1710 گھروں میں ڈینگی لاروا پایا گیا۔

راولپنڈی:

راولپنڈی ضلع بھر کے اندر اور باہر بڑے پیمانے پر ڈینگی مچھر کے لاروا کی موجودگی نے جاری مہم کے بارے میں ابرو اٹھائے ہیں۔

ضلع راولپنڈی میں گزشتہ سات دنوں کے دوران 1,710 گھروں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی نے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی انتہائی ناقص لیکن ناقص کارکردگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ چار روزہ انسداد ڈینگی مہم کے دوران فیلڈ سٹاف نے 6,394 قرار دیے گئے ہاٹ سپاٹ کا دورہ نہیں کیا۔ تقریباً 9,476 مقامات کو ڈینگی وائرس پھیلنے کے لیے سب سے خطرناک ہاٹ سپاٹ قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مہم کے دوران 50 فیصد ہاٹ اسپاٹس کا دورہ نہیں کیا جاسکا جو لاروا کی افزائش کا باعث بن سکتا ہے اور بالآخر مہلک وائرل بیماری پھیل سکتی ہے۔

اگرچہ رواں سال اب تک ضلع بھر میں ڈینگی پازیٹو مریضوں کی تعداد 50 تک پہنچ چکی ہے لیکن بڑے پیمانے پر ڈینگی لاروا کی موجودگی اور اس کے خلاف ردعمل مایوس کن رہا ہے جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر احسن غنی نے بتایا کہ ڈینگی لاروا تلف کرنے کے لیے سپرے شروع کر دیا گیا ہے اور عوامی آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کمیونٹی ذمہ داری قبول نہیں کرے گی انسداد ڈینگی مہم کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شہری اپنے گھروں سے کھڑا پانی نکالیں اور کچرے کو بھی نکالیں تاکہ ڈینگی لاروا کو افزائش کا موقع نہ ملے۔

دریں اثناء ڈینگی کنٹرول رپورٹ کے مطابق وارننگ کے باوجود انہی مقامات سے انسداد ڈینگی مہم کے دوران لاروا ملنے پر شہریوں کے خلاف اب تک 776 ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔

اسی طرح 25 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا، 4 ہزار 579 نوٹسز جاری کیے گئے، 951 چالان کیے گئے اور 319 عمارتوں کو سیل کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر انصر اسحاق کے مطابق بڑے پیمانے پر ڈینگی لاروا کی موجودگی کے بعد ڈینگی کے خلاف مہم ایک مشکل کام بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت پنجاب سے درخواست کی گئی ہے کہ ڈیلی ویجز پر 2000 سنٹری گشتی بھرتی کیے جائیں تاکہ ڈینگی سرویلنس میں تیزی لائی جا سکے۔

دریں اثنا، کنٹونمنٹ کے علاقوں میں انسداد ڈینگی مہم میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے کیونکہ ڈینگی لاروا کے خاتمے کے لیے کوئی کیمیکل سپرے اور دیگر لاجسٹک سپورٹ فراہم نہیں کی جاسکی۔ ذرائع نے بتایا کہ کنٹونمنٹ حکام نے محدود وسائل کے ساتھ اپنی انسداد ڈینگی مہم شروع کر دی ہے۔

کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں ماضی کے مقابلے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مون سون کے موسم میں ڈینگی لاروا کی افزائش بڑے پیمانے پر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ڈینگی مچھر بڑے پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انسداد ڈینگی مہم کے باوجود مسلسل بارش اور شہریوں کی جانب سے گھروں اور باہر ڈینگی ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنا بڑے پیمانے پر ڈینگی لاروا کی افزائش کا باعث بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے بصورت دیگر مچھروں کی بڑے پیمانے پر افزائش کے باعث اگست کے تیسرے ہفتے میں ڈینگی کے پھیلنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس سے قبل مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے ضلع میں 152 بوگس انسداد ڈینگی سرگرمیوں کا پتہ چلنے کے بعد متعلقہ حکام کو وارننگ جاری کی گئی تھی۔

ایکسپریس ٹریبیون میں 12 اگست کو شائع ہوا۔ویں، 2022۔

جواب دیں