سیاسی عدم استحکام

By Usman Ali اگست 31, 2023

سیاسی عدم استحکام

 

تحریر: اقراء رضوان

 جب کسی بلڈنگ کی تعمیر شروع کی جاتی ہے تو کوشش کی جاتی ہے کہ اس کی بنیادوں میں پڑھنے والا میٹریل اتنی تناسب سے ڈالا جائے کہ بننے والی بلڈنگ مستقبل میں مضبوط ثابت ہو مکان بنانے والا امیر ہو یا غریب مکان کی مضبوطی پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا اسی طرح مملکتِ خداداد پاکستان کی عمارت بناتے وقت اس کے معماروں نے اس بات کا خیال رکھا کہ تعمیر ہونے والی بلڈنگ اتنی مضبوط ہوکہ رہتی دنیا تک اس کے نام اور عزت میں اضافہ ہوتا جاۓ اس کی بنیادوں میں جو میٹریل استعمال کیا گیا اس میں کلمہ، مساوات، ؛انصاف، بھائی چارہ، ایمان داری، دیانت داری، سادگی، رحم دلی ادب و آداب شامل ہیں لاکھوں نوجوانوں، بوڑھوں، بچوں عورتوں نے اپنے خون سے اس میٹریل کو یکجا کیا اور آخر مضبوط بلڈنگ کی بنیاد پڑھی 76  سال قبل جس عمارت کی بنیاد رکھی گئی تھی اُسے شہداء کے خون سے رنگا گیا تاکہ ہونے والی بارشوں، آندھی، طوفان، سیلاب، زلزلے چآفات سے محفوظ کیا جا سکے جن معماروں اور پاسبانوں نے اس بلڈنگ کی بنیاد رکھی تھی آہستہ آہستہ بڑھاپے کی منزل طے کرتے گئے اور ایک ایک کر کے داعی اجل کو لبیک کہتے گئے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ پر خلوص لوگ ایماندار سیاستدان اس فانی دنیا رخصت ہو گئے اس کے بعد نئ آنے والی نسلوں میں قربانی کا جزبہ اور سیاسی بصیرت میں عدم استحکام تھا جس سے بلڈنگ کی حفاظت مکمل طور پر نہ ہو سکی اور بلڈنگ شکست و ریخت کا شکار ہوتی گئی آہستہ آہستہ آنے والے زلزلوں نے بلڈنگ کے حصوں ڈرارئیں پڑھتی گئی اب 1971ء میں آنے والے زلزلوں میں بلڈنگ کا کچھ حصہ گر گیا سیاسی قائدین کی نا پختہ سوچ اور غلط فیصلوں کی وجہ سے باقی پسماندہ بلڈنگ میں بھی ڈرارئیں پڑھ گئی ہیں جس سے بظاہر مضبوط نظر آنے والی چار حصوں میں تقسیم ہو تی نظر آ رہی ہے اس کی وجوہات میں نا انصافی، تعلیمی فقدان۔، میڑٹ کا نہ ہونا، کرپٹ عدالتی نظام، سیاست میں ہارس ٹریڈنگ، جاگیردارانہ نظام، ناقص انتظامی پالیسی، آرمی میں میڑٹ کا فقدان، غربت افراط زر وغیرہ شامل ہے امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے غریب غربت کی آخری لائن پر پہنچ چکا ہے اس کے پاس خود کشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ان حالات و واقعات کو دیکھتے ہوۓ اسلام اور پاکستان مخلفانہ قوتیں اور ایجنسیاں پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے در پہ ہیں اگر پاکستانی سیاست کو دیکھا جائے تو دیگر اداروں کی طرح سیاسی ادارہ بھی منافقانہ روش پر چل رہا ہے قائداعظم کی ایمبولینس خراب ہونے، لیاقت علی خان کو گولی لگنے، ملک میں مارشل لاء کا نفاذ، 1965ء کی جنگ، سکوت دھاکہ، کارگل کی جنگ، آۓ راز بم دھماکے، بلوچستان میں عدم استحکام، مہنگائی، دیمز کی تعمیر میں تاخیر، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ یہ سب سیاسی عدم استحکام کی بدولت ہے.

About Author

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے