44

میرے پیارے ہم وطنو

compatriots

السلام علیکم میرے پیارے ہم وطنو

محمد عتیق عباسی۔

پاکستان کو قائم ہوۓ 75 سال پورے ہونے کو ہیں۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر اسلام علامہ محمد اقبال اور انکے دیگر تحریک پاکستان کے ساتھیوں کی آج کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہونے والے اسلامی جموریہ پاکستان کے نام پر دی جانے والی قربانیوں پر انکی روحیں کانپ رہی ہونگی۔پاکستان روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر نہیں بنا تھا روٹی کپڑا اور مکان تو دینا بھر کے ہر انسان کو ملتا ہے یہ پیارا وطن خود مختار آزاد قوم کے لیئے بنا تھا۔آج قائد اعظم کے افکار اور علامہ اقبال کے اشعار صرف اور صرف کتابوں تک محدود رہ گئے ہیں۔قائد تو اٹھتے وقت بجلی کا بٹن خود بند کر دیا کرتے تھے۔سرکار کے خزانے سے چاۓ بھی نہیں پیتے تھے۔خودار تھے۔اقبال کی ایک سوچ اور شعرانہ علم تھا۔علامہ اقبال کی ہر شعر میں وزن ہوتا تھا۔اور مسلمان ان کے اشعار کو بھی سمھجتے تھے آج میرے اور آپ کے ملک کی حالت کیسی ہو گئی ہے۔سیاست کرنے یا پھر دینا سے رخصت ہونے کے بعدجنازے ہی پاکستان آتے ہیں۔قائد نے جان بھی اس دھرتی پر دی اور قائد اعظم کے بعد اس دھرتی بلکہ امت مسلمہ کے لیئے اگر کسی نے اپنے آپ کو قربان کیا تو وہ ہماری سیاسی تاریخ میں ایک ہی نام ہے اور وہ نام امت مسلمہ کو یکجا کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کا ہے۔بھٹو نے اپنے دلیرانہ سیاسی شعور پر قوم کی ترجمانی کی اور قوم نے بھی بھٹو کی کال پر لببیک کہا۔مگر عالمی استعمار نے بھٹو جیسا لیڈر پاکستانی قوم سے ہی نہیں امت مسلمہ سے چھین لیا۔لیکن بھٹو کے کارناموں کی بنا پر انکا نام قیامت تک زندہ و جاوید رہیگا۔ بھٹو کے ایک ساتھی مری کشمیر پوائنٹ کی ایک ملاقات کے بعد بھٹو کی فرمائش پر ٹھیکداری سے سیاست میں آنے واکے ملک پاکستان کے معروف اینکر پرسن کاشف عباسی کے والد محترم بابو محمد حنیف عباسی بھٹو دور میں رکن پنجاب اسمبلی رہے۔آج بھی انکا نام کوہسار میں عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔بابو محمد حنیف نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوۓ کہا کہ اگر میں آپکے کام نہ کر سکوں تو مجھے گریبان سے پکڑ لینا ممبر پنجاب اسمبلی بننے کےبعد راولپنڈی چاندنی چوک اپنے گھر کے صحن میں دیگر لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے تو ایک نوجوان نے آکر ان کا گریبان پکڑ لیا اور کہا کہ آپ نے فلاں جلسہ میں کہا تھاکہ اگر کام نہ کر سکوں تو گریبان سے پکڑ لینا۔جس پر وہاں موجود لوگ اٹھے اور اس نوجوان کی طرف لپکے۔تو بابو محمد حنیف نے انکو روکا اور نوجوان سے پوچھا کہ کیا کام تھا۔نوجوان نے کام بتایا بابو محمد حنیف اٹھ کر گھر کے اندر گئے اور اندر سے ایک کاغذ اٹھا کر لاۓ اور نوجوان کو دیتے ہوۓ کہا کہ گریبان پکڑنے سے پہلے پوچھ لینا چاہیئے تھا کہ کام ہوا کہ نہیں ہوا یہ دیکھ لو تمھارا کام ہو چکا ہےلیکن میں یہ تمھارے گھر نہیں پہنچا سکتا تھا۔پرانے وقت میں زبان اور قول کا پاس رکھا جاتا تھا۔آج کی نئی اپ ڈیٹ سیاست کی پیپلز پارٹی کی سیاست میں ورک بہت خوش ہے کیوں کہ راجہ پرویز اشرف ایک عام ورکر سے ممبر قومی اسمبلی۔وزیر۔وزیر اعظم اور اب جاکر سپیکر قومی اسمبلی بننے۔ایسی سیاست سے ورکر خوش ہوتا ہے۔ہر سیاسی جماعت میں عوامی دکھ درد رکھنے والے ایسے نمائندے موجود ہیں جو ملک اور اسلام دونوں کا خیال رکھتے ہیں علی محمد خان کی قومی اسمبلی کی آخری تقریر تحریک انصاف کی تین سال آٹھ ماہ کے اقتدار پر وزنی ہے جس نے کارکناں کے دل جیتے۔اپوزیشن ممبران نے بھی اپنی جگہ علی محمد خان کے آخری خطاب کو سراہا ہو گا۔بحثیت پاکستانی قوم ہر سیاسی جماعت کے جلسہ میں شرکت کرنا ہم اپنا قومی فریضہ تصور کرتے ہیں۔عمران خان کی سوچ کام اور حکمت عملی پر شک کی گنجائش نہیں مگر مرواتے اور خوار ہمیشہ قریبی دوست اور سیاسی مشیر ہی ہیں۔عمران خان کی عالمی سطح پر شہرت اور خطاب بیشک بہت اچھے مسلم لیڈر کے خطاب تھے جو دنیا بھر میں مسلمہ امہ نے پسند کیئے۔لیکن جلسوں اور پارٹی پروگرامز میں انگریز سٹائل کے کارکنان کے جذبات کو ابھارنے کے لیئے ہر دفعہ نواز شریف۔آصف علی زرداری۔مولانا فضل الرحمان۔شہباز شریف پرتنقید سے مہذب لوگ تنگ آچکےتھے تحریک انصاف کے کارکنان کی اکثریت کی سوشل میڈیا سائیڈز طوفانی بدتمیزی سے بھری پڑی ہیں۔عمران خان صاحب گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہوتی ہے۔جب انتخابات کے بعد جہانگیرترین کا جہاز آزاد پنچھی اور انتخاب سے قبل پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو تحریک انصاف میں شامل کیا جا رہا تھا تو اسوقت بھی میں نے لکھا تھا کہ یہ آصف علی زرداری کی ایما پر پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں بھٹو اور بی بی کے جیالے شامل ہو رہے ہیں۔یہ پالتو طوطے بلی دیکھتے ہی سیکھائی گئی آپ کی زبان بھول کر اپنی ٹیں ٹیں کریں گے۔آج وہی ہوا۔آپ اپنے منشور پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ ادارے مضبوط کرتے ریفارمز لاتے۔عوام کی حالت زندگی بدلنےکی کوشش کرتے تو تو کبھی بھی عدالتوں میں کیسیز کا سامنا کرنے والے ملک کے اعلی ترین منصب پر فائز نہ ہوتے۔لیکن اس کے ذمہدار اور قصور وار بھی عمران خان خود ہیں جو اپنے مطلب کی ہر چیز دیکھ لیتے ہیں مگر اپنی آستینوں میں چھپے سانپوں کو نہیں دیکھ سکتے۔وسیم اکرم پلس نے جس رکن پنجاب اسمبلی کو 3سال8ماہ تک مشیر جیل خانہ جات بناۓ رکھا۔کیا خان صاحب کو اس رکن پنجاب اسمبلی کا ٹریک ریکارڈ معلوم نہ تھا۔اور کیا شمالی پنجاب کے پارٹی صدر نے پارٹی کو اس کے ٹریک ریکارڈ بارے آگاہ نہیں کیا تھا۔آج وہ مشیر فخریہ انداز میں اپنی وفاداری کی تبدیلی کا تذکرہ کرتا ہے۔عمران خان کو چاہیئے کہ اب ایک مرتبہ پھر آپ نے اچھا کارڈ امریکہ مخالفت کا اور اسلام محبت کا بہترین طریقہ سے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔آپ قوم کو زبانی یاد ہو جانے والی تقریر کو بدلیں اور پارٹی کو فعال کریں۔سوشل میڈیا والوں کی جگہ عوامی رابطہ والے سیاسی لوگوں کو عزت دیں یہ حقیقت ہےکہ آپ کہ ٹکٹ پر منتخب ہونے والے آپ کے ٹکٹ کے بغیر بلدیاتی الیکشن بھی نہیں جیت سکتے۔جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب بھی پارٹی کی جگہ عوامی تکالیف دور کرنے اداروں کو آزاد اور خود مختار بنانے اور بگڑے ہوۓ معاملات کو درست کرنے پر توجہ دیں آج جو عمران خان کو چھوڑ کر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کی طرف اڑان بھر کر گئے ہیں یہ وہاں سے بھی کہیں اور اڑان بھر سکتے ہیں۔عمران خان کے بیانیے کوشکست دینا بہت مشکل نظر آتا ہے۔لوگ جلسوں میں حلف دے رہے ہیں اور امریکہ مردہ باد پر تو ویسے بھی ہم لببیک کہتےہیں۔اگر ملک کی تمام سیاسی قیادت نے ملک کا نہ سوچا۔تو میریٹ ہوٹل اسلام آباد سے شروع ہونے والا کھیل پاک آرمی کے افیسر کو زدوکوب کرتا پنجاب اسمبلی تک پہنچ چکا ہے۔اور کہیں خدا ناخواستہ یہ کھیل سیاستدانوں کے گھروں اور کارکنوں کے گھروں تک پہنچ گیا تو پھر آواز آئیگی اسلام علیکم میرے پیارے ہم وطنو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں