پلاسٹک کے شاپر کے بجائے اگر کپڑے کا بنا ہوئے بیگ استعمال کیا جائے

By Usman Ali ستمبر 15, 2023
Kohsar University MurreeKohsar University Murree

مری: کوہسار یونیورسٹی مری کے ڈیپارٹمنٹ آف انوائرمنٹل سائنس کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنا کے موضوع پر ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف سپیکر موبین ارشاد اعوان (کیو اے ہیڈ وائے یو ایم گروپ)،اعجاز حسین باجوہ منیجنگ پاٹنر اربن پیسٹ مینجمنٹ اور ڈاکٹر حافظ ریحان ندیم صدر نیشنل الائنس فوڈ سیفٹی نے شرکت کی سمینار میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ زمین کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے، وائس چانسلر کوہسار یونیورسٹی مری پروفیسر ڈاکٹر محمد سلطان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ماحولیات کو ایسی چیزوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی روز مرہ زندگی میں ایسی چیزوں کو اپنانا ہوگا تاکہ ماحولیات بچایاجاسکے، پلاسٹک کے شاپر کے بجائے اگر کپڑے کا بنا ہوئے بیگ استعمال کیا جائے تو اس کو آسانی سے ختم کیاجاسکتا ہے،اس سے زمین کو بھی نقصان سے بچایاجاسکتا ہے ایسے اقدامات کرنے سے ہم اپنے ماحول کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تقریب سے موبین ارشاد اعوان کا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنا ممکن ہے مگر اس کے لیے دنیا کو اکٹھے مل کر 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 60 فیصد تک کمی لانا ہوگی تاکہ درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کیا جا سکے اور یہ اس وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہر جاندار کو نوٹرینٹس سے بھر پور کھانا میسر ہو اور اس کی قوت خرید بھی ہوں تاکہ وہ ان تبدیلیوں سے نمٹ سکیں جبکہ اعجاز حسین باجوا نے بچوں کو موسمیاتی تبدیلی کے بارے آگاہ کیا اور ڈاکٹر حافظ ریحان ندیم نے بچوں کو اس سے ملحقہ فیلڈز میں پیڈ انٹرپنئیرشپ بھی دینے کا اعلان کیا تقریب کے خطاب کرتے ہوئے تقریب کے مہمان خصوصی پر وائس چانسلر کوہسار یونیورسٹی مری سید حبیب بخاری کا بچوں کو سٹیم ایجوکیشن کی ترویج دینے پر زوردیا جو کہ یونائٹڈ نیشن کی جانب سے پوری دنیا کو 16 گولز دیے ہیں تاکہ دنیا میں بنیادی چیزوں سے آراستہ ہو سکے جس میں سے ایک گول کلامیٹ ایکشن کے نام سے ہے جو کہ کاربن کے اخراج کو کم کر رہے ہیں، پانی کے ذرائع کی صفائی کر رہے ہیں، آلودگی سے لڑ رہے ہیں، شمسی پینلز اور پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے نظام بنا رہے ہیں، مریخ تک روورز کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں تاکہ معاشرے کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں ہمیں بھی ان تمام چیزوں کو اپنا کے پاکستان کو محفوظ بنانا ہے سمینار کے اختتام پر ڈاکٹر سمیرہ مقصود کی جانب سے تمام آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا اور مفاہمت کی یاداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔

About Author

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے