جواد علی عباسی 96

اک ستارہ تھا جو کہکشا ہو گیا۔۔

تحریر :جواد علی عباسی

آپ کو زندگی میں بہت کم لوگ ملیں گے جنھیں اللہ تعالی نے ایک سے زیادہ صلاحیتوں سے نوازا ہوتا ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر شہرت کی بلندیوں تک پہنچتے ہیں۔انھی صلاحیتوں کا مالک تھا محمد بلال خان۔
محمد بلال خان یکم جنوری 1997 کو پیدا ہوا۔بچپن میں ہی قرآن پاک حفظ کیا۔ایبٹ آباد کے کالج سے ایف ایس سی کی اور گریجویشن کے لیے اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔محمد بلال خان ایک طلب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین صحافی،بلاگر اور شاعر تھا۔
محمد بلال خان شہید نے 2012 میں فیس بک پر تحریریں لکھنی شروع کی اور چند سال میں بلال کا شمار سوشل میڈیا کے نامور بلاگرز میں ہونے لگا۔بلال خان جہاں لکھنے کا ماہر تھا وہی بولنے کا بھی ماہرتھا،یوٹیوب پر جب بلال خان نے وی لاگنگ شروع کی تو دو ماہ کے قلیل عرصے میں یو ٹیوب چینل پر بلال کے سَبسکرائیبر کی تعداد ہزاروں میں ہو گئی۔
محمد بلال خان نے ہر اُس مسئلے کو اپنا موضع بنایا جس پر بڑے بڑے صحافی لکھنے یا بولنے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔بلال خان کشمیر، افغانستان، فلسطین، برما کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بنا۔پاکستان میں جب اسلام پسندوں پر زمین تنگ کر دی گئی اس وقت سوشل میڈیا پر بلال خان ہی تھا جس نے اس ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کی۔
پاکستان میں جبری گمشدگی ہو یا مارائے عدالت قتل ہر ایک مظلوم کے ساتھ بلال خان شہید کھڑا نظر آیا۔
محمد بلال خان نے سوشل میڈیا کے ہر محاذ پر ختم نبوت، دفاع صحابہؓ اور دفاع اسلام کی بہترین جنگ لڑی ہمیشہ دشمن کو دلائل سے چِت کیا۔دشمن صحابہ،قادیانیوں اور قادیانی نواز، ملحدین اور سیکولرز کے عزائم کو بڑی دلیری سے بےنقاب کیا۔
محمد بلال خان کا تعلق تو دیوبندی مسلک سے تھا لیکن ختم نبوت کے مسئلے پر بریلوی مسلک کی جماعت تحریک لبیک کے ساتھ کھڑا نظر آیا جب ٹی ایل پی کے فیض آباد دھرنے کی میڈیا پر پابندی تھی بلال خان نے اس دھرنے کو دن رات کوریج دی اور علامہ خادم رضوی صاحب کا انٹرویو کیا۔اسی طرح جب حکومت کے دباؤ میں آ کر سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کیس کا فیصلہ سنایا تو بلال خان نے وکلاء کی پریس کانفرس جس کو مین سٹریم میڈیا پر دیکھانی کی پابندی تھی اپنے یوٹیوب چینل پر لائیو چلایا اور لاکھوں لوگوں تک وکلاء کا مؤقف اور کیس کے حقائق پہنچائے۔
بلال خان کا قصور بس اتنا تھا کہ وہ دلیر، حق گو اور سچا انسان تھا۔بلال خان کو یہ معلوم تھا کہ اس معاشرے میں دلیر ،حق گو اور سچے انسان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے جس کا اظہار بلال خان نے مجھ سے کیا بھی،ایک مرتبہ بلال خان سے میں نے کہاں بلال بھائی آپ سچ کچھ زیادہ لکھتے اور بولتے ہیں اپنے قلم اور زبان میں مصالحہ کم رکھا کریں،یہ نہ ہو کے آپکو بھی لاپتہ کر دیا جائے اور ہمیں سوشل میڈیا پر فری بلال خان کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ چلانا پڑے، بلال خان نے مسکرا کر جواب دیا نہیں جواد بھائی میرے ساتھ ایسے نہیں ہو گا مجھے سیدھا ٹپکا دیا جائے گا۔بلال خان کو یہ یقین ہونے کے باوجود اس نے سچائی کا راستہ کبھی ترک نا کیا۔آخرکار 16 جون کی شام جب محمد بلال خان بہارکہو اپنے ایک عزیز کے گھر تھا اسے ایک نمبر سے کال آئی اور اسے اسلام آباد کے ایک سیکٹر میں بلوایا گیا۔بلال خان جب اپنے ایک چچا کے ساتھ متعلقہ جگہ پر پہنچا تو چھپے ہوئے دشمن نے خنجر کے وار کر کے بلال خان کو شدید زخمی کر دیا۔جس کی تاب نالاتے ہوئے محمد بلال خان شہید ہوگے۔محمد بلال خان کا پہلا نماز جنازہ17 جون کی صبح انکی وصیت کے مطابق آبپارہ اسلام آباد میں مولانا مسعود الرحمان نے پڑھائی اور دوسری ایبٹ آباد میں انکے والد محترم نے پڑھائی اور جسمیں الحمداللہ میں نے بھی شرکت کی۔
دشمن نے سوچا کہ کہ آذانِ بلالی کو دبا دے گا لیکن دشمن کو یہ معلوم نہ تھا کہ بلال تو آتے جاتے رہتے ہیں آذانیں جاری رہتی ہیں۔
محمد بلال خان کو شہید ہوئے آج ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن بلال خان کے قاتل آج بھی آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔بلال خان کیس کی فائل اسلام آباد کے کسی تھانے کی الماری میں گردالودہ پڑی ہے۔بلال کے قاتلوں کو پکڑنا کوئی مشکل بھی نہیں تھا بس پولیس کو وہ نمبر ٹریس کرنا تھاجس سے بلال کو کال آئی تھی۔بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ قاتل اتنے طاقت ور ہیں کہ پولیس انکے خلاف کاروائی کرنا ہی نہیں چاہتی۔بلال خان کی روح سوال کرتی ہے

خواب سہانے دیکھنے والو! خوابوں کی تعبیر ہے کیا؟
اس دھرتی کو نوچنے والوں کی بھی کوئی تعزیر ہے کیا؟

میرے خون کو بیچنے والے زندہ ہیں، تابندہ ہیں!
اس سے بڑھ کرمیرے لُہو کی، اور کہوتحقیر ہے کیا؟

میرے دیس میں شام کا قاتل،صبح محافظ ٹھہرا ہے!
محکوموں اور مظلوموں کی، اب کے یہی تقدیر ہے کیا؟
(بلال خان کے اپنے اشعار جو شہادت سے چند دن پہلے لکھے تھے۔)

Read in English

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں