73

تبدیلی سرکار کے 4سال۔ملکہ کوہسار مری میں کرپٹ مافیا اور ڈونیشن مافیا کی موجیں لگی رہیں۔

Pakistan 4 years of change of government. Waves of corrupt mafia and donation mafia continue in Queen Kohsar Murree.

تبدیلی سرکار کے 4سال۔ملکہ کوہسار مری میں کرپٹ مافیا اور ڈونیشن مافیا کی موجیں لگی رہیں۔
اپوزیشن تحریک انصاف کے اقتدار بچنے اور مذید اقتدار میں رہنےکی دعاؤں میں
نہ گرین بیلٹ بچا۔نہ جنگل محفوظ رہے۔برساتی نالوں اور قدرتی راستوں پر تعمیرات تو کوئی جرم ہی نہیں

تحریر محمد عتیق عباسی.

آج کل ملکی سیاسی صورتحال میں جو گرما گرمی عروج پر ہے۔اس کے سب سے برے اثرات مری پر پڑتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ سالوں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے جھیکا گلی کے مقام پر لب روڈ تعمیرات ہوتی دیکھ کر کہا تھا کہ یہ جنگل کی زمین نہیں۔گزشتہ سال ہی مریم نواز کشمیر پوائنٹ باغ شہیداں میں اپنے گھر سے نکلیں۔تو گھر سے کشمیر پوائنٹ کی طرف جاتے ہوۓ۔سوشل میڈیا کے کارکنان جن کی سیاسی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے۔اور وہ خوش آمد اور اپنے عہدے اور مفادات حاصل کر رکھے ہیں انھوں نے مریم نواز کے گزرتے ہوۓ کچھ ایسے سیاسی جملے کہے جو صرف جلسوں کی حد تک قابل برداشت ہوتے ہیں۔ مری میں ایسی باتوں کی اجازت نہ یہاں کی روایات اور نہ اقتدار دیتی ہیں۔یہ راویات بدتہذیبی کی مری کی سیاست میں تحریک انصاف کے ایک مقامی لیڈر نے سابق دور حکومت کے دوران اسوقت کے صوبائی وزیر اور ان کے بھائیوں کے گھروں کے سامنے تحریک انصاف کے کارکنان کو جمع کر کے ٹائر جلا کر ڈالیں۔جس کے احتجاج میں موجودہ ایم این اے بھی شرکت کرتے رہے۔ایسی تربیت پانے والے خود ساختہ ورکرز جنکو حلقہ میں پالشی مالشی کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔انھوں نے مریم نواز کے گزرتے ہوۓ نازیبا جملے ادا کیئے تو مریم نواز گاڑی روک کر نیچے اتریں اور صرف اتنا کہا کہ ہم دوبارہ آئیں گے۔اب ملکی سیاسی صورتحال میں ملک بھر کی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما اور کارکن پرجوش اور خوش ہیں۔مگرمری کی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنما اور کارکنان سخت پریشان ہیں اور تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کےلیئے دعائیں کر رہے ہیں۔کہ یا اللہ عمران خان کی حکومت کو بچا بھی اور مذید آگے بھی انکو اقتدار نصیب فرما۔جس کی بڑی وجہ ان پونے چار سالوں میں مری میں ٹاوٹ مافیا کا طاقتور ہونا اور اداروں کا کمزور ہونا ہے۔ابھی تو شہباز شریف نے نہ تو گرین بیلٹ تعمیرات دیکھیں اور نہ ہی شاید انکو علم ہو کہ جس جگہ پر بطور وزیر اعلی انھوں نے بذات خود لینڈ سلائیڈنگ روکنے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوۓ اس جگہ کام دیکھنے کا وزٹ کیا۔اب تو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم کے امیدوار شہباز شریف ہی نظر آتے ہیں۔جو مری اپوزیشن شخصیات کے لیئے درد سر ثابت ہونگے۔ان گزرے پونے چار سالوں میں مری حکومتی شخصیات اور اپوزیشن کا فرینڈلی ماحول اور مل ملاپ رہا۔جس کا خمیازہ مری کی دھرتی ماں اور اہل مری نے بھگتنا ہے اور فائدہ چند شخصیات نے اٹھایا۔مری کی تباہی سے مستعفی ہونے والے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار یا تو بلکل بے خبر رہے یا پھر ان تک معاملات ڈاکیا کے ذریعہ پہنچتے رہے۔مری میں ٹاوٹ مافیا نے ہر سرکاری ادارے کی اہمیت اور خوف ہی ختم کر کہ رکھ دیا۔محکمہ مال کے ذمہداران تو صرف کھلی کچہریوں میں ہی آتے رہے باقی تو تنخواہ لینے کی ذمہداری تو بلکل بھول ہی گئے۔اب حساب کتاب کا وقت قریب ہے اگر عوام نے آنکھیں کھلی رکھیں تب۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں