کوہسار یونیورسٹی مری کا ساڑھے تین سال کا اڈٹ مکمل 350 مینین روپے کا انٹرنل ارڈر

By Usman Ali مئی 9, 2024

مری (حنیف خان ترک) کوہسار یونیورسٹی مری کا ساڑھے تین سال کا اڈٹ مکمل 350 مینین روپے کا انٹرنل ارڈر کیا گیا۔35 کروڑ روپے کے فنڈ یونیورسٹی کے لیے ان ساڑھے تین سالوں کے دوران یونیورسٹی فرنیچر بچوں کے لیے جدید تعلیمی سہولیات بچوں کے لیے لیپ ٹاپ اور دیگر تعلیمی سہولیات کے لیے یہ فنڈ مہیا کیے گئے تھے جن کا اڈٹ مکمل کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق کوہسار یونیورسٹی میں بھاری تعداد میں فنڈز غیر ضروری قوموں میں خرچ کیے گئے جن کا تعلق بچوں کی تعلیم نصابی یا غیر نصابی سرگرمیوں سے متعلق نہیں تھا ان فنڈز میں زیادہ تر یونیورسٹی انچارج نے اپنے ثوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے غیر ضروری اخراجات کیے جن کا یونیورسٹی کے بچے اور بچیوں کی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں تھا اڈٹ رپورٹ انے کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ مکمل معلومات اس میں ہوں گی اور 35 کروڑ جو کوہسار یونیورسٹی کو بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے دیا گیا تھا اس سے بچوں کو تو کوئی فائدہ نہ ہوا لیکن کچھ ذمہ دار اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے اور فنڈ کا بے دریغ استعمال اپنی پرموشن اور سی وی کے لیے کرتے رہے لیکن یونیورسٹی کے بچے اور بچیاں اس سے زیادہ تر مستفید بالکل بھی نہ ہو سکے اور یونیورسٹی کے بچے اور بچیوں کی تعداد بھی بتدریج کم ہوتی رہی اور بالاخر ایچ ای سی نے 22 میں سے 15 شعبہ جات کو بند کر دیا لیکن بعد ازاں نہ جانے کس بنا پر انہیں پھر سے بحال کر دیا گیا کوسار یونیورسٹی کے اوپر خرچ ہونے والے 35 کروڑ روپے کے فنڈز کی عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ فنڈز کی غیر جانبدارانہ مکمل چھان بین کرائی جائے اور جو بھی ان غیر ضروری فنڈز کو اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرتا رہا اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے کیونکہ یہ فنڈ ساڑھے تین سال کے دوران یونیورسٹی کے بچوں کے لیے تھے جن کے بہت ہی کم تعداد میں ثمرات یونیورسٹی کے بچے اور بچیوں تک پہنچے عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ جب سے یونیورسٹی کا قیام عمل میں ایا ہے مری میں بنیادی ڈگری کالج بھی ختم کر دیے گئے ہیں اور بچیوں اور بچوں کے لیے تعلیم کے مواقع بھی بہت کم کر دیے گئے ہیں اور اب یونیورسٹی کی فیسیں بچوں کے لیے مہیا کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے لہذا یونیورسٹی کے کیمپس الگ سے تعمیر کروائی جائے اور یونیورسٹی کے اوپر 35 کروڑ روپے جو خرچے کیے گئے ہیں ان کا مکمل اڈٹ اور تحقیقات کرائی جائے اور تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے

About Author

Related Post