187

کیا پلاسٹک انسانوں کے لیے خاموش قاتل بن گیا،،،،تحریر:خمیراہ صدیق مری،،،،،

کیا پلاسٹک انسانوں کے لیے خاموش قاتل بن گیا

تحریر:خمیراہ صدیق

دنیا بھر میں پلاسٹک ویسٹ کی آلودگی خطر ناک سطع پر پہنچ گئی ہر چیز میں پلاسٹک کا استعمال زیادہ ہونے سے انسانی زندگی مشکل میں پڑ گئی لیکن اگر انسان چاہے تو اپنی فہم اور سوچ کے ذریعے تقریبا ہر مسلے کا حل نکال سکتا ہے،لہذا اپنے ارد گرد کے ماحول کی بقا کے بارے میں سوچنے کی ذمہ داری بھی ہم سب پر یکساں عائد ہوتی ہے اگر ہم ماحولیاتی آلودگی اور اسکی وجوہات پر نظر کریں تو ہم خود ہی اس تباہی کے بنیادی طور پر ذ مہ دار ہیں ایسی ہی مثال پلاسٹک اور اس سے تیار شدہ مصنوعات کی ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ دن بدن بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر اشیاء کی تیاری کے لیے نت نئے نئے مواد دریافت ہو رہے ہیں جو کے انتہا ئی مہنگے ہیں جبکہ پلاسٹک اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کم خرچ اور ان کی تیاری آسان ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک میں بالعموم مقبول ہیں۔ لیکن اس سہولت کی قیمت ہمارے ماحول اور عوام کو مالی اور جانی نقصان کی صورت میں دگنی ادا کرنی پڑھتی ہے۔ہر چیز پلاسٹک میں فروخت کی جا رہی ہے چاہے وہ کوئی کولڈرنگ ہو یا منیرل واٹر کی بوتل ہو یا بازار سے خریدی گی کوئی گرم یا ٹھنڈی اشیاء ہو سب کچھ پلاسٹک بیگ میں ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ سب جان بوجھ کر ہم خود سے تو دشمنی کرتے ہے ساتھ ہی ہم اپنے بچوں کو بھی یہ زہر پلا رہے ہوتے ہیں سب سے پہلے تمام کولڈرنگ جو بچے شوق سے پیتے ہیں اس کے بعد نونہال چھوٹے معصوم بچے جن کو ہم زہر فیڈر میں گرم دودھ کی صورت میں دیتے ہیں کیونکہ کوئی بھی گرم چیز جب پلاسٹک کے کسی بیگ، کپ،یا بوتل میں ڈالی جاتی ہے تو اس کے ذرات پگھل کر اس چیز کے اندر گھل جاتے ہیں جو کینسرجیسی خطرناک بیماری کا باعث بن جاتے ہیں یہ پلاسٹک ہمیں صرف کھانے پینے میں نہیں بلکہ ہر چیز میں نقصان پہنچا رہا ہے جیسے کے پلاسٹک بیگ کو استعمال کرنے کے بعد جگہ جگہ نالوں یا نالیوں میں پھینک دیا جاتا ہے جو کہ سیوریج کی لائنوں اور نقاصی آب املاک میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہے جس سے پائپ لائنز ٹوٹ جاتی ہے جو عوام کے لیے پریشانی کا بہت بڑا مسلہ بن جاتا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی مسائل پلاسٹک کی اشیاء کے استعمال سے پیدا ہوتے ہیں مثلا پولیسٹر تیار شدہ ملبوسات پہننے کی وجہ سے جلدی امراض،الرجی وغیرہ کا بھی امکان رہتا ہے۔پلاسٹک کے استعمال کو آہستگی سے ترک کرنا وقت کی ضرورت بنتا جا رہا ہے جسکا بہترین حل یہ ہے کہ آپ بازار جاتے وقت اپنے ہمراہ ایک لکڑی کی ٹوکری لے جائے جسے بآسانی آپ اپنے گھر میں تیار کر سکتے ہو اس سے آپ پہلے قدم سے ہی شاپر جیسی بیماری سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں جو کہ ہمارے آنے والے کل کے لیے ایک بہتر فیصلہ ہے۔اس کے علاوہ کھانے پینے والے برتن کے متبادل آپ کانچ یا دھاتی برتن کو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں جس کے استعمال کرنے سے آپ بہت ساری بیماریوں سے بچ سکتے ہیں اگر ہم اپنی زندگی میں ہر کام اپنی مرضی سے کرتے ہیں تو ہم اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کے لیے اس سسٹم کو بھی بدل سکتے ہیں جو ہمیں خاموش موت دے رہا ہے تو پھر ہم آج سے ہی کوشش کرتے ہیں کہ ہم پلاسٹک سے بنی ہر چیز سے پرہیز کریں گئے ہر روز یا پورا دن پورے ملک کے بازاروں میں ایک ہجوم لگا رہتا ہے ایک گھر کا فرد تقریبا دن میں دس مرتبہ تو آتا ہی ہے اور اگر دن میں دس مرتبہ ٹوکری یا گھر کا بنا تھیلہ لے کر جائے تو مہینے میں ہم تین سو پلاسٹک بیگ سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں اور اگر اسی کو ہم نے اپنا معمول بنا لیا تو یقینا ہم ایک دن اس پلاسٹک جیسے قاتل سے مکمل طور پر جان چھڑوا لیں گئے۔اور اپنی زندگیوں کو بہتری کی طرف لے جائے گئے اللہ تعالی نے انسانوں کو صاحب عقل بنایا ہے پھر ہم لوگ اس عقل جیسی نعمت کو اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کے لیے کیوں نہیں استعمال کرتے۔ہم نیت کرلیں تو ہم اپنے مسائل کا حل خود کر سکتے ہیں بس اس کے لیے ہمیں خود پر اعتماد اور تھوڑا بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے کوشش کرنے سے انسان کے لیے نئی راہیں کھلتی ہے تو آج سے ہی پہلا قدم اٹھاتے ہیں اور عزم کرتے ہے کہ ہم سب پاکستانی مل کر اپنے ملک میں ایک مثبت تبدیلی لائے گئے اور پلاسٹک کی بنائی ہوئی اشیاء کو کم سے کم استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کریں گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں