90

”مری لاک ڈاون“ کیاگائیڈز انسان نہیں اوروں کا کیا قصور؟؟؟؟

تحریر :محمد عتیق عباسی

وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے جب لاک ڈاون کیا گیا تو مری کے تمام کاروباری طبقہ نے”آمین“کہا اور مکمل حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کیا۔ جس سے پنجاب حکومت کی گڈ بک میں انتظامیہ کا نام آیا مگر یہ سب کچھ کب تک ممکن ہے کیونکہ مری بھر کے دیہی علاقاجات اور شہر میں آج بھی بڑی تعداد میں گھر۔فلیٹس۔گیسٹ ہاوسز آباد ہیں۔ارباب اختیار کی فیملیز مری کےلیئے کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی کسی ناکہ پر انکو روکنے کی کوئی جسارت کر سکتا ہے ارباب اختیار اور بیوروکریٹس کی فیملیز مری شہر اور تمام تفریحی مقامات پر بھر پور طریقہ سے ملکہ کوہسار کے حسین موسم اور دلفریب نظاروں سے لطف اندواز ہوتی انسانی آنکھیں دیکھ رہی ہے اور ان کی وجہ سے سرکار کہ گیسٹ ہاوسز بھی آباد ہیں لاک ڈاون جس مقصد کےلیئے کیا گیا تھا اسکو پاٶں کی جوتی کی نوک پر بیوروکریسی ارباب اختیار اور اشرافیہ نے مارا۔عید پر ہوٹل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری راجہ یاسر ریاست نے عوامی تکالیف کہ پیش نظر لب کشائی کی اور مختلف میڈیا ہاوسز نے ان کی آواز کو اوپر تک پہنچایااور پھر مری کی عوام کے درد دکھ میں ساتھ دینے والی سیاسی شخصیت سابق تحصیل ناظم مری سردار محمد سلیم خان کے تعلقات اور لازوال دوستی میں مری کے کاروباری لوگوں پر مشتمل ایک وفد جسکی قیادت ہوٹل ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کہ صدر حافظ جاوید اخترکر رہے تھے جسمیں انجمن تاجران میڈیا اور دیگر ””ہوائی تنظیمیںوں““ کی نمائندگی بھی دیکھنے کو ملی صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت سے ملاقات کی جسمیں کوہسار یونین آف جرنلسٹس و مری الیکڑانک میڈیا کے صدر اورنگذیب عباسی بھی موجود تھے وفد نے راجہ بشارت کو اہل مری کو درپیش لاک ڈاون کی مشکلات سے آگاہ کیا صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت جو کہ اسوقت سیکنڈ وزیر اعلی پنجاب بھی ہیں نے حسب وعدہ اہل مری اور کارباری طبقہ کی مشکلات سے حکومت پنجاب کہ سامنے بات رکھی بات چلی تو منتخب قیادت جو مری میں خوردبین سے بھی دیکھنے کو نہیں ملتی خواب خرگوش سے بیدار ہوکر متحرک ہوئی اور یوں سارا معاملہ وزیر اعظم عمران خان تک پہنچا جنھوں نے سیاحتی مقامات کھولنے کا اعلان کیا مگر اس پر ابھی تک عمل درآمد نہ ہوسکا عملدرآمد ہو بھی کیسے جنھوں نے ایس اوپیز بنا کر رپورٹ دینی ہوتی ہے ان کی اکثریت ملکہ کوہسار کہ پرفضاء مقامات سے اپنے اہل و عیال سمیت جو لطف اٹھا رہی ہے اوپر سے مری میں لینٹر مافیا بھی اندرون خانہ لاک ڈاون برقرار رکھنے کےلیئے متحرک ہے اگر مری جیسے سیاحتی مقام کو کھول دیا کاۓ تو ””لینٹر مافیا““ کا کیا بنے گا کیونکہ انتظامیہ کو متحرک ہوکر سڑکوں سے تعمیراتی میٹریل جو اٹھوانا پڑے گا اور اس طرح تجوریوں میں آنے والا اوپر کا””مال““ رک جاۓ گا البتہ اس ساری صورتحال میں مری کے گائیڈز(ایجنٹس)۔کھوکھا مالکان گھوڑا سواری والے غبارے والے۔ٹیکسی گاڑیوں والے ریڑھی والے چھوٹے تاجر جن کا رزق بھی لاک ڈاون کی وجہ سے بند ہے اور اکثریت کہ چہروں سے بھوک اور افلاس کی لکیریں پڑھی جاسکتی ہیں جو واضح پیغام دے رہیں کہ جناب وزیر اعظم عمران خان جناب وزیر اعلی عثمان بزدار”” بھوک تہذیب و تمدن کہ اصول مٹا دیتی ہے““اب بھی وقت ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کہ ارباب و اختیار کو مری و ضلعی انتظامیہ حقائق سے آگاہ کرے کہ لوگوں کی اکثریت””تنگ آمد باجنگ آمد““ کی طرف جاتی تیار نظر آتی ہے اسلیئے ایس اوپیز بنا کر مری کے کاروبار کو کھول دیا جاۓ کیونکہ کرونا وائرس سے تو ایس اوپیز پر عملدرآمد کر کہ بچا جاسکتا ہے مگر بھوک سے بچنا ممکن نہیں اور مری سے حکومتی جماعت کے ارباب اختیار بھی اپنی اعلی قیادت کو بتائیں کہ ہوٹلز گائیڈ””ایجنٹس““
کھوکھے والے گھوڑے والے غبارے والے ریڑھی والے بھی انسان ہیں ان کا کچھ خیال کریں ورنہ مری میں جاری آجکل کی مشاورت کسی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ہوٹلز گائیڈز مری کہ صدر واحد مصطفی عباسی نے ایک گفتگو میں مجھے سے کہا کہ میں کب تک اپنے سینکڑوں گائیڈز کو طفل تسلیاں دیتے رہوں گا اور اگر گائیڈز اور دیگر افراد جن کا رزق مری کی سیاحت کے ساتھ وابستہ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی اور طرف چل نکلے تو یہ ذمہداری کس پر ””عائد““ ہوگی کیونکہ مری کا مشہور”” شوفا““ ڈاکو بھی اصول پسند تھا اور پہاڑ کا
””غیرت مند““ باسی کسی صورت اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتا یہاں پر میں مری کہ ورکنگ جرنسلٹس کو سلام کرتا ہوں جنکی رپوٹنگ اور کوششوں سے مری کا ایک بہتر چہرہ دنیا کہ سامنے جہاں پیش کیا جارہا ہے وہائیں پر پہلی مرتبہ حلقہ این اے 57 کے تمام علاقائی صحافی کوہسار یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم پر متحد نظر آرہے ہیں اور امید ہے کہ مری کہ لوگ جن کی اکثریت گرمیوں کہ ایام میں پورے سال کی روٹی روزی کا بندوبست کرتی ہے اور اس میں اکثریت ہوٹلز گائیڈز (ایجنٹس) کھوکھے والے۔گھوڑوں والے ۔ریڑھی والے۔ٹیکسی والوں کی ہے کیا یہ انسان نہیں ہیں اور انکا قصور کیا ہے
اپنی قیمتی آراء وٹس ایپ نمبر 03125471795 پر دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں