"بارش کی رات – ایک یادگار "

By Usman Ali اپریل 6, 2024

"بارش کی رات – ایک یادگار "

تحریر: عامر علی

آج ایک زمانے بعد بارش کو دیکھا تو اپنا بچپن یاد آگیا گو کہ یہ اپنے موسم کی پہلی بارش نہیں تھی حالانکہ یہ سال کہ گرم ترین مہینہ جون کی پہلی تاریخ کو پہلی بارش تھی کہ جس میں موسم اتنا سرد تھا کہ کچھ لوگوں نے اپنے پنکھے بھی بند رکھے تھے اور باران رحمت سے گرمی کا احساس تک نہیں ہو رہا تھا۔

میں آج صبح عام حالات کے مقابلے میں06 بجے ہی جاگ گیا تھا اور کیوں کہ باقی سب سو رہے تھے اس لیے میں نے کسی کو نیند سے نہیں جگایا اور ناشتہ بھی حسب توقع میں نے صبح 09 بجے ہی کر لیا تھا جو کہ میں 10:30 بجے سے 11:30 بجے پر کیا کرتا تھا۔۔ لہذا مجھے نیند تو آ نہیں رہی تھی تو لیٹے لیٹے کبھی چلتے پھرتے ذہن میں ایک پرانی یاد دستک دے رہی تھی۔۔

میرے بچپن کی بات ہے کہ میں بارش، آندھی، طوفان، رات کے اندھیرے، تنہائی اور اپنی ہی پرچھائی سے ڈرا کرتا تھا اور یہ بات میری ماں، میرے باپ کے علاوہ میری بہن اور چھوٹے بھائی کو بھی بخوبی پتہ تھی اس لیے میرے ماں باپ کے علاوہ میرے بہن بھائی بھی مجھے ایسے حالات میں اکیلا نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ لیکن بس جب کبھی کسی امتحان نے آپ کو آ لینا ہو وہ آہی جاتا تھا چاہے آپ کتنی ہی احتیاط کیوں نہ برت لیں۔۔

ایک رات کی بات ہے کہ میں گھر کا کچھ سامان لینے مارکیٹ گیا تب تک موسم بلکل ٹھیک تھا ایسے ہی جیسے اکثر ہو جاتا ہے آپ نے خوشگوار موسم میں کہیں جانے کی تیاری کی ہو اور جیسے ہی آپ گھر سے یا اس جگہ سے جہاں سے آپ نے جانا ہو کچھ دور پہنچے ہوں تو اچانک ہی آندھی اور کالے بادلوں نے آپ کو آن گھیرا ہو مگر آپ کے پاس اس موسم سے بچنے کا کوئی انتظام موجود نہ ہو ٹھیک ایسے ہی اس رات میرے ساتھ ہوا کیونکہ اگر موسم کے حالات پہلے نظر آرہے ہوتے نہ تو میں ہی جاتا مارکیٹ اور نہ ہی میرے گھر سے کوئی مجھے جانے دیتا۔

بہر حال میں بازار پہنچا ہی تھا کہ تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش نے مجھے آن گھیرا اور میں اس ہی دکان پر جس سے میں نے کچھ ضروری سامان لینا تھا لے کر وہیں رک گیا۔ اور جب جب بجلی چمکتی میں اپنی آنکھوں کو مارے خوف کے موندھ لیتا اور بادل کی گرج پر گھبرا کر یہاں وہاں دیکھنے لگتا اگرچہ میرے آس پاس مجھ سے بڑی عمر کے اور بھی بہت لوگ کھڑے تھے لیکن مجھے میرے گھر سے کسی کا ساتھ ہی چاہیے تھا جو میرا ہاتھ پکڑتا اور مجھے تسلی دے کر گھر لے جاتا۔ اب اس زمانے میں موبائل یا سمارٹ فون نام کی کوئی چیز متعارف نہیں ہوئی تھی اگر تھی بھی تو ہماری پہنچ سے باہر تھی کہ میں کسی کو فون کرتا امی کو بھائی کو کہ مجھے آکر لے جاو مجھے بارش نے گھیر لیا ہے۔ میں چاہتا تو مجھ سے کوئی 7-8 قدم کے فاصلے پر ٹیکسی اسٹینڈ تھا وہاں سے ٹیکسی بک کرتا اور گھر چلا جاتا لیکن میں اتنا ڈر رہا تھا کہ نہ تو ٹیکسی اسٹینڈ پر ہی جانے کی ہمت ہوئی اور نہ ہی یہ ذہن میں آیا کہ میں وہاں کھڑے کسی بھی فرد سے کہہ سکوں کہ مجھے گھر جانا ہے آپ یہ جو سامنے ٹیکسی والے انکل ہیں ان کو کہیں مجھے گھر چھوڑ آئیں اور بارش ایسے برس رہی تھی کہ آج کے بعد اس بارش نے ہونا نہ ہو اور میں بجلی کی چمک کے ڈر سے کبھی آنکھیں کھولتا کبھی بند کرتا اور بادل کی گرج سے گھبرا کر یہاں وہاں دیکھتا کہیں کچھ گرا یا دھماکہ تو نہیں ہو گیا مجھے معلوم ہے کہ کچھ کارئین کو یہ ایک معمہ یا مذاق لگے گا لیکن یہ ایک خوف ذدہ بچے کی زندگی کا حقیقی پہلو ہے۔

میری نظریں اس ہی اثناء میں میری امی اور بھائی کو ڈھونڈ رہی تھیں کہ کہیں سے وہ آہی جائیں ابھی میں اس ہی الجھن کا شکار تھا کہ میری نظر میرے بھائی پر پڑی جو میرے الٹے ہاتھ سامنے والی سائیڈ سے اپنے دوست کے ساتھ بھاگتا ہوا میری طرف آ رہا تھا جیسے ہی میں نے اپنے بھائی کو دیکھا تو جیسے زندگی میں رونق آ گئی ہو حالانکہ میرا بھائی مجھ سے چھوٹا ہے لیکن وہ میرے لیے ہمیشہ مجھ سے بڑا ہی رہا ہے وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑتا تھا اور میرے ساتھ ساتھ رہتا تھا کہیں مجھے اس کی ضرورت نہ پڑ جائے گو کہ میں نے اس بات کو بہت دیر میں محسوس کیا لیکن کبھی میں نے اپنے بھائی کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ بہر حال بھائی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا چل میں پھر بھی اپنی جگہ پر ساکت رہا گو کہ مجھے اپنے بھائی اور اس کے دوست کہ آ جانے سے تسلی ضرور ہوئی تھی لیکن میں تب تک اتنا ڈر چکا تھا کہ جگہ سے ہلنا بھی مجھے اپنی موت لگ رہا تھا بھائی سمجھ گیا اس نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا سامنے گیا ٹیکسی والے انکل ابھی تک وہیں کھڑے ہوئے تھے بارش تیز تھی شاید لوگ بھی باہر نہیں نکل رہے تھے تو وہ ٹیکسی کو میرے پاس لے آیا اور دونوں نے بھائی نے اور اس کے دوست نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ٹیکسی میں بٹھایا اور میں بند آنکھوں کے ساتھ بھائی کے کندھے پر سر رکھ کر گھر تک بمشکل 4 منٹ میں پہنچ گیا ہوں گا لیکن میرے لیے یہ سفر لمبی مسافت سے کم نہ تھا۔۔

گھر آیا تو امی میرا انتظار کرتی دروازے پر ملی جیسے ہی میں ٹیکسی سے اترا سب سے پہلے امی نے میرا ہاتھ پکڑا اور اندر لے جا کر گلے لگایا، مجھے بوسہ دیا اور کپڑے جو کہ پہلے سے نکال کر رکھے ہوئے تھے مجھے دیے کے پہلے یہ بدل لے حالانکہ میں بھیگا نہیں تھا اور بارش بھی گرمیوں کی تھی لیکن پھر بھی امی کہہ رہی تھی تجھے ٹھنڈ نہ لگ جائے بدل جلدی سے اور پھر جب میں نے تبدیل کر لئے تو امی مجھے اپنے پاس بٹھا کر دیر تک پیار کرتی رہی اور مجھے ایسا گمان ہونے لگا جیسے میں اپنی جنت میں آگیا ہوں اور میرا خون اور ڈر جاتا رہا۔

ہمیں اپنوں کی قدر ہمیشہ کرتے رہنی چاہئے ماں باپ، بہن بھائی یہ ایسے رشتے ہیں جو ایک دفعہ کھو جائیں تو دوبارہ نہیں ملتے ان سے ہی آپ کو زندگی کی طاقت ملتی ہے، ان میں ہی آپ جینا سیکھتے ہیں، پیار کو فروغ ملتا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ باقی رشتے اہمیت نہیں رکھتے آپ کو انہیں بھی اہمیت دینی چاہیے ان کا بھی خیال اور اپنا فرض پورا کرنا چاہیے، محبت، شفقت، احترام دینا چاہیے یہ آپ کا ہمارا اخلاقی فرض بھی ہے اور ہمارا دین بھی ہے۔ مگر یہ رشتے آپ سے ایک دفعہ کھو جائیں تو آپ کچھ کر لیں یہ دوبارہ نہیں ملتے۔ آپ کی بیوی، شوہر یا اولاد کسی وجہ سے، غلط فہمی سے، آپس کی رنجشوں سے، قدرتی آفت سے کھو بھی جائیں تو آپ کو دوبارہ نئے روپ میں مل سکتے ہیں آپ شادی کر لیں گے بیوی مل جائے گی، عورت کو اس کا شوہر مل جائے گا اور شاید پہلے سے بہتر پھر اللہ تعالٰی نے آپ کے حصے میں اولاد کا سکھ لکھا ہے تو اولاد بھی اور ہو جائے گی نہیں ملیں گے تو آپ کے اپنے خون کے رشتے۔۔ چاہے کچھ ہو جائے ہمیں ان رشتوں کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے۔۔

About Author

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے