دنیا کا تعلیمی نظام بمقابلہ پاکستانی تعلیمی نظام

By Usman Ali اگست 31, 2023

دنیا کا تعلیمی نظام بمقابلہ پاکستانی تعلیمی نظام

تحریر : اقراء رضوان 

iqraisn42@gmail.com

علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے اسلام میں اس حدیث مبارکہ میں علم کی اہمیت دکھائی ہے چین اور سعودی عرب کے درمیان فاصلہ پانچ ہزار سات سو تڑیسٹھ کلو میٹر ہے آج سے چودہ سو سال پہلے ذرائع آمد و رفت کے لیے وسائل نہ تھے اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے اتنا فاصلہ طے کرنا ناممکن تھا یہ بات عیاں ہے کہ اس وقت چائنا میں اسلام میں مذہب نام کی چیز نہ تھی لیکن حدیث کے مطابق علم حاصل کرنے کے لیے دشوار گزار، دور دراز علاقوں میں جانا اور ہر طرح کا دینی اور دنیاوی علم حاصل کرنا اسلام میں ضروری ہے چاہے اس کے لیے کسی بھی ملک اور جگہ جانا پڑے اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ملک چین دنیا میں تا قیامت رہے گا کیونکہ حدیث مبارکہ تا قیامت سچ ثابت رہے گی۔ اس وقت درجہ بندی کے اعتبار سے فِن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ سپر پاور امریکا بیسویں نمبر پر ہے 2023 تک فِن لینڈ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں subject نام کی کوئی چیز سکولز میں نہیں پائی گئ فِن لینڈ ہر ایک سکول ذیادہ سے ذیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہے جبکہ 19 بچوں کے لیے ایک ٹیچر ہے دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فِن لینڈ کے تعلیمی اداروں میں ہوتی ہے جہاں بچے اپنے سکول ٹائم کے 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک "نیو یارک” کے تعلیمی اداروں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں اگر والدین کو پتا چل جاۓ کہ اگر کوئی سکول پڑھائی سے ذیادہ اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو شاید وہ اگلے روز ہی اپنے بچے کو سکول سے نکلوا لیں ایک دلچسپ بات ملاحظہ کرنے کی ہے کہ پورے ہفتے میں محض 20گھنٹے پڑھائی ہوتی ہے جبکہ دو گھنٹے روز اساتذہ کے بچوں کی سکلز کو بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں سات سال تک بچوں کے لیے یورپ ملک میں کوئی سکول نہیں اور پندرہ سال تک پورے ملک میں کوئی امتحانی سسٹم بھی نہیں ہے فِن لینڈ میں ایک ریاضی کے استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سیکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے کہ میں بچوں کو خوش رہنا اور اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں کیونکہ اس سے وہ اپنی زندگی کے ہر سوال کو با آسانی حل کر سکتے ہیں جس طرح جاپان میں تیسری جماعت تک ایک ہی مضمون پڑھایا جاتا ہے اور وہ ہے اخلاقیات اور آداب حضرت علیؓ کا قول ہے جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں ۔ معلوم نہیں کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور حضرت علیؓ کی یہ بات آج تک ہمیں کیوں معلوم نہ ہو سکی اس بات پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپانیوں نے لی ہوئی ہے اشفاق احمد مرحوم کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا تو انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ میں ایک استاد ہوں تو وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے تو اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز اساتذہ کی عزت میں ہے یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج وزوال راز۔ جاپان میں معاشرتی علم نہیں پڑھائی جاتی کیونکہ یہ پڑھانے کی نہیں سکھانے کی چیز ہوتی ہے جاپانی بہت اچھے طریقہ سے اپنے بچوں کو معاشرت سکھا رہے ہیں جاپان کے تعلیمی اداروں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود اہتمام کرتے ہیں صبح آٹھ بجے سکول آنے کے بعد سے دس بجے تل پورا سکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے اب پاکستان کے تعلیمی نظام کا ملاحظہ کرتے ہیں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے ہمارے بچے پبلیشر بن چکے ہیں تماشا یہ ہے کہ جو کتابوں میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں بچے دوبارہ اسی کو بڑی صفائی سے اپنی کاپیوں پر چھپاتے ہیں اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو اساتذہ امتحان میں دیتے ہیں خود ہی اہم سوالات پر نشان لگواتے ہیں خود پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کرتے ہیں نمبر بھی خود ہی دیتے ہیں بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کرتے ہیں اور اس نتیجے پر ماں باپ تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں جن کے بچے فیل ہو جاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو کوڑھ مغز اور کند ذہن ہونے کا طعنہ دیتے رہتے ہیں ہم تیرہ چودہ سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور سکول سے فارغ ہونے پر وہی بچے قطار توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں جو جتنے بڑے سکول سے پڑھا ہوتا ہے وہ اتنی ہی قطار کو روندتے ہوئے اپنا کام کروانے میں ماہر ہوتا ہے طالب علموں کا سارا وقت سکول میں سائنس کو رٹا لگانے میں گزرتا ہے مگر پورے ملک میں سائنس دان نامی کوئی چیز نظر نہیں آۓ گی کیونکہ بد قسمتی سے سائنس سمجھنے اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور اسے بھی ہم رٹا لگواتے ہیں میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858 میں ہوا برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس سے ہمارے پاسنگ مارکس 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32.5 ہونے چاہیے چھے سال بعد اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس %33 کر دیے گئے ہم انہی نمبروں میں اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف عمل ہیں گورنمنٹ کو چاہیے کہ تعلیمی پالیسی پر غور کرے اور نقل کے رجحان اور جعلی ڈگری کی روک تھام کر کے ملک کا مستقبل محفوظ کرے۔

About Author

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے