Kahuta 98

کہوٹہ آج بھی مسائل کی دلدل میں کون سنے فریاد

کہوٹہ آج بھی مسائل کی دلدل میں کون سنے فریاد

تحریر۔ ملک محمود اختر

ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کی عوام آج بھی شدید ترین مسائل کاشکار ہیں،یہاں کی عوام آج بھی شدید ترین کمپسر ی کی زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں،تعلیم ، صحت ، پینے کے صاف پانی کے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں ، سب سے پہلے ٹی ایم اے میو نسپل کمیٹی کی طر ف سے جو پانی عوام کو پلایا جارہا ہے وہ انتہائی مضر صحت اور گندا پانی ہے ،پینے کیلئے تو دور کی بات ہے ، اگر اس پانی سے غسل کرلیا جائے تو الرجی کی مرض لگنے میں کچھ گھنٹے ہی لگیں گے ،23کروڑ کی خطیر رقم سیاسی مگرمچھوں اور ٹھکیداروں کی ملی بھگت اور محکمے کی غفلت یا حصہ لیکر خامو ش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ،جو پانی ٹینکیوں کے ذریعے عوام کو مہیاکیا جاتا ہے وہ ٹینکیاں انتہائی زنگ آلو د بو سیدہ ہو چکی ہیں ، جن سے عوام گردے ،دل،اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ،اس شہر کے عوام کی بد قسمتی ہے کہ جو بھی ایم این اے یا ایم پی اے آیا اس نے اس عوام سے اپنا انتقام ضرو ر لیا اور شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے کچھ نہ کیا ،ٹر یفک مسائل ہیں ، سارا دن چند تاجر حضرات نے بڑ ی بڑی گاڑیاں روڈز کے درمیان میں کھڑی کرکے سامان لو ڈ ان لوڈ کرتے ہیں ،ٹریفک پولیس اگر جرمانہ کرے تو ان کو موجودہ حکو مت کی طر ف سے ڈرایا دھمکا یا جاتا ہے اور ان کو تبا دلوں کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں ، جسکی وجہ سے ٹریفک پولیس کہوٹہ اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے وقت گزارتے ہیں ، وہ ایک مثال ہے کہ: کچھ دانے گیلے کچھ جندر ٹیلے:، شہر کے اند ر بڑی گاڑیاں سارا دن سامان لو ڈ نگ کیلئے کھڑی رہتی ہیں ، روڈز بلاک ہوتی ہیں ، اسی طرح آج تک اس تحصیل کے طلباء و طالبات کے لیئے کو ئی یو نیو رسٹی یا کالجز نہ ہیں ، جسکی وجہ سے غریب طلباء و طالبات آگے تعلیم حاصل نہیں کرسکتے اور تعلیمی سفر طے نہیں کر سکتے ، اور راستے ہی میں دم تو ڑ دیتے ہیں ، اس عوام کی بد قسمتی ہے کہ یہاں کے منتخب نمائندے ایم پی اے اور ایم این اے وزیر اعظم کے عہدے پر بھی فائز رہے مگر کا ر کردگی صفر رہی ،آج کہوٹہ شہر کی آبادی ایک لاکھ سے اوپر چلی گئی ہے اور آزاد کشمیر کا ساٹھ فیصد حصہ اس علاقے سے منسلک ہے مگر تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتا ل کی یہ حالت ہے کہ کسی قسم کی سہولت میسر نہ ہے ، صرف مریض کو خالی پر چی تھما دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس مریض کو راولپنڈی لے جائیں،ہسپتال کے اند ر چند ٹائو ٹ مافیا کا راج ہے ، چند سیاسی اور چند صحافی حضرات ٹائو ٹ ہیں ، ان کی خامیا ں اگر شائع کی جائیں تو دوسرے دن وہ ٹائو ٹ صفائی بیان کرنے کیلئے چند ٹائوٹ مافیا کو لاکر ان کے اوپر سے بادل اڑا دیتے ہیں اور جھوٹے بیانات دیتے ہیں ، یہ بات ایک لمہ فکریہ ہے ،اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو زخمی مریض ٹھنڈے فرش پر تڑپتے رہتے ہیں بلآخر جب وہ اپنے آخری سانس لے رہا ہوتا ہے تو اسکو راولپنڈی لے جانے کی پرچی تھما دی جاتی ہے ، اس ہسپتال کے اند ر عوام کو کسی قسم کی کوئی سہو لت نہ ہے اور پرائیو یٹ کلینک مالکان عوام کو کھنڈی چھری سے زبحہ کرتے ہیں ، غریب عوام کو بھر پو ر طریقے سے لوٹتے ہیں ، اس شہر میں اور بھی طر ح طرح کے مسائل ہیں ، جو مقامی انتظامیہ کے نوٹس میں ہیں ، مگر کوئی اس پرایکشن نہیں لیتا ، محکمہ مال جو کہ سونے کی چڑ یا بن چکی ہے ، تحصیل آفس کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ،پٹوار خانے پرا پر ٹی دفتروں میں تبدیل ہو چکے ہیں ، اربوں روپوں کی سرکاری اراضی پر محکمہ مال کے آفیسران کی ملی بھگت سے سیاسی قبضہ مافیا نے ہڑ پ کرلی ہیں ، تالابوں پر مکمل طو ر پر قبضہ مافیا نے بڑی بڑی بلڈنگز بنا کر فروخت کردی ہیں ،اگر کوئی صحافی یا عام شہر ی شکایات کرتا ہے یا خبر لگاتا ہے تو ٹائو ٹ مافیا اور سرکاری ادارے ملیکر اس کے خلاف کاروائی اور انتظا م کیلئے سو چتے ہیں،اس لیئے شکایت کرنا جرم ہے ، عوام اس قدر پریشان ہیں کہ دو ٹائم کی روٹی تک سے محروم ہیں ، تحصیل کہوٹہ میں کوئی بھی آفیسر ٹائم پر دفاتر میں نہیں آتا ، مہینے میں غلطی سے ایک دو مرتبہ آجاتے ہیں بعض سرکاری ملازم سائیڈ بزنس کرتے ہیں ، بااثر علاقوں کے تما م جائز نا جائز کام ہو جاتے ہیں ،مگر عام آدمی سارا دن ذلیل و خوار ہوتا رہتا ہے ،میو نسپل کمیٹی کہوٹہ میں عا م آدمی تمام ٹیکس دیتے ہیں مگر وہ لو گ تما م تر سہولیا ت سے محروم ہیں ، جبکہ زو ر آور سیا سی بااثر علاقوں کے لو گ نہ ہی ٹیکس دیتے ہیں اور کام جلد ازجلد کروالیتے ہیں ، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب مظلو م تحصیل کہوٹہ کے عوام پر رحم کریں اور اس عوام کے مسائل حل کرنے کے احکامات صادر فرمائیں ، آپ کی بڑی نوازش ہوگی !۔