلی روڈ پر گرین بیلٹ پر سرکار کی مدد سے جو تعمیرات ہوئی ہیں۔اور جو آفر مجھے جیسے کم علم کو مختلف ذرائع سے کی جاتی رہی ہیں۔یہ میں جانتا ہوں اور وہ جانتے ہیں جو سہولت کار بنے۔یاد رکھیں اللہ پاک نے ہمیں پیدا کیا تو پال بھی ہمیں اللہ پاک ہی رہا ہے۔اب زندگی گزارنے کے معیارہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کہ عزت سے گزارنی ہے کہ ذلت سے۔پانچ دس بیس تیس ہزار کے اشتہار یا مہ نوشی کے حصول کیلیئے ہم کو اپنے علاقہ اپنی روایات اپنی عزت کو فروخت نہیں کرنا چاہیئے۔دولت کمانی اچھی بات ہے مگر ساتھ یہ خیال بھی ہر صورت رہے کہ عزت بھی کمائی جاۓ۔جس تحصیل کا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر ایک پٹواری کا کرپشن پر چارج دوسرے پٹواری کو نہ دلاوا سکیں۔اور حکومت پنجاب کی ہدایت پر ہر ماہ کی پہلی اور دو تاریخ کو سائلین کی شکایات پر کاروائی یا تحقیقات کے ریماکس تک تحریر نہ کر سکیں تو ایسی تحصیل کے معززین سے مرحوم شوفا ڈاکو ہی بہتر تھا جسکی پہچان تو ڈاکو کی تھی مگر فائدہ غریبوں۔مسکینوں۔یتیموں کا تھا۔اج کیا وجہ ہیکہ ہم مشکل میں ہیں اب بھی وقت ہیکہ ملکہ کوہسار مری کو سوات کلام بننے سے بچانے کیلیئے اپنا اپنا کردار ہم سب ادا کریں۔

جواب دیں