Malik Mahmood 13

کون سنے فر یاد؟؟ تحریر، ملک محمو د اختر

کون سنے فر یاد؟؟

تحریر، ملک محمو د اختر

راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کی مظلو م عوام مسائل کی دلدل میں، عوام دل، گردے، گلے کے مرض میں مبتلا،صفائی کا براحال، گندا پانی عوام کو پلایا جاتا ہے،سیا سی بااثر قبضہ مافیا کا راج، متروکہ و غیر مترو کہ اراضی پر شہر کے چند غنڈوں کا قبضہ، محکمہ اوقا ف کی ملی بھگت تالابوں، غیر مسلم کی عبادت گاہوں کو اس طرح ہڑ پ کیا گیا جیسا کہ مگھر مچھ چھو ٹی مچھلیوں کو ہڑ پ کرتے ہیں، شہر کھنڈرات میں تبدیل، سڑکیں تباہ، کہوٹہ شہر دریا کا منظر پیش کرنے لگا، نالہ گریڈ اسٹیشن پر لیٹنر ل ڈال کر بلڈ نگ تعمیر کرلی گئی، اس تحصیل اور حلقے کے ایم این اے اور ایم پی اے حضرات خواہ وہ پیپلز پا رٹی کا ہو، خوا ہ وہ تحریک انصا ف کا ہو خواہ وہ ن لیگ کا ہو،کسی نے مخلص ہو کر کام نہ کیا بلکہ اس حلقے کے ایم این اے شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم پا کستان کے عہدے پر فائز رہے، مگر انہوں نے اس مظلوم اور وفادار عوام کو پینے کا صاف پانی تک نہ دیا،نہ ہی کوئی یونیو رسٹی نہ ہی سر کاری ہسپتال کو اپ گریڈ کیا گیا، اس تحصیل میں وزیر اعلی پنجا ب سردار عثمان بزدار، وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، وفاقی وزیر پیٹرولیم خان سرور خان،وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر اعظم میاں محمد نوا ز شر یف، سابق صد ر آصف علی زرداری جیسی بڑی شخصیات بھی آچکی ہیں مگر کارکردگی بلکل صفر ہے،آج 60فیصد عوام ہیپا ٹائٹس، گردے، دل اور گلے کے مرض میں مبتلا ہیں، بو سیدہ پائپ لائنوں کے ذریعے پانی سپلائی ہوتا ہے، 62لا کھ کی لا گت سے تعمیر ہونے والا سٹیڈ یم کوڑا کرکٹ کی نذ ر ہو گیا،اور24کروڑ کی لاگت سے واٹر سپلائی سکیم کرپشن کی نذر ہو گئی، اس حلقے کے عوام آج تک اپنے بنیادی حقو ق حاصل کرنے سے محروم ہیں، حیرت کی بات ہے کہ اس تحصیل میں کسی بھی محکمے کا کوئی سر براہ یا ملازم یہاں آیا تو وہ واپس اپنے علاقے میں گیا ہر گز نہیں، میر ے خیال کے مطابق اس علاقے کی دھر تی اتنی زرخیز ہے کہ کسی کوجانے کا دل ہی نہیں کرتا، اور اس بات پر بھی حیرت ہے کہ اس تحصیل کے متعدد محکموں کے سر براہان کے سا تھ کہوٹہ کی چند برادریوں کے چند ٹاؤ ٹ ٹو لے مل جاتے ہیں اور جائز نہ جائز کام کر واتے ہیں، اور جو بھی مظلوم شخص اپنے حقو ق کی آواز بلند کرتا ہے تو اس کی زبانیں بند کرنے کیلئے اس کے خلاف انتقامی کاروائیاں کراتے ہیں، پو لیس آفیسروں کے ساتھ ٹاؤ ٹ مافیا دو ستی لگا کر مظلوم مخالف طبقہ پر جھوٹے مقدمات درج کراتے ہیں، آج بھی ٹاؤ ٹ مافیا کے ڈسے لو گ جیلوں میں بند ہیں، یتیم،بیواؤں کی زمین بااثر قبضہ مافیا کے محکمہ مال کی ملی بھگت سے کا غذات میں جعلسا زیاں کرکے ہڑ پ کر گئے،آج 70فیصد عوام عدالتوں کی نذ ر ہو گئے اور کچھ دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے،مگر انکو اپنی زمین نہ مل سکی،ہسپتالوں میں صرف پر چی ملتی ادویات نہیں، اعتراض پر مقد مات درج کر وا ئے جاتے ہیں، ٹاؤ ٹ مافیا خواہ وہ سیا سی ہو خواہ صحافی ہوں خواہ وہ سماجی لباس پہن کر عوام کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں وہ دیوار بن کر مظلو م عوام کو بلیک میل کرکے بے عزت کرتے ہیں، تھانے میں عام آدمی کی کوئی سنائی نہ ہے، عرصہ دراز سے تعینات سب انسپکٹر، اے ایس آئی، کا نسٹیبل حضرات کے جرائم پیشہ افراد سے گہرے رابطے ہیں مقد مات میر ٹ پر درج نہیں ہوتے، گیس محکمہ بغیر رشوت کے گیس میٹر نہیں لگاتے، محکمہ زراعت، محکمہ ویٹر نری، محکمہ تحفظ اراضیات،محکمہ ہائی وے کے دفاتر صرف بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتے ہیں،صرف ایک یا دو نائب قاصد گر م دھو پ کے صر ف مزے لیتے ہیں،دفاتر مکمل خالی ہوتے ہیں،تحصیلدار کہوٹہ کا عملہ خواہ پٹواری ہے خواہ گرداور ہو یا اہلکا ر بغیر رشو ت کے کام کرنا گنا ہ کبیرہ سمجھتے ہیں، کہوٹہ تحصیل میں اس طرح لو ٹ مار ہے جس طر ح 1947میں لو ٹ مار ہو ئی تھی،لٹ اؤ لٹ مچی ہو ئی ہے،ٹاؤ ٹ مافیا کا راج ہے، سر کاری اراضی اربو ں رپوں کی کرپشن کی نذ ر ہوگئی ہے، عوامی حلقوں نے ارباب اختیا ر سے فو ری نو ٹس لینے کامطا لبہ کیا ہے اور کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور عرصہ دراز سے متعدد محکموں کے سر براہاں اور ملازمین کے تبادلے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔