dr sohail jhelum 209

تلخ حقیقت صحافی کا اپنا کون؟؟؟؟

تحریر :ڈاکٹر سہیل امتیاز خان

جہلم /میرے غیور صحافی بھائیو ہم دن رات جس عوام اور لیڈروں کیلے ایک کرتے ہیں اور سپیشلی اجکل بڑی بڑی تنظیمیں اور سیاسی کارکنان راشن تقسیم کے لیے جاتے ہیں تو فوٹو شوٹ کے لیے صحافی بھائیوں کے بہت ضرورت پیش اتی ہے کیونکہ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر انہیں تشہیر کی ضرورت ہوتی ہے کیا ان کو اس وقت ان سفید پوش صحافی نظر نہیں آتے کیا ان کو آپ کا خیال ہےاس دو ماہ کے لاک ڈاؤن میں آپ سے کسی نے آکر پوچھا کہ میرے بھائی کسی چیز کی ضرورت ہے میں کچھ کر سکتا ہوں اس مشکل گھڑی میں آپ کےلئے اور جس عوام کیلے ہم آواز اٹھاتے ہیں کیا وہ ہمارے آواز بنتے ہیں نہیں جب آپ کسی مشکل میں پڑتے ہیں تو سب سے پہلے اسی عوام کی توپوں کا رخ آپ کی طرف ہوتا ہے کیا آپ کو منتخب نمائندوں کی طرف سے داد رسی کا کہا جاتا ہے نہیں مجھے بتایں کہ کیا ہمارا قصور ہے کہ ہم کرپٹ مافیا ، زخیرہ اندوزوی ، ملاوٹ ، اور ان گراں فروشوں کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں اس عوام کی خاطر جس سے آپ کا کوئی فایدہ نہیں بلکہ نقصان ہے آپ جس کے خلاف لکھیں وہ آپ کا دشمن اور آپ کو بلیک میلر اور لفافہ صحافی کا لقب افسوس صد افسوس صحافی کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ سچا ہے لیکن حیرت ہے کہ ہماری کوئی نہیں سنتا لیکن صحافیوں پر آوازیں کسنے والوں اللہ بڑا غفور الرحیم ہے میں اپنی بات کروں الحمدللہ والد صاحب کی نیک شہرت ہے
مجھے صحافت میں آنا کا شوق تھا خدمت خلق کرنے اور لوگوں کے رفاعی کام کرنے کا شوق تھا تو ایک دن جہلم کے سینئر صحافی محمد شہباز بٹ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا آپ بڑے بھائی ہیں آپ صحافت میں کیوں نہیں آجاتے شروع شروع میں انہوں نے رہنمائی کی پھر میں نے تقریباً 3سے 4سال روزنامہ اوصاف لاہور کے ساتھ کام کیا پھر ایک میرے محسن محترم عابد شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے مجھے جنگ میں کام کرنے کو کہا میں نے 2005 میں جنگ راولپنڈی جائن کر لیا اور الحمدللہ 2006میں جیو نیوز سے بھی رپورٹنگ شروع کر دی اللہ تعالیٰ میرے استاد محترم جناب عابد شاہ صاحب کو سلامت رکھے اور الحمدللہ صحافت میں اپنے فرائض کو پوری ایمانداری سے سرانجم دے رہا ہوں الحمد اللہ اج اللہ نے عزت شہرت اور مال دولت کی کوئی کمی نہیں دی لیکن اس کو مشن بنا کر اپنا آپ منوایا اور آج اللہ نے جتنی عزت دی ہے اس پر جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے آپ سب دوستوں کو صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ صحافی لاوارث نہیں ہے اور نہ ہی یہ گھر سے فارغ ہوتے ہیں چند مفاد پرستوں کی وجہ سے یہ شعبہ بدنام ہے آج کسی کی گلی یا نالی میں پانی جمع ہو جاے تو صحافی آپ کی آواز بنتا ہے سبزی فروٹ مہنگے ہو جاییں تو یہ ہی آپکی آواز بنتا ہے لیکن افسوس ہوتا ہے جب اس کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے ہمارے لیڈران نے تو کھبی بھی صحافیوں کی عزت کی پرواہ نہیں کی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کو کچھ نظر نہیں آتا ہم اپنا رول ادا کرتے ہیں آپ بھی اپنا رول ادا کریں عوام ہماری طاقت بنے ناکہ ایسا ہو کہ آپ پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاییں اور ان کو بیان کرنے والا کوئی نہ ملے صحافی کی عزت بچانا آپ کی زمہ داری ہے صحافی معاشرے میں ہر ظلم کی عکاسی کرتا ہے مگر جب بھی کبھی کسی صحافی پر مشکل وقت اتا ہے تو عوام اور سیاسی لیڈران منظر عام سے غائب ہو جاتے ہیں
🌹جیو تو عزت کے ساتھ🌹

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں